سال 2025ء میں پاکستان کی برآمدات ایک مرتبہ پھر اضافے کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن رہیں اور 2024ء میں ہونے والی معمولی بہتری کے باوجود گزشتہ سال برآمدات میں اضافے کا تسلسل برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ حکومت کے اپنے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں برآمدات میں چھ فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نومبر 2025ء میں اکتوبر 2025ء اور نومبر 2024ء کے مقابلے میں بالترتیب 15، 15 فیصد کی کمی ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری برآمدات کسی تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔
اس حوالے سے ٹیکسٹائل برآمدات کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اگرچہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.7 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم نومبر 2025ء میں ٹیکسٹائل برآمدات اکتوبر 2025ء کے مقابلے میں 12فیصد اور نومبر 2024ء کے مقابلے میں تین فیصد کم رہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے نٹ وئیر سیکٹر کی برآمدات میں بھی گزشتہ چند ماہ سے مسلسل کمی ہو رہی ہے اور نومبر 2025ء میں نٹ وئیر سیکٹر کی برآمدات میں اکتوبر 2025ء کی نسبت 18فیصد جبکہ نومبر 2024ء کے مقابلے میں پانچ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔
اس وقت بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے زیادہ تر یونٹس اپنی مجموعی پیداواری استعداد سے کم پر چل رہے ہیں اور ان کی شرح نمو میں وہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کے عالمی سطح پر مواقع موجود ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈسٹری کو حکومت کی طرف سے وہ سپورٹ یا تعاون تاحال میسر نہیں آ سکا ہے جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ حکومت نے حال ہی میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کے علاوہ شرح سود میں بھی معمولی کمی کرکے اسے ساڑھے دس فیصد کر دیا ہے لیکن اب بھی پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس لئے جب تک شرح سود کو مزید کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر نہیں لایا جائے گا انڈسٹری کو درپیش سرمائے کی قلت کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی برآمدات کا دارومدار تاریخی طور پر بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی مشینری، خام مال اور کیمیکلز پر رہا ہے جس کی وجہ سے جیسے جیسے شرح نمو یا ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے درآمدت کی ادائیگی کے لیے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یا تو شرح نمو کو کم کرنے کے لئے درآمدات پر پابندیاں لگانی پڑتی ہیں یا عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ کے حصول کا ایک اور اہم ذریعہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ تاہم اس کے لئے بھی سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں یا ممالک کو پرکشش مراعات اور ترغیبات دینا ہماری مجبوری ہے کیونکہ مجموعی طور پر خطے کی صورتحال اور ہمارے سیاسی حالات کی وجہ سے پاکستان براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی ترجیحی فہرست میں بہت نیچے ہے۔ علاوہ ازیں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کی خاطر ہماری حکومتیں جو وعدے کرتی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد کرنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ ایسے میں بیرونی سرمایہ کار بھی اپنے منافع کو جلد از جلد پاکستان سے باہر منتقل کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے حصول کا یہ ذریعہ بھی ہمارے لئے معاشی استحکام کا باعث نہیں بن سکا ہے۔
ان حالات کا موازنہ اگر خطے کے ان ممالک سے کیا جائے جو چند سال پہلے تک ٹیکسٹائل برآمدات میں پاکستان سے پیچھے تھے تو صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ واضح رہے کہ دو دہائیاں قبل پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات آٹھ ارب ڈالر سالانہ سے زائد تھیں اور اس کے مقابلے میں ویتنام چار ارب ڈالر جبکہ بنگلہ دیش پانچ سے ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا تھا۔ تاہم آج ایک طرف پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری 20 ارب ڈالر برآمدات کا ہندسہ عبور کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور دوسری طرف ویت نام اور بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل برآمدات 50ارب ڈالر سے زائد کی سطح پر ہیں۔ یہ موازنہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکسٹائل برآمدات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن متضاد حکومتی پالیسیوں، کپاس کی پیداوار میں کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، بلند شرح سود اور بڑھتے ہوئے ٹیکسز کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز عالمی سطح پر خطے کے دیگر ممالک سے مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
ان حالات میں برآمدات بڑھانے کے لئے ترقی کے ماڈل کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لئے درآمدات پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی اشیاء یا مصنوعات کے متبادل مقامی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
اس طرح صنعتی خام مال اور ویلیو چین میں بھی مقامی پیداوار پر انحصار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نہ صرف مقامی انڈسٹری کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار میں اضافے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈیوں کی ضروریات پوری کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جا سکے گا۔ درآمدات کے حوالے سے پالیسی میں یہ تبدیلی ایک مستحکم میکرو اکنامک ماحول فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی جس کے نتیجے میں برآمدات بڑھانے کے لئے درکار جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے ہمیں زرمبادلہ کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔