• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمیاتی تبدیلیوں کے مہلک اثرات اس کرۂ ارض کو جس تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں، بدقسمتی سے نہ تو مغرب اور نہ ہی مشرق صحیح طور ان کی سنگینی کا ادراک کر سکا ہے۔ کرۂ ارض کو غیر مستحکم کرنے والی یہ تبدیلیاں جن ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جارہی ہیں بقول عالمی ماحولیاتی ماہرین، وطن عزیزان میں سرفہرست ہے۔ حالانکہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ تاہم پاکستان اپنے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ان موسمیاتی تبدیلیوں کے عین نشانے پر ہے ۔پاکستان چھوٹے بڑے لگ بھگ تیرہ ہزار سے زائد گلیشئرز رکھنے والا شمالی اور جنوبی قطبین کے بعد دنیا سب سے بڑاملک ہے جس کے شمال میںواقع کثیر تعداد میں گلیشئرز موسمیاتی تبدیلیوںکے سبب تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ یہ عمل نہ صرف سیلابوں کا باعث بن رہا ہے بلکہ دیہی اور شہری علاقوں میں پانی کی قلت کا سبب بھی بن رہا ہے، کیونکہ یہی گلیشئرز ہماری 60فیصد آبادی کیلئے فراہمیٔ آب کا ذریعہ بھی ہیں اور ہماری زراعت کا بھی زیادہ تر انحصار اسی پانی پر ہےجو ، بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ بے وقت اور معمول سے زیادہ بارشیں سیلابوں کا باعث بنکرجانی اور مالی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔

اس ضمن میں ہمیں پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ عالمی ماحولیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ جنگلات کسی بھی علاقے کے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں عالمی طے شدہ فارمولے کے برعکس کم از کم 25فیصد کی بجائے 5فیصد سے بھی کم رقبے پر جنگلات رہ گئے ہیں اور نئے درخت بھی نہیں لگائے جا رہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں بارے عالمی رپورٹوں کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تیزی سے بدلتے موسموں کے نتائج دوررس ہوتے ہیں ، جنکے اثرات انسانی زندگی کے ہر شعبہ کومتاثر کرتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادارے’’جرمن واچ ‘‘کی سال 2024ء کی رپورٹ ہمارے لئے لمحۂ کریہ ہونی چاہیےجس میں پاکستان کو متنبہ کیا گیاتھا کہ،’’ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے‘‘۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی باور کرایا گیا کہ ،’’ اچانک ژالہ باری ، طوفانی بارشیں ،ہیٹ ویو کا بڑھتا دورانیہ ،آسمانی بجلی کی شدت، غیر معمولی سائز کے اولوں کابرسنا اور معمول سے ہٹ کے گلیشئرز کا پگھلنا ،کیا بدلتے موسموں کے واضح اور کافی ثبوت نہیں ؟ ‘‘۔

اتفاق سے میرے سامنے اس وقت اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے ایک ذیلی ادارے’’ انٹرنیشنل پینل آف کلائمٹ چینج‘‘ (آئی پی سی سی ) کی اگست 2021ءکی ایک رپورٹ ہے ۔ جس میں دنیا بھر کے234ماہرین اور سائنسدانوں کے ایک بین الحکومتی گروپ نے عالمی طور پر تیزی سے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے تناظر میں اجتماعی طور پرایک کانفرنس شرکت کی اور جو تنبیہ جاری کی وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کیلئے ایک طرح کی’’ویک آپ کال‘‘ تھی، جسکے الفاظ کچھ یوں تھے ، ’’اگر زمین کا درجہء حرارت موجودہ رفتار سے ایسے ہی بڑھتا رہا تو موجودہ صدی کے آخر تک یہ انسانوں کی رہائش کے قابل نہیں رہے گی ، اب ہمارے پاس بھاگنے یا چھپنے کی کوئی جگہ نہیں بچی ‘‘۔چارہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ دس سال کے دوران اس کرہءارض کا درجہء حرارت جس تیزی سے بڑھا ہے اس سے پہلے اسکی مثال نہیں ملتی ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 2030ءتک اگر ہم اس بڑھتے درجہء حرارت کو روک نہ سکے تو اس کے ناقابل تلافی نقصان کیلئے ہمیں تیار رہنا ہو گا ‘‘۔

ان رپورٹوں کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ چار سال پہلے 234ماحولیاتی ماہرین کاقیاس سچ ثابت ہو رہاہے ۔سال 2024 میں’’ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن‘‘ کے سیکرٹری جنرل کابیان تھا کہ ، ’’ سن 2024 ، 175 سال کے بعداب تک کا گرم ترین سال ہے ‘‘۔ مندرجہ بالا رپورٹ کی تصدیق اس حقیقت سے ہی ہو جاتی ہےجب سعودی عرب میں سن 2004 میںدرجہء حرارت 51.8ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ، بدقسمتی سے نہ تو انفرادی طور پر اور نہ ہی حکومتی سطح پر اسکی سنگینی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے حالانکہ دنیا بھر کے ماہرین بشمول اقوام متحدہ ہمیں چیخ چیخ کر یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو اتنا معمولی نہ سمجھیں کیونکہ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو نہ صرف موجودہ بلکہ آنیوالی نسلوں کی زندگیوں کو بھی تلٹ پلٹ کر رکھ دئیگا۔

اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں ہم ہنگامی بنیادوں پر ایک طرف شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں جنگلات کی کٹائی کو روکیں وہیں دوسری جانب ہمیں جنگلات کی تعداد میں فوری اضافہ بھی کرنا ہو گا ۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں فوسل فیول سے مکمل چھٹکارا حاصل کر کے قابل تجدید ذرائع کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہو گا ۔ سولر پاور اور ونڈ پاور کے پاکستان میں وسیع تر وسائل موجود ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتیں تنہا کچھ نہیں کر سکتیں جب تک عوام کا ساتھ نہ ہو چنانچہ ہمیں اپنے حال اور آنیوالی نسلوں کی بقا کیلئے ایک ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر اس قدم سے گریز کرنا ہو گا جو آلودگی اور ماحولیاتی بگاڑ کا باعث بنتا ہو ۔ اس سلسلے میں حکومت وقت کو بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرنا ہوگا۔

تازہ ترین