اس وقت پاکستان میں غریب اور لوئر مڈل کلاس آبادی کیلئے رہائشگاہوں کی شدید قلت ہے۔ یہ قلت ہماری کئی دہائیوں سے جاری ناقص پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ نتیجتاً اس وقت تقریباً سوا کروڑ گھروں کی فوری ضرورت ہے۔ نیز تقریباً 10لاکھ رہائشی یونٹ سالانہ اضافی ضروریات کیلئے درکار ہونگے۔ اس بحران پر مستقبل میں قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہمارے اکثر منصوبہ ساز، فیصلہ ساز، موجودہ / نئی نسلوں کا نعرہ لگانے والے اپنی خواب گاہوں میں محو استراحت ہیں۔ جب صبح بیدار ہونگے تو محض تجارتی ترقی اور کمرشل تعمیرات بارے اجلاسوں میں مصروف ہو جائینگے۔ ساری دنیا میں عوامی بھلائی اور نجی تجارتی منصوبے متوازی چل رہے ہوتے ہیں، ہمارے ہاں عوامی فلاحی منصوبے شروع ہوں تو انہیں نجی کاروباری ٹرک کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ مثلاً سرکاری رہائشی اسکیموں کی تکمیل و آبادکاری کا ملحقہ پرائیویٹ سوسائٹیوں کی کامیابی تک التواء، پرائیویٹ تعلیمی اداروں / ہسپتالوں کے مقابل سرکاری اسکولوں / ہیلتھ سنٹرز کی زبوں حالی اسی عوام دشمن طرزِ عمل کی مثالیں ہیں۔ تاریخی طور پر عوامی رہائشی تعمیرات سے اغماض قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، حالانکہ لاکھوں بے خانماں مہاجرین کیلئے تب گھروں کی زیادہ ضرورت تھی، لیکن افسوس پرانی نسل کے بیشتر بزرجمہر غیرمنقولہ جائیدادوں کی لوٹ مار میں مصروف ہو گئے اور انہیں غریب عوام کی فکر ہی نہ رہی۔ اس مجرمانہ غفلت کا سلسلہ 1970ء کے الیکشن تک جاری رہا۔ اس الیکشن میں ایک سیاسی پارٹی کے ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘کے نعرۂ جانفزاء سے محروم عوام کو حوصلہ ملا۔تاہم افسوس اس نعرے پر پارٹی کو الیکشن میں پذیرائی تو ملی، لیکن دورانِ اقتدار اس نعرہ کی عمل پذیری نہ ہو سکی، ماسوائے’’ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن‘‘ کی تخلیق کے کوئی ٹھوس کام نہ ہو سکا۔ بعد میں آنیوالے سیاسی ادوار میں بھی ’’اپنی بستی‘‘، ’’میرا گھر‘‘ اور ’’نیا پاکستان‘‘ کے نام سے سرکاری سطح پر عوامی رہائشی اسکیموں کا اجراء کیا گیا، لیکن افسوس ناکام پروفیشنل پلاننگ، ناقص مالی بندوبست، دفتری رویوں اور سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ سارے پروگرام ادھورے رہ گئے۔
حال ہی میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے بھی کم آمدنی خاندانوں کیلئے رہائشی اسکیموں کا اجراء کیا ہے۔ اللّٰہ کرے ان پائلٹ پراجیکٹس کی کامیابیاں بعدازاں جامع رہائشی اسکیموں کی تعمیر کا پیش خیمہ بن جائیں۔ اس مقصد کیلئے بالخصوص سرکاری اداروں کو Innovative پلاننگ اور جنگی جذبے سے کام کرنا پڑیگا۔ اس سرکاری منصوبہ کی کامیابی کیلئے عوام الناس جہاں پُرامید ہیں، وہ موہوم خدشات کا بھی شکار ہیں اور یہ خدشات بے بنیاد نہیں، کیوں کہ ماضی میں وہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ کس طرح سرکاری سطح پر متعارف کروائی گئی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو طویل تاخیروں کے سپرد کیا جاتا رہا ہے۔ پراپرٹی ڈیلروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر التواء (Shunting line) میں لگا کر نووارد پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوں کو ایکسپریس ٹرین بنا دیا جاتا ہے۔ پنجاب کے ہزاروں ضعیف العمر ریٹائرڈ سرکاری ملازم ’’پی جی ای ایچ ایف‘‘ کے سرکاری حکام کا تساہل ملاحظہ کر رہے ہیں۔ اربوں روپے فنڈز کی دستیابی کے باوجود انہیں انکے رہائشی حق سے محروم کیا جا رہا ہے اور وہ آنکھوں میں طویل انتظار لئے کرائے کے گھروں سے اپنے گھروندوں کی بجائے جنت مکانی ہو رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی طرف سے بے گھروں کیلئے نئی اسکیموں کی کامیابی کوئی کارِدارد نہیں، مشکل کام نہیں۔ سرکاری اداروں کو مستقل سیاسی پشت پناہی میسر ہو تو مشکل سے مشکل فریضہ مکمل کر لیتے ہیں جیسے حالیہ برسوں میں لاہور کے ادارے ایل ڈی اے نے نہایت مختصر مدت میں ڈی ایچ اے لاہور کیلئے متعدد انڈرپاسز اور انفراسٹرکچر کی تکمیل کی۔ جس کیلئے ڈی ایچ اے سپاس گزار ہے۔ اسی طرح پنجاب حکومت اور ایل ڈی اے (کہ جن کی قیادت اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس ہے) کی زیرنگرانی لاہور کیلئےکایاپلٹ عظیم الشان ’’پائن ایونیو‘‘ منصوبہ کی تیزترین تعمیرات جاری ہیں۔ 200-150 فٹ چوڑی اور تقریباً 30کلومیٹر طویل یہ کمرشل حب / شاہراہ متعدد نوزائدہ سوسائٹیوں اور ایل ڈی اے سٹی کو فیضیاب کرتا ہوا فیروز پور روڈ تک جائے گی۔ زور و شور سے جاری اس عظیم کمرشل کوریڈور کی امسال تکمیل ہو گی تو ان سرکاری اقدامات سے تقریباً بارہ کھرب (بارہ سو ارب) روپے مالیت کا سول اسٹرکچر اور کمرشل ایونیو منصہ مشہود پر آ جائیگا۔ پنجاب سرکار، پرائیویٹ سوسائٹیوں اور ایل ڈی اے کی یہ مشترکہ منفعت ملکی معیشت کا بھی بھلا کرے گی۔ متذکرہ بالا منصوبہ جات کی طرح سرکاری اور نجی اشتراک رہائشی سہولتوں کی تعمیر کیلئے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے دیرپا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں زمین کی قیمت راکٹ کی طرح بلند پرواز ہے۔ اس شدید رکاوٹ کو ختم کرنے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ پرائیویٹ مالکان سے زمینیں حاصل کر کے اس میں انفراسٹرکچر تعمیر کرے اور عوام کو پلاٹ عطیہ کر دے۔ بعدازاں بینکوں وغیرہ کی مالی اعانت اور تکنیکی رہنمائی سے رہائشوں کی تعمیر کروائے۔ ان گوناگوں ذمہ داریوں کی انجام دہی کیلئے اور تیزترین تعمیرات کی نگرانی کیلئے ایک مخصوص کنٹرول (Regulatory Authority) کی ضرورت ہو گی جو نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ پرائیویٹ تعمیر کنندگان سےـPPP طریق کار کیلئے اشراک کرے۔ وَن ونڈو اس وقت کئی ترقیاتی اداروں میں بطور فیشن مروج ہے جو اپنے انفرادی صارفین کو سہولیات مہیا کرتا ہے۔ اجتماعی تعمیرات ازقسم انفراسٹرکچر کی تعمیر، نجی پرائیویٹ سوسائٹیوں کے سستے یونٹس کی منظوری کیلئے زمینوں کی خریداری اور رہائشی گھروں کی حوالگی کیلئے بھی وَن وِنڈو کا اجراء ہونا چاہئے تاکہ سرکاری اداروں کی طویل منظوری کے عمل کا خاتمہ ہو اور درخواست گزار اور الاٹی اپنی زندگیوں میں ہی ان گھروں میں منتقل ہو سکیں، انتقالِ پُرملال سے پہلے۔