• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال گزرنے سے صرف کیلنڈر تبدیل نہیں ہوتا بلکہ ہر گزرتا سال اپنے اندرتصوّرات و خیالات و احساسات کا ایک پورا منظرنامہ رکھتا ہے، ایسا منظر نامہ، جس میں تعلقات، کام یابیاں، ناکامیاں اور ذاتی نشوونما تک شامل ہوتی ہے۔ 

جیسا کہ ہر نیا سال کچھ نئی امیدوں، نئے مقاصد اور نئے عزائم کے ساتھ آتا ہے، تو 2025ء میں’’اُردو ادب‘‘ کا جہاں بھی کچھ نئے لمحات، تجربات اور سوالات کا امین بن کر آیا، جہاں خاموشیوں کے بھی معنی تھے، الفاظ بھی گفتگو کرتے نظر آئے۔ تب ہی سال کے اختتام پر ادبی سفر کا مختصر جائزہ، محض روایت نہیں، ایک فکری ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

سالِ گزشتہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ رخصت ہوگیا۔اور پچھلے کئی برسوں کی طرح 2025ء میں بھی ادبی دنیا کی مختلف اصناف، یعنی شاعری، افسانہ نگاری، ناولز، تنقید نگاری، نظریات اور نثر کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے گئے۔ پورے ادبی منظرنامے پر ایک سرسری نظر دوڑانے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں اُردو ادب نے متحرک اور متنوع سفر جاری رکھا۔ 

شاعری، افسانہ و ناول، تنقیدو تحقیق اور تراجم کے میدان میں مختلف تخلیقی رجحانات پروان چڑھے۔ ادبی نشستیں، کانفرنسز، سیمینارز، فیسٹیولز، ادبی میلے، مشاعرے اور مباحثے اس بات کی علامت ثابت ہوئے کہ سالِ رفتہ بھی ادب نے توانا مکالمہ جاری ر کھا۔ ذیل میں ادبی سرگرمیوں سے متعلق ایک طائرانہ جائزہ پیشِ خدمت ہے۔

ادبی تقاریب: بلاشبہ، ادبی تقاریب، ادب کی روایت کے تسلسل کو مضبوط بناتی اور ادب پر گفتگو، تخلیقات کی سماعت اور فکری تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس حوالے سے سال ہائے گزشتہ کی طرح سالِ رفتہ بھی آرٹس کاؤنسل آف پاکستان، کراچی کی ’’اٹھارہویں چار روزہ اُردو کانفرنس‘‘ سب سے بڑی اور اہم تقریب تھی، جس میں حسبِ روایت اکنافِ عالم سے ممتاز مندوبین نے شرکت کی۔ 

سال بھر ہونے والی دیگر اہم تقریبات میں نوجوان اہلِ قلم پہلا بین الصوبائی پروگرام (اکادمی ادبیات)، پاکستان لٹریچر فیسٹیول، سکھر، کراچی لٹریچر فیسٹیول، اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول، نواں فیض فیسٹیول، ادب کراچی و اسلام آباد فیسٹیول، چھٹا ملتان لٹریری فیسٹیول، نصیر آباد ادبی میلہ، فیض ادبی میلہ، دوستی پشاور ادبی میلہ، میر تقی میر کانفرنس لاہور، نیشنل بُک فائونڈیشن الحمد اسلامک یونی ورسٹی قومی سیمینار، اقبال انٹر نیشنل کانفرنس الحمد اسلامک یونی ورسٹی، ادبی نشستیں، اکادمی ادبیات ادبی نشستیں، نیشنل بُک فائونڈیشن قومی کتاب میلہ، انٹر نیشنل بُک فیئر کراچی، ساکنانِ شہرِ قائد مشاعرہ، اعترافِ کمال، سلیم کوثر، کتابوں کی تقریباتِ رُونمائی، حلقہ اربابِ ذوق تنقیدی نشستیں، دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس، ویمن یونی ورسٹی ملتان اور ادبی کتاب میلہ، اوکاڑہ یونی ورسٹی قابلِ ذکر رہیں۔

حمد ونعت، منَقبت و سلام:یہ اصناف اُردو ادب میں نہ صرف متبرک و باوقار حیثیت رکھتی ہیں، بلکہ قلبی جذبات کی بھی ترجمان ہیں۔ ہر سال کی طرح سال 2025ء میں بھی حمدو نعت، سلام و منقبت کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں محبّت و عقیدت اور فنی لطافت کا امتزاج نمایاں رہا۔ اُن میں طہور (احسان اکبر) اقرا (نسیم شیخ) اوصاف (خالد علیم) آب جُوئے نور (شمسہ نورین) اور سرمایۂ ثناء (افتخارالحق ارقم) شامل تھیں۔

شعری مجموعے: شعری مجموعے نہ صرف فرد کی داخلی دنیا کے ترجمان ہوتے ہیں، بلکہ اجتماعی شعور اور تہذیبی پس منظر کی بھی عکّاسی کرتے ہیں۔ سالِ گزشتہ بڑی تعداد میں کلیات، شعری مجموعے اور شعری انتخاب منظرِ عام پر آئے، جن میں غزلیات، نظموں اور نثری نظموں کے مجموعے وغیرہ شامل تھے، جب کہ بعض شعری مجموعوں اور کلیات کے نئے ایڈیشن بھی شائع ہوئے۔ تمام کتب کا ذکر تو ممکن نہیں۔ تاہم، چند کے نام پیشِ خدمت ہیں۔ 

کُلیات ن۔م راشد، تراشیدم (زہرا نگاہ)، کلام (راحت اندوری)، بسر کیا ہوا لمحہ اور پنچھیوں کی دُعا ہے جنگل (صابر ظفر)، آگے ہمارا خوابیہ ہے، (جلیل عالی)، تیسرے قدم کا خمیازہ (نصیر احمد ناصر)، عشق آباد (عباس تابش)، رَد و قبول کے مابین (محسن اسرار)، اعزاز، اور خاک زار (قمر رضا شہزاد)، آٹھواں رنگ لفظوں کا (علی محمد قریشی)، آسماں کے روزن سے (ضیاء الحسن، ترتیب و انتخاب: مشتاق احمد)، آرپار (حمیدہ شاہین)، شہر کے دوسرے کنارے سے (احمد حسین مجاہد) ارتکاز (تسنیم عابدی)، دنیا گزار دی گئی (ریحانہ روحی)، ستارہ رقص میں ہے (مونا شہاب)، خواب گاہ (سعود عثمانی)، اِک ستارا ہے ہم سفر میرا (اقبال خاور) وہیں ملوں گا تجھے (افضل خان)، دیپ جلائے رکھنا (تبسّم ملیح آبادی)، کہانی ایک شہر کی (جواز جعفری)، گُل دگانہ (سیّد کاشف رضا)، اِک عُمر کی مہلت (افضل خان)، تصویر میں چلتا آدمی (انعام ندیم)، یاد کی دُہرائی (فرح رضوی)، تجاذب (شاہد ماکلی) اِک چراغ فکر کا (کاظم واسطی)، یاد آباد (رحمان فارس)، ٹوٹ پھوٹ کی نظمیں (سلطان ناصر)، ثریا (دلاور علی آذر)، برف کی دستار (صادق مری)، ازسرِنو (اشفاق ناصر)، لفظ میں کھڑکیاں بناتا ہوں (سرفراز زاہد)، شامِ ابد کے گیت (عدنان بشیر)، خواب لکھتے رہے ، اور خیال ہی نہیں رہا (وجیہ ثانی)، تخیّل (قاسم یعقوب)، ہاں تم ہی رہو (غزل جعفری)، سرمئی نظمیں (فاخرہ نورین)، درِ خیال پہ دستک (انجینئر ظفر محی الدین)، حیرانی (عثمان ناظر)، شامِ ابد کے گیت (عدنان بشیر)، ساتواں دن (عماد اظہر)، خاک وَر (امبر روحانی)، گُم (راشدامام)، خامشی سلگتی ہے (عرفان صادق)، ردھم (نعیم سمیر)، ابریشم (سلمان باسط)، گرتے پنّوں کی سرگوشی (حفیظ تبسّم، ہائیکو)، محبّت کے بہتر چراغ (فرزند علی ہاشمی)، تشبیہہ (عدنان منوّر)، سحریاب (شائستہ سحر)، خواب زار کے پار (تابش کمال)، قافیہ (گل جہان)، خواب خواب منظر (شجاعت سحر جمالی)، تتلی کے پَر (نازیہ غوث)، چاندنی اُترتی تھی (ناصر مجید)، ہم شجر (حارث بلال)، ہاں کوئی ہے (کامران مغل)، پس انداز (اسد فاطمی)، ایک نام حقیقت (سدرہ کریم) اور صدائے خشتر (سیمی خشتر)۔

فِکشن: انسانی زندگی، نفسیات اور سماجی رشتوں کی گہری عکاسی، فِکشن ہی کرتا ہے۔ سالِ رفتہ فکشن نگاری کے شعبے میں بھی اہم اشاعتیں سامنے آئیں، بعض کلیات بھی شائع ہوئے اور بعض کے نئے ایڈیشن منظرِعام پر آئے۔ ان میں جانگلوس (شوکت صدیقی، ناول)، کلیات احمد ہمیش، دوسری جلد، (ترتیب و تدوین، حفیظ تبسّم)، جنگ میں محبّت کی تصویر نہیں بنتی (محمد حمید شاہد، ناول)، زندگی نے مُڑکر شیطان کے قاتل کو دیکھا اور مسکرائی (مظہر الاسلام۔ناول)، بھید بھرے (اخلاق احمد، افسانے، ناولٹ)، فسانہ بدوش (اخلاق احمد۔ انتخاب: عرفان جاوید)، زمیں رنگ (طاہرہ اقبال، افسانے)، مجموعہ (ناصر عباس نیّر، افسانوی کلیات)، خدا کے ہوتے ہوئے (عشرت معین سیما، افسانے)، ناگہانی تا نگانی (طاہرہ کاظمی، ناولٹ اور کہانیاں)، غیر مطبوعہ جیون (شاہدہ دلاور شاہ، ناول)، بندوبست (زیب اذکار، ناول)، تیز بارش میں ہونے والا واقعہ اور دیگر کہانیاں (محمد عاصم بٹ کے افسانوں کا مجموعہ، انتخاب و مقدمہ: عرفان جاوید)، ابنِ آس کے مشہور ڈرامے (ابنِ آس)، ع سے مرد (عامر انور، افسانے)، جاذو بھیا (ثمینہ نذیر، کہانیاں)، ردّی (عفت نوید، افسانے)، چھنال (اقبال خورشید، افسانے)، سنکھنی (سلمیٰ کشم، ناول)، سوچ دالان (سعید اختر ملک، افسانے)، ساتویں تحریر (سیّد شبیر احمد، کہانیاں) شامل تھے۔

تنقید و تحقیق: کسی بھی ادبی روایت کی بقا اور ارتقا کے لیے تنقید و تحقیق ناگزیر ہیں، تنقید اور تحقیق، ادب کو محض تخلیق کی سطح سے بلند کرکے شعورو آگہی اور فہم کے دائرے میں داخل کردیتے ہیں۔ سالِ رفتہ تنقید و تحقیق کی بھی کئی کتابیں شائع ہوئیں، جو اُردو ادب کی مسلسل تخلیقی توانائی کی واضح علامت ہیں۔ 2025ء میں شائع ہونے والی اہم تنقیدی و تحقیقی کتب کے نام ملاحظہ فرمائیے۔

مجموعہ تنقید، فراق گورکھ پوری (ترتیب و تہذیب، شکیل حسین سید)، اُردو ادب کا عرفان اور فکر و نظر کا عنوان، ڈاکٹر اسلم انصاری (ڈاکٹر مختار احمد ظفر چوہدری)، افسانہ، کل اور آج، پاکستانی تناظر (اکرم کنجاہی)، یعنی اس کا مطلب کیا (ن۔م دانش)، مارکسی تنقید، مغربی تناظر (شکیل حسین سیّد)، میلانات (شاہد اشرف)، اُردو آزاد نظم کے قدرتی اور ماحولیاتی تناظرات (ڈاکٹر محمد اکرام قریشی)، ماہِ نیم ماہِ غالب، شخصیت اور شعریات (قاسم یعقوب)، مطالعے اور تجزیے (جاوید اختر بھٹی)، متن، قرأت اور نتائج (ڈاکٹر خالد فیاض)، الگ وژن، جدا تاریخ اور دیگر مضامین (ڈاکٹر خالد فیاض)، اُردو افسانہ، نظری و متنی تجزیات (خالد فیاض، مرتبہ: ڈاکٹر سمیرا لیاقت)، منٹو سیمینار:مطالعے اور مباحث (ایم خالد فیاض)، اقبال کا تصوّر ِجہاں بینی (شاعر علی شاعر)، سخن:غلام محمد قاصر کے سو اشعار (شاعر علی شاعر)، پاکستانی غزل اکیسویں صدی میں (لبنیٰ صفدر)۔

تراجم: تہذیبوں، زبانوں اور افکار کے میدان میں تراجم گویاپُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ایک قوم کے لیے عملی و ادبی تجربے کو دوسری زبان میں منتقل کرکے علم و آگہی کا نیا زاویہ لاتے ہیں اور یہ عمل نہ صرف ادبی دائرے کو وسیع کرتا ہے، بلکہ قاری کو عالمی ادب کے مختلف رنگوں اور رجحانات سے بھی روشناس کرواتا ہے۔ گزشتہ برس بہت سے تراجم شائع ہوئے۔ 

چند نمایاں تراجم کے نام پیشِ خدمت ہیں۔ مرزا عبدالقادر بیدل رنگ اسرار دگر (انتخاب و ترجمہ: افضال احمد سیّد)، مگر ہم ہیں، افسانے (کینیڈا کے حقیقی باشندوں کے لاجواب افسانے، مترجم: نسیم سیّد)، ساری کہانیاں، گیبرئیل گارشیا مارکیز (انعام ندیم)، ایک تیس سال کی عورت (مصنّف بالزاک کے مکسن، مترجّم: انعام ندیم)، غزہ سے ایک خط اور دوسری کہانیاں (غسان کنفانی، انتخاب و ترجمہ: انعام ندیم)، گولڈ فنگر (مصنّف آئن فلمنگ، مترجّم:محمود احمد مودی)، اب اچھوت بولے گا (خلیل کنبھار، سندھی کالموں کا ترجمہ)، وہی نام سارے (مصنّف، جوزے سارا ماگو، ترجمہ:خالد فتح محمد)، ہائو ٹو اسٹاپ اوور تھنکنگ (مصنّف: چیس ہل، مترجّم: ابنِ آس)، ویراں نظر (مصنّف جوزے لونیش پشیوتو، مترجم: محمد عاطف، علیم)، تمنّائوں کے دیار سے (شمالی امریکا کی شاعرات کی شاعری کا ترجمہ، مترجم:زینت حسّام)۔

دیگر کتب: آپ بیتیاں، سفرنامے انسان کے باطن اور بیرونی دنیا کی مشترکہ سرگزشت کا بیان ٹھہرتے ہیں، جہاں ذاتی تجربہ اجتماعی شعور سے جڑ کر تاریخ اور تہذیب کا زندہ حوالہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح انٹرویوز، مکالمے، اداریے اور کالمز اپنے عہد کی فکری، ادبی و سماجی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں، جب کہ مذہبی اور قومی موضوعات، تہذیبی شعور اور جذباتی وابستگی کا آئینہ ہوتے ہیں۔ 

ان متنوّع اصناف اور موضوعات پر پچھلے سال شائع ہونے والی اہم کتابوں کے نام یہ ہیں۔ دخترِ ملّت، بے نظیر شہید:فکر و عمل (فتح محمد ملک)، بکھری ہے میری داستاں (محمدا ظہارالحق، خودنوشت)، بگولہ رقص میں رہتا ہے (نیلم احمد بشیر، سفرنامے)، میں پھر آؤں گا (شاہ محمد مری، اداریے)، سوز خوانی کا فن (عقیل عباس جعفری)، آسماں در آسماں (شاہد صدیقی، برصغیر کے اُن فن کاروں کی کہانیاں، جنہیں تقسیم سرحد پار لے گئی)، بنجارا (سعود عثمانی، سفرنامے) زبان اور تہذیب، جنوب ایشیائی اور مغربی تناظر (صفدر رشید، مکالمات/ انٹرویوز) جنگ کہانی (خالد معین، انٹرویوز اور احوال) ہیروشیما کے آنسو (بینا گوئندی، سفرنامہ) لاہوری چہرے (ممتاز ارشد لاہوری) مسافر (محمد امین الدین۔ آپ بیتی) تخلیق کار (عامر بن علی، انٹرویوز)، کیا ہم زندہ ہیں (علیزے نجف، خود آگاہی پر کتاب)، مارگلہ:جنگل کہانی (آصف محمود، کالمز) جو اکثر یاد آتے ہیں (احمد حاطب صدیقی، شخصیات) بُرے آدمی کے خطوط (گورش) میرے حصّے کا کراچی (ذوالفقار علی ہالیپوٹو)۔

رسائل و جرائد: ادبی جرائد نہ صرف نئے رجحانات، ناموں اور موضوعات کو متعارف کرواتے ہیں، بلکہ سنجیدہ مکالمے اور علمی تحقیق کے لیے معتبر پلیٹ فارم بھی مہیّا کرتے ہیں۔ 2025ء میں بھی ادبی جرائد نے سال بھر تخلیقی و تنقیدی تحریروں کی اشاعت سے ادب کے مختلف رجحانات سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

بعض جرائد نے خصوصی شمارے بھی شائع کیے، جب کہ علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ششماہی تحقیقی مجلّے ’’تعمیرِ نو‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس کے مُدیر، ارشد محمود ناشاد اور نائب مدیر، قاسم یعقوب ہیں۔ دیگر جرائد میں قومی زبان (امیر خسرو نمبر) تظہیر (جیمس جوائس نمبر) سائبان، مکالمہ، ادبِ لطیف، تناظر، سنگت، فروغ، تخلیق، سویرا، لوحِ ادب، تفہیم، تحقیق نامہ، مکالمہ میگزین، امتزاج، صحیفہ، بنیاد، آج، نقاط، ادبیات، الحمرا، بازیافت، چہارسُو، مرغ زار، بیاض، ارژنگ، نمود، اطراف، غنیمت، علم، ادراک، ادبِ معلیٰ، رنگِ ادب، اوراقِ ادب، تجزیات، دستک، ورثہ، خیال و فن، ارقم، ماہِ نو، لوحِ ادب، آثارِ سیرت، الحمد، تسطیر، کولاژ، اُردو، ارتعاش، فنون، عکّاس، اسپوتنک، الزبیر، تلازمہ، انگارے، بیلاگ، الماس، قلم قبیلہ، فکر و نظر، پیامِ اُردو، کہانی گھر، پاکستان شناسی، دریافت، ثالث، سوچ، ارتفاع، جمالیات، تفہیم، الاقربا، آہنگ، اخبارِ اُردو، انہماک، ابجد، نوارد، انشاء، تعبیر، ادب و کتاب خانہ، دھنک، اردو کالم، پیام آشنا، فن زاد، نزول، معیار، راوی، قرطاس، عمارت کار، جہانِ حمد، نعت رنگ اور رثائی ادب شامل تھے۔

وفیات: وہ لوگ جو ہماری زبان، فکر اور ادبی روایت کو زندہ رکھتے ہیں، طبعی طور پر ہم سے جدا بھی ہوجائیں، تو ان کے الفاظ، خیالات اور اثرات زمانے کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

سالِ رفتہ ہم سے رخصت ہوجانے والی ادبی شخصیات میں نسیم درّانی، ابدال بیلا، زاہد مسعود، اشتیاق طالب، ڈاکٹر ممتاز احمد خاں، ضیاء الحسن ضیاء، شکیلہ رفیق، سبکتگین صبا، راشد نور، اقبال فہیم جوزی، بانو ہادیہ سیّدہ، تیمور حسن تیمور، زاہد حسین، سیّد شوکت جمال، سعید الظفرصدیقی، اقبال آفاقی، سلیم عکّاس، سیّد یداللہ حیدر، راشدہ نثار، محسن شیخ، میر آصف عابدی، خالد علیم، سفیان اسلم، اصغر عابد، عمران جعفر، نجمہ رحمانی، ریحانہ کنول، ایچ اقبال، ساجدہ سلطانہ، قمر افضل قمر، احسان رانا، خواجہ شاہد حسن، اشتیاق احمد، عالی شعار بنگش، جاوید قاسم، علی بابا تاج حبیب الرحمٰن رومی اور وقار حیات شامل ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید