• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عراق، شام، مصر اور افغانستان کس کس ملک کا نام لیں اور کس کا تذکرہ چھوڑ دیں۔ کس کس اسلامی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجتے دیکھتے ہوئے ہماری عمریں ڈھلیں اور داڑھیاں سفید ہوگئیں کچھ یاد نہیں پڑ رہا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی دور میں ہلاکو اور چنگیز کا غلبہ تھا جنہوں نے اسلامی مملکتوں کے شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ آخری ظلم عثمانی خلافت اسلامیہ کا خاتمہ تھا جس کے بعد اسلامی سلطنت کی بجائے درجنوں ملک وجود میں لائے گئے اور پھر جمہوریت کے نام سے ناٹک رچائے گئے جن کا چلن آج بھی ہے اور دنیا کو شخصی آمرانہ حکومتوں کے چنگل سے چھڑوانے کے لیے میلوں دور بیٹھ کر فلمی مناظر کی طرح سے حکومتوں کے تختے الٹنے کی کارروائیاں بغیر ٹکٹ کے مفت میں دیکھی جاتی ہیں۔ حال ہی میں وینزویلا میں بھی ایسا ہی کیا گیا جیسے عراق میں کارروائی کی گئی تھی، جیسے افغانستان پر ڈیزی کٹر بم چلا کر ان کی ہلاکت خیزیاں کو دیکھ کر اطمینان قلب حاصل کیا گیا تھا، جیسے اسرائیلی حملوں کو براہ راست دنیا کو میڈیا کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔ اب مہنگائی، کرپشن، آمریت، امریکہ کے سامنے انکار اور دوسری وجوہات کو جواز بنا کر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔بچے کھچے اہل دانش کا سوال اب بھی یہی ہے کہ جن وجوہات کو جواز بنا کر کئی ممالک میں حکومتوں کے تختے الٹ کر نئی ’’عوام دوست‘‘ حکومتیں وجود میں لائی جاتی ہیں کیا وہاں کے عوام ان تبدیلیوں کو قبول کرتے بھی ہیں یا ان کی زندگیاں گرائی جانے والی حکومتوں سے قبل بہتر تھیں، یہ بعد میں بہتر ہوئیں؟ کیا عراق میں لوگ خوش حال ہیں، کیا افغانستان میں بہتری آئی ہے، دہشت گردی کم ہوئی ہے، کیا مصر میں لوگوں نے تبدیلی کو کھلے دل سے قبول کیا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا؟ اس کے بارے میں کوئی بیان یا خیر خبر نہ ہی لی جاتی ہے اور نہ ہی میڈیا میں آنے دی جاتی ہے۔

اب وینزویلا میں کامیاب کارروائی کے بعد ایران کی باری ہے جہاں مہنگائی کے ہاتھوں عاجز لوگ سڑکوں پر بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر سڑکوں پر اپنی حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہمارے پڑوسی برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران میں کئی سال سے چلتی آرہی خراب معیشت، بدترین مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیوں، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوامی غصے کو شدید ہوا دی ہے، ان حالات میں ایرانی پاسداران انقلاب، سیکورٹی فورسز بھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس مخدوش ترین صورت حال میں جبکہ ایران کو شدید اندرونی خلفشار کا سامنا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت اور فوجی مداخلت کی دھمکی سمیت اس کے مخالف اسرائیلی حکام کے بیانات نے بھی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا اور شام کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، جہاں معاشی بدحالی نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے وہیں اب ایران بھی ایسے ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا نظر آرہا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں جبکہ ایران میں غیر یقینی کی سی صورت حال پیدا ہوچکی ہے اور لگ ایسا رہا ہے کہ اگلا تختہ مشق ستم ایران ہی بنے گا۔ عالمی حالات اور تبدیلوں پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور دانش ور یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کی کوئی واضح حکمتِ عملی ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسے سمجھوتے کے آثار نظر آرہے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کو مطمئن کرسکے۔ ان حالات میں امریکی مداخلت کے خدشات بہت تیزی کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں اور سی آئی اے ایرانی سر زمین پر موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ ممکنہ تبدیلی کو رو بہ کار لانے کی کارروائیاں کسی بھی وقت کرسکتی ہے، یہ بھی افواہیں ہیں کہ امریکہ اپنے ہم نوا ممالک کی قیادتوں کو اس بارے میں آگاہی دے چکا ہے کہ ایران میں اگر تبدیلی لائی جاتی ہے تو وہ کیا مصر اور عراق کی طرز کی ہوگی۔

ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟ اب تک جن ممالک میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے وہاں معدنی وسائل بشمول تیل کی قوت کو قبضے میں لیا گیا ہے۔ اگرچہ ہماری قیادت نے اب تک دانش مندانہ فیصلے کیے ہیں اور اپنے دشمن کی شر انگیزیوں کو روک رکھا ہے جس پر امریکی صدر بارہا ستائش کرتے ہوئے بھارتی قیادت کی بھد اڑا چکے ہیں۔ اسی حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور انہیں سبق سکھایا گیا۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا ہونا دنیا بھر نے دیکھا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشت گردی کو خوب ہوا دی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو باور کرایا کہ ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے۔ یہ حق ہندوستان کو کسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا سٹرکچر کو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں اتری ہے۔ کیا یہ وقت نہیں کہ ہماری حکومت عوام کو مہنگائی کے عفریت سے نجات دے اور ان کے حالات کو بہتر بنائے کیونکہ پنجاب میں تین ہزار روپے میں بیس کلو آٹا ملے گا تو لوگوں میں اس کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا بلکہ ردعمل آئے گا۔ فیصلہ تو کرنا پڑے گا۔

تازہ ترین