کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے مل گئی، واقعے کے خلاف سندھ اسمبلی اور سٹی کونسل میں اپوزيشن نے احتجاج کیا۔
کراچی سٹی کونسل میں احتجاج کے دوران میئرکراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر طحہ احمد نے کہا کہ یہ واقعات مسلسل ہورہے ہیں، کوئی روک تھام نہیں ہورہی، اگر مشینری والدین کو منگوانی پڑ رہی ہے تو وہاں کے نمائندے کیا کر رہے ہیں؟
شرجیل میمن نے جواب میں کہا کہ واقعے کے پندرہ منٹ سےآدھے گھنٹے میں ریسکیو کا کام شروع کر دیا گیا تھا، یہ واقعہ مجرمانہ غفلت ہے، افسران کو اپنے دفاتر سے نکل کر چیک کرنا چاہیے کہ کہاں کیا کمی ہے، واقعے کے ذمہ داروں کا تعین ضرور ہوگا۔
دوسری جانب امیر جماعت سلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کا نظام بھیڑیوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ اس واقعےکا بڑا المیہ یہ ہے کہ میئر کراچی کے اے سی ڈی سی نے ٹاؤن چئیرمین کے فون کا جواب تک نہیں دیا، متعلقہ اداروں نے مشینری بھی بروقت فراہم نہیں کی۔