• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

مہمان: فضہ

پہناوے/ عبایا، اسکارفس: حجاب النساء گارمنٹس، لاہور

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکاسی: عرفان نجمی

کوآرڈی نیشن: مظہر علی

لےآؤٹ: نوید رشید

ہم خوش بختوں(اُمتِ مسلمہ) پر پروردگار کا اپنا مہینہ پورے تُزک و احتشام، انعام و اکرام کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ ماہِ صیام کے حوالے سے کیا ہی خُوب صُورت کلام ہے۔ ؎ ’’عبادتوں کے چمن کی بہار ہے رمضان… علاجِ گردش لیل و نہار ہے رمضان… پئے طہارتِ دل آب شار ہے رمضان… پیامِ رحمتِ پروردگار ہے رمضان… ہوا کریم کا احساں اِسی مہینے میں… مِلا رسول کو قرآن اِسی مہینے میں… بہارِ گلشنِ عشق و وفا کا موسم ہے… نمودِ قوتِ صبر و رضا کا موسم ہے… فروغِ جذبۂ صدق و صفا کا موسم ہے…عبادتوں کا زمانہ، دُعا کا موسم ہے… ہے وقت بگڑی ہوئی قسمتیں بنانے کا… زمانہ آیا گناہوں کو بخشوانے کا… زہے نصیب، جو ماہِ صیام آتا ہے… زمیں پہ اہلِ فلک کا سلام آتا ہے… جو پیاسے ہونٹوں پہ مالک کا نام آتا ہے… تو خُود ہی رقص میں رحمت کا جام آتا ہے… سُنا دو خوش خبری درد وغم کے ماروں کو… ملی ہے مہلتِ توبہ گناہ گاروں کو… زہے وہ ضُعف جو کردار کی دوا بن جائے… خوشا وہ پیاس، جو سیرابیٔ وفا بن جائے… زہے وہ بھوک، جو دل کے لیے دوا بن جائے… خوشا وہ نیند، جو تسبیحِ کبریا بن جائے… اُسی کو حق ہے کہ دستِ دُعا بلند کرے… کہ جس کی بُوئے دہن بھی خدا پسند کرے… 

ہر ایک سانس میں ذکرِ خدا کی لذّت ہے… ہر اِک نفس میں نہاں جلوۂ تلاوت ہے… یہ ترکِ آب و غذا زندگی کی دولت ہے… جو نیند آئے تو سونا بھی اِک عبادت ہے… نزولِ رحمت پروردگار ہوتا ہے… کہ بخت جاگتا ہے، روزہ دار سوتا ہے… وہ شامِ قدر کا منظر نمازیوں کی قطار… دُعائے سیّدِ سجاد کی وہ نرم پھوار… پلک پہ اشکِ ندامت، زباں پہ استغفار… وہ رات، جس کی تجلی پہ لاکھ صُبح نثار… بہت بلند حدِ امتحان دیکھتے ہیں… ملک بھی آکے عبادت کی شان دیکھتے ہیں… بھُلا دیں فرض کو چھوٹے، بڑے خدا نہ کرے… دِلوں پہ کفر کا پنجہ گڑے، خدا نہ کرے… دکھائی دیں ہمیں روزے کڑے، خدا نہ کرے… خدا کے سامنے کہنا پڑے، خدا نہ کرے… جو داغ دامنِ کردار پہ تھے، دھو نہ سکے… گزرگیا رمضاں، فیض یاب ہو نہ سکے۔‘‘شاعر نے اپنے دلی جذبات و احساسات کا اظہار اس خُوبی و عمدگی سے کیا ہے، گویا اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔

بات کچھ یوں ہےکہ اگرپھول کبھی نہ مرجھاتے تو شاید کوئی اُنہیں پلٹ کر بھی نہ دیکھتا۔ اگر شام کبھی نہ ڈھلنےکےلیےہوتی، توبھلا چراغوں کی تمنا کون کرتا۔ سانسوں کی مہلت، مدتِ محدود کےلیے نہ ہوتی، توزندگی کی قدر کیسے ہوتی۔ ہماری خواہشیں اکثر’’ہمیشہ‘‘ پرمبنی ہوتی ہیں، جب کہ کائنات کا سارا حُسن ’’عارضی‘‘ میں سمویا ہے- وہ جو کچھ عرصے کے لیے ہےاورجلد روانہ ہونےوالاہے،جو’’ایّامِ معدودات‘‘ بن کر نُور کی صُورت برسنے، ہمیں سنوارنے آیا ہے۔ وہ کس قدر دل نشیں اورسحر انگیز ہے۔

قرآن پاک کی سورہ البقرہ میں رمضان المبارک کے لیے ’’ایّامِ معدودات‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور اس ماہِ مقدس کی ایک ایک ساعت، قلب و رُوح سے جیتے ہوئے اِن الفاظ کی گہرائی یوں معلوم ہوئی جاتی ہے کہ دل اَش اَش کر اُٹھتا ہے، تو کبھی ریت کی مانند پھسلتے وقت پر شدید اداسی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ کہاں ابھی تو رمضان کی آمد آمد کی دھوم مچی تھی۔ تمام شیڈول ماہِ مقدّس کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دئیے جا رہے تھے۔

محافلِ اذکار و شبینہ کی تیاریاں تھیں اور کہاں اب دیکھتے ہی دیکھتے اِس نے رخصت کی تیاری پکڑلی۔ ابھی چاند دیکھ کر پہلی تراویح ادا کی تھی اور اب الوداعی کلمات کی صدا سنائی دینے لگی ہے۔ یہ مہینہ زندگی کی تپتی دھوپ میں بادل بن کر تھوڑی دیر سایہ کرتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور… کس قدر خوش نصیب ہیں وہ، جو اِس وقتی سائے میں بیٹھ کر بخشش کا سامان کر لیں۔ 

یہ ’’تیزی‘‘ ہمیں یہی تودرس دیتی ہے کہ نیکی و بھلائی کے کاموں میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شُکر کا یہ اطمینان بخشش احساس ہو کہ ہم ان خُوش بختوں میں سے ہیں، جنہیں یہ ’’ایّامِ معدودات‘‘ نصیب ہوئے، تو رائیگاں نہیں گئے۔ یہ تربیت کا مہینہ، محدود مدت میں، مُٹھی سے پھسلتے وقت میں بھی جینے کا ڈھنگ سکھا گیا۔ 

روزے کی عارضی پیاس میں رب العالمین کی رضاکی ابدی سیرابی چُھپی ہے۔ عارضی تھکن سے چُور جسم سے تراویح کی ادائی، جنّت کے خوش پوش بستروں کی اُمید ہے، توقیام اللیل کا مختصر عرصہ قربِ الہی و شفاعتِ نبویﷺ کی ہمیشہ کے لیے مل جانے والی خوشی کا سرچشمہ۔ 

یوں کہنے کو تو ’’الوداع‘‘ ہمیشہ مشکل ہوتے ہیں، لیکن یہ لازم بھی نہیں کہ رمضان کریم کی ’’خُوب صُورت رُخصتی‘‘ تو اپنے آپ میں ایک الگ ہی درس ہے۔ یعنی ہر رخصت اداس کر کے ہی نہیں جاتی، کبھی کبھی وہ اپنے پیچھے ایک بدلا ہوا، بہت بہتر انسان بھی چھوڑ جاتی ہے۔

پیارے ماہ کے اَن گنت اعجازات میں سے ایک، ہماری ’’سترپوش‘‘ بزم بھی ہے۔ ذرا دیکھیے، سیاہ پرنٹڈ لباس کے ساتھ، کاندھوں پر سیاہ پھولوں والی چادر اور آسمانی رنگ اسکارف کا کنٹراسٹ کتنا پاکیزہ سا لُک دے رہا ہے۔ آف وائٹ قمیص، شلوار کی ہلکی کڑھت سے میچ کرتا پرنٹڈ گرین اسکارف اور اِسی ڈریس کے ساتھ پشمینہ کی ٹی پنک شال اور آتشی گلابی پرنٹڈ اسکارف بھی جسم و جاں کو بہت نورانی سا احساس دے رہے ہیں،تو باٹل گرین رنگ عبایا کے ساتھ ہلکے رنگ کے پھول دار پرنٹڈ اسکارف کی موزونیت میں بھی پوتّرتا کا گہرا تاثر ہے، جب کہ نیوی بلیو رنگ کے ریگولر عبایا کے ساتھ سیاہ پرنٹڈ اسکارف کی ہم آہنگی نے تو جیسے پورے ماحول ہی کو پردہ پوش کر دیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید