• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال کی طرح 2025 کے آغاز میں بھی آزاد کشمیر شدید سردی کی لپیٹ میں رہا۔ پیر چناسی، وادیٔ نیلم، وادیٔ لیپہ، گنگا چوٹی، بن جوسہ، تولی پیر، لسڈنہ، محمود گلی سمیت بیش تر مقامات پر برف باری ہوئی، جسے دیکھنے کے لیے حسبِ معمول ہزاروں سیّاح اُمڈ آئے۔ مجموعی طور پر سال2025 ء میں اندرون اور بیرونِ مُلک سے لاکھوں سیّاحوں نے آزاد کشمیر کے سیّاحتی مقامات مظفّر آباد، نیلم ویلی، جہلم ویلی، باغ، سدھنوتی، راولا کوٹ، حویلی، میرپور اور کوٹلی اضلاع کا وزٹ کیا۔ 

اِن سیّاحوں میں بڑی تعداد میں فیملیز بھی شامل تھیں، جو مُلک کے دُور دراز علاقوں سے جنّت نظیر، کشمیر دیکھنے آئی تھیں۔ آزاد کشمیر میں مون سون کے دَوران شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ، سیلابی ریلوں اور مختلف حادثات کے باعث اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، 38 افراد جاں بحق اور31 زخمی ہوئے، جب کہ2278 مکانات متاثر، 60 دُکانیں تباہ اور238 مویشی ہلاک ہوئے۔ نیز، انفرا اسٹرکچر کے لحاظ سے26 پاور ہاؤسز، 170 اسکولز،232 کلومیٹر سڑکیں،79 پُل اور124 پانی فراہمی کی اسکیمز متاثر ہوئیں۔

وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف نے ’’یومِ یک جہتیٔ کشمیر‘‘کے موقعے پر آزاد جمّوں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مسئلۂ کشمیر کے حل کی خاطر مذاکرات یا جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں، جب کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا عمائدین سے خطاب میں کہنا تھا کہ کشمیر کے لیے ہم نے تین جنگیں لڑی ہیں، مزید بھی لڑنا پڑیں، تو ہم تیار ہیں، کشمیر پاکستان کا حصّہ تھا اور رہے گا۔

وزیرِ اعظم پاکستان اور آرمی چیف کے دورۂ مظفّرآباد سے کشمیریوں کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ 22 اپریل2025ء، بروز منگل مقبوضہ جمّوں وکشمیر کے علاقے پہلگام میں نامعلوم افراد نے28 سیّاحوں کو قتل کر دیا، جن میں اکثریت مسلمان سیّاحوں کی تھی۔ اِس سانحے کا بھارت نے حسبِ روایت بغیر ثبوت پاکستان پر الزام عائد کر دیا، جس کی پاکستانی وزارتِ خارجہ نے سختی سے تردید کی اور غیر جانب دارانہ انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی۔ 

پہلگام سانحے کے بعد مودی سرکار نے پاکستان اور آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ بھارت نے 6 اور7 مئی کی درمیانی شب12 بج کر 40 منٹ پر آزاد جمّوں و کشمیر پر میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 33 مرد و خواتین اور معصوم بچّے شہید، جب کہ123معصوم شہری زخمی ہوئے۔ دو مساجد کی شہادت سمیت 287مکانات اور دُکانیں بھی تباہ ہوئیں۔ 

بھارت کی جانب سے پاکستان، آزاد کشمیر کی سِول آبادی اور پاکستان کے تین ایئر بیسز پر حملے کے بعد اس بھارتی جارحیت کے جواب میں سپہ سالارِ عساکرِ پاکستان، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی رہنمائی و سربراہی میں مسلّح افواج نے 10 مئی بروز ہفتہ نمازِ فجر کے وقت’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘(آہنی دیوار)/ معرکۂ حق کا آغاز’’فتح وَن میزائل‘‘ فائر کر کے کیا اور محض چند گھنٹوں میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، صورت گڑھ، جمّوں، اکھنور، براہموس اسٹوریج سائٹ اور ’’ایس400 میزائل دفاعی نظام‘‘ سمیت متعدّد اہداف تباہ کر دیئے۔

10 مئی کو بھارت کی فضاؤں پر پاکستانی جے ایف تھنڈر-17 اور الفتح وَن+ٹو میزائلز کی حُکم رانی نے مودی سرکار کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اب مودی سرکار اپنی شکست اور عالمی شرمندگی کا غصّہ محکوم و مجبور مقبوضہ جمّوں و کشمیر کے عوام پر نکال رہی ہے۔ پانڈو سیکٹر ضلع ہٹیاں بالا، آزاد کشمیر کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل(CDF) عاصم منیر نے اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ نمازِ عید کی ادائی کے بعد دربار سے خطاب میں بھارتی جارحیت کا بہادری کے ساتھ دندان شکن جواب دینے پر جوانوں کی ستائش کی۔

سانحہ جعفر ایکسپریس میں شہداء کی سر زمین، آزاد جمّوں کشمیر کے مظفّرآباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے جوان، راجا عزیز(کوٹلہ جہلم ویلی)، حوالدار خواجہ یاسر(ماکڑی تھانہ مظفّرآباد)، چوہدری اظہر حمید شہید ہوئے۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دَوران باغ، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے میجر سعد بن زبیر، میجر رب نواز گیلانی(مظفّر آباد )، مدار پور بٹل سیکٹر میں نکیال سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے لانس نائیک محمّد نصیر مصدق اور چڑی کوٹ ضلع حویلی کے رہائشی لانس نائیک نزاکت علی نے جامِ شہادت نوش کیا۔

فروغِ تعلیم کے ضمن میں وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے دُور افتادہ علاقوں میں غریب، مستحق طلبا وطالبات کو جدید تعلیم کی سہولتیں پہنچانے کے لیے بھمبر، نیلم اور باغ کے اضلاع میں یکے بعد دیگرے3، جب کہ گلگت بلتستان میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ایک دانش اسکول کا سنگِ بنیاد رکھا۔ وزیرِ اعظم آزاد کشمیر، فیصل ممتاز راٹھور کی خواہش پر میاں شہباز شریف نے ضلع حویلی اور لیپہ ویلی میں بھی دانش اسکولز کے قیام کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ آف آزاد جمّوں وکشمیر کے50 سال پورے ہونے پر گولڈن جوبلی تقریبات منائی گئیں۔ اِس موقعے پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت، مظفّرآباد میں ایک تاریخ ساز ’’جوڈیشل کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف جسٹس پاکستان، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے جج صاحبان نے شرکت کی۔ اس جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد سے آزاد کشمیر کے عدالتی نظام کا مثبت امیج دنیا بَھر میں اجاگر ہوا۔ 

اِس موقع پر چیف جسٹس آزاد جمّوں کشمیر سپریم کورٹ، راجا سیّد اکرم خان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد سے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب یک جہتی کا پیغام گیا۔ آزاد کشمیر کے عوام کے فیصلے اُن کی اپنی سپریم کورٹ کرتی ہے، جب کہ مقبوضہ جمّوں و کشمیر کے عوام کے فیصلے دہلی کی سپریم کورٹ میں ہوتے ہیں۔ ہمارے جوڈیشل ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے اِس انداز میں کام کر رہے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ، آزاد جمّوں کشمیر کی عدلیہ کے فیصلوں سے رہنمائی لیتی ہے، جو کہ ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اگر اعزازات کی بات کریں، تو سابق چیف جسٹس، صداقت حسین راجا کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس سردار لیاقت شاہین نے بحیثیت چیف جسٹس ہائی کورٹ، آزاد جمّوں و کشمیر اپنے عُہدے کا حلف اُٹھایا۔ جب کہ47سالہ راجا فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے کم عُمر وزیرِ اعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ منگلا، میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی برٹش پارلیمنٹ کی رُکن، محترمہ شبانہ محمود برطانیہ کی وزیرِ داخلہ بنیں۔ 

کمشنر پونچھ ڈویژن، مسعود الرحمن، ڈپٹی کمشنر نیلم ندیم احمد جنجوعہ، اسسٹنٹ کمشنر ہجیرہ سردار ولید انور اور ڈی ایس پی پولیس ہجیرہ محترمہ جبین کوثر کو معرکۂ حق کے دَوران شان دار خدمات کے اعتراف میں سب سے بڑے سِول ایوارڈ’’تمغۂ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا، جب کہ سیکریٹری حکومتِ آزاد کشمیر محترمہ تہذیب النساء، ڈی ایم ایس ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ اسپتال میرپور، محترمہ ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار اور ممتاز ایجوکیشنسٹ محمّد شاہ زیب بیگ کو’’پرائڈ آف پاکستان ایوارڈ 2025 ‘‘ ملا۔ 

آزاد کشمیر کے ضلع حویلی سے مدرس ریٹائرڈ محمّد اجمل خان کے فرزند، محمّد سلیم خان نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن(FIA) کے امتحان میں آزاد کشمیر کوٹے کی واحد سیٹ پر کام یابی حاصل کی۔ آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے انتہائی پس ماندہ علاقے’’کوہمر گجراں‘‘ کی ہونہار بیٹی قرّاۃ العین نے پاک فوج کے شعبے آرمی نرسنگ سروسز (AFNS) میں لیفٹیننٹ کا عُہدہ حاصل کر کے اپنے علاقے اور خاندان کا نام روشن کیا۔ ہجیرہ، پونچھ کے سپوت چوہدری محمّد جمیل کو ایشین تائی کوانڈو چیمپیئن شپ میں2 عالمی اور2 قومی میڈلز جیتنے پر قائم مقام صدر /اسپیکر اسمبلی، چوہدری محمّد لطیف اکبر نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔

سال 2025 جاتے جاتے کئی پیاروں کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیر راجا نصیر احمد، نکیال سے سابق اُمیدوار اسمبلی سردار خضر حیات اور مظفّرآباد کی شہرۂ آفاق مجذوب شخصیت، سائیں لیاقت کی وفات سے آزاد کشمیر کی فضا سوگوار رہی۔

اگر گزشتہ برس کے دَوران آزاد کشمیر میں ہونے والے افسوس ناک واقعات و سانحات کا انتہائی اختصار کے ساتھ جائزہ لیں، تو 29 جولائی بروز منگل آزاد کشمیر کی تحصیل کھوئی رٹہ کے نواحی گاؤں’’سیّد پور پیلاں‘‘ میں سہہ پہر 4 بجے ایک چھے سالہ معصوم بچّی، تسمیہ سہیل کو کسی درندہ صفت شخص یا اشخاص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کرقتل کر دیا اور اُس کی لاش پر تیزاب/کیمیکل ڈال کر بُری طرح مسخ کر دیا۔ قتل کے شبے میں ایک شخص گرفتار کیا گیا۔اِس درندگی کے خلاف پہلی مرتبہ خواتین نے بھی مظاہرے کیے۔ 

دو مرتبہ جے آئی ٹی بنائی گئی، مگر سات ماہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے مقتولہ کے والدین، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مایوس ہیں۔ یہ آزاد کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، جس سے بچیوں کے والدین خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔25اگست بروز پیر چناری کے ملحقہ گاؤں کھٹائی(ضلع جہلم ویلی) کا رہائشی،8ویں جماعت کا13 سالہ طالبِ علم قاسم وحید ولد شیخ وحید دوستوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا جب ایک نجی اسکول پہنچا، تو اسکول ٹیچر نے والدین کی جانب سے بروقت فیس ادا نہ کرنے پر قاسم وحید کو پوری کلاس کے سامنے سختی سے ڈانٹا۔

طالبِ علم نے عزّتِ نفس مجروح ہونے پر اسکول سے چھٹی ہوتے ہی دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ طالبِ علم کی زندگی کے خاتمے کے بعد سرکار نے بچّوں سے براہِ راست فیس وصولی پر پابندی کا نوٹی فیکیشن جاری کیا۔ کاش !اِس طرح کے نوٹی فیکیشن کے اجرا کے لیے کسی کے لختِ جگر کی موت یا کسی حادثے کا انتظار نہ کیا جاتا، تو اچھا ہوتا۔

18جون کو آزاد کشمیر حکومت نے سال 2024-25 کے لیے نظرِثانی اور 2025-26کے لیے 3 کھرب،10 ارب اور20 کروڑ روپے حجم کا بجٹ ایوان میں پیش کیا، جسے قواعد و ضوابط معطّل کرکے بحث کے بغیر ہی منظور کر لیا گیا۔ اسمبلی نے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ دو سو اکسٹھ ارب روپے لگایا، جب کہ ترقیاتی اخراجات کے لیے انچاس ارب روپے کی منظوری دی۔ اسمبلی رولز کی معطّلی کے خلاف آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے گیٹ پر اپوزیشن ارکانِ اسمبلی نے دھرنا دیا۔

آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریکوں کی بات کریں، تو عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر29 ستمبر بروز پیر کو آزاد کشمیر بَھر میں لاک ڈاؤن، شٹر ڈاؤن اور پہیّا جام ہڑتال ہوئی۔ اِس ریاست گیر اور منظّم ترین ہڑتال کے دَوران بعض مقامات پر ناخوش گوار واقعات بھی رُونما ہوئے، جن میں چار پولیس اہل کاروں سمیت15 افراد جاں بحق، جب کہ225 سے زائد زخمی ہوئے۔

وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام، وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، سردار یوسف، آزاد کشمیر کے کچھ ارکانِ اسمبلی اور وزراء پر مشتمل کمیٹی کے عوامی ایکشن کمیٹی، کیکور کمیٹی کے ممبران شوکت نواز میر اور راجا امجد ایڈووکیٹ وغیرہ سے مذاکرات ہوئے، جو ناکام رہے۔ 

اس پر وزیرِ اعظم پاکستان نے ایک با اختیار کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس میں سابق وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال اور سابق وزیر امورِ کشمیر قمرالزمان کائرہ کا اضافہ کیا گیا۔ اس کمیٹی نے دو اور تین اکتوبر کو عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے، جو کام یاب ہوئے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا38نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم کر لیا گیا، جب کہ مہاجرینِ جمّوں و کشمیر کی(جو پاکستان میں مقیم ہیں)12نشستوں سے متعلق ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سفارشات کی روشنی میں اِس معاملے کا کوئی قابلِ قبول حل نکالا جائے گا۔ 

پاکستان اور کشمیریوں کے ازلی دشمن، آزاد کشمیر کے حالات میں سنگین بگاڑ کی آس لگائے بیٹھے تھے، لیکن وفاقی حکومت اور ایکشن کمیٹی کے ذمّے داران نے خوش اسلوبی سے یہ بحران حل کر کے اُن کے مذموم عزائم ناکام بنا دیئے۔ اگر آزاد کشمیر کے سیاسی حالات کا سرسری جائزہ لیں، تو سال2024 ء کی طرح2025ء میں بھی سیاسی عدم استحکام ہی رہا۔ سیاسی جماعتوں، وزیرِ اعظم اور وزرا کے عوام سے عدم روابط کی وجہ سے عام شہریوں نے اپنے مسائل کا حل اور اُمیدیں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ وابستہ کر لیں۔ 

آئے روز عوامی احتجاج کی وجہ سے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی سَر اُٹھاتا رہا۔ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک، پی پی پی اور پی ایم ایل این کے ارکانِ اسمبلی پر مشتمل’’ انوار سرکار‘‘ حقیقی طور پر کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ’’ایم ایل ایز کلب‘‘ کی حکومت تھی۔’’انوار سرکار‘‘ کے دور میں آزاد کشمیر کی ریاست، سیاست، نظریۂ الحاقِ پاکستان اور پاکستان سے کشمیریوں کی لازوال محبّت کو جو نقصان پہنچا، شاید آنے والی نصف صدی تک بھی اُس کی تلافی نہ ہو سکے۔

وزیرِ اعظم انوار الحق کے خلاف سارا سال تحریکِ عدم اعتماد کی بازگشت سُنائی دیتی رہی۔ بالآخر پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کی غالب اکثریت نے پی پی پی اور کچھ نے پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کر لی۔15 اپریل2023 ء کو53 رُکنی ایوان میں پارلیمانی تاریخ کے سب سے زیادہ48ووٹ لے کر منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کے ساتھ محض پانچ ارکانِ اسمبلی رہ گئے۔ 

انجامِ کار،17 نومبر2025 ء بروز پیر اُن کے اقتدار کا آخری دن ثابت ہوا۔ کام یاب تحریکِ عدم اعتماد کے بعد پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 47سالہ فیصل ممتاز راٹھور موجودہ اسمبلی سے چوتھے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ ازاں بعد، پی ایم ایل این کے صدر شاہ غلام قادر اپوزیشن لیڈر مقرّر ہوئے۔30 ماہ بعد پہلی مرتبہ آزاد کشمیر کے عوام اور اقتدار کے ایوانوں میں فاصلے کم ہوئے۔ 

آزاد کشمیر میں سیاسی صف بندیاں جاری ہیں کہ رواں برس جولائی میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ روایتی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پاسبان وطن پاکستان، تحریک نوجوانانِ پاکستان و کشمیر اور پاکستان ری پلک پارٹی بھی اپنے اُمیدوار اِس انتخابی معرکے میں اُتاریں گی۔ 

سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس میں انتخابات قریب آتے ہی مزید شدّت پیدا ہوگی۔ کس جماعت کو اقتدار ملتا ہے، اب اس کا فیصلہ جولائی2026 ء میں آزاد کشمیر کے عوام نے بیلٹ پیپر کے ذریعے کرنا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید