ماہرین کا اندازہ ہے کہ امسال جاڑوں میں موسمیاتی شدت زیادہ ہو گی اور سردی پچھلے کئی سال کا ریکارڈ توڑ دے گی۔ دن گرم تو راتیں شدید سرد، کبھی تیز طوفانی ہوائیں اور کبھی سکوت، پہاڑوں میں شدید برف باری تو سندھ بلوچستان میں شدید بارشیں اور موسم سرما کی طوالت بھی غیریقینی۔ یعنی اس میںمارچ2026 تک توسیع ہو سکتی ہے۔
شدید سردیوں کا یہ موسم جو ہر پانچ چھ سال وقفہ کے بعد عود کر آتا ہے۔ یہ بحرالکاہل کے گرم سرد پانیوں کی باہمی چپقلش سے نمودار ہونے والے قدرتی عوامل کا نتیجہ ہے جسے سترھویں صدی میں سفر کرنے والے ماہی گیروں اور بحری مسافروں نےLa Nina سے موسوم کیا تھا۔ عام حالات کے دوران بحرالکاہل (Pacific Ocean) میں تجارتی ہوائیں یا بادِ مراد (Trade Winds) خط استواسے مغرب کی طرف چلتی ہیں۔ ’’لے نینا‘‘ کا موسمیاتی عمل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی سال تجارتی ہواؤں کی شدت رفتار بڑھ جاتی ہے۔
بحرالکاہل کے گرم پانی مشرق سے پرے دھکیل دیئے جاتے ہیں۔ ان گرم پانیوں کی جگہ لینے کے لئے سمندر کی عمیق گہرائیوں سے ٹھنڈا پانی سطح سمندر پر نمودار ہو جاتا ہے۔ یوں سطح سمندر کا ٹمپریچر چلنے والی ہواؤں کو بھی یخ بستہ کر دیتا ہے۔ تب عالمی ماحولیات اور موسمیاتی حالات میں ایک Chain Reaction موسموں کو تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ یہ تبدیلی جب بحرہند کے منفی ڈائی پول سے الحاق کرتی ہے تو پھر پاکستان کا موسم جو پہلے ہی شمالی ہواؤں کے زیراثر ہوتا ہے، معمول سے زیادہ شدید ہو جاتا ہے اور یوں پورا برصغیر متاثر ہو جاتا ہے۔ بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے ٹھنڈے پانی کا دھارا محض برصغیر پاک و ہند میں جاڑوں کی شدت کا باعث نہیں بنتا بلکہ اس کے عالمی اثرات ہیں۔ کہیں موسم سرد، کہیں گرم، کبھی بارشیں اور کبھی بحری طوفان (Hurricane) کی پیدائش۔ اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں قحط سالی ظاہر ہوتی ہے تو شمالی امریکہ اور کینیڈا میں اسی La Nina سال کی وجہ سے زیادہ طوفانی بارشیں نمودار ہوتی ہیں۔ اس موسمیاتی تغیر کی وجہ سے برصغیر کے برعکس جنوبی سمندر زیادہ گرم ہو جاتا ہے، چنانچہ ٹھنڈے پانی والی آبی حیات یعنی Squid اور سالمون مچھلیاں کیلیفورنیا اور ملحقہ ساحلی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر لیتی ہیں اور یوں انسانوں کیلئے خوشگوار منفعت اور شکار کا اہتمام ہو جاتا ہے۔
گزشتہ صدی کی صنعتی ترقی کی کوکھ سے جنم پانے والی موسمیاتی حدت (Global Warming) سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ’’لےنینا‘‘ خالصتاً ایک قدیمی موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل ہے جو ہر پانچ چھ سال کے وقفہ کے بعد بحرالکاہل کے پانیوں سے جنم لیتا ہے۔ ’’لےنینا‘‘ قطبی بھنوروں (Polar Vortex) کے زیراثر ہواؤں اور بحری پانیوں کے باہمی عمل سے تخلیق پاتی ہے۔
یہ بحرالکاہل کا قدرتی و موسمی مظہر ہے جو زمین کی گردش، سمندر کی گہرائیوں اور شاید سیارہ چاند کے مداری تحرک سے وجود میں آتا ہے۔ اس قدرتی عمل سے مکمل آگاہی شاید اب تک انسان کے بس کی بات نہیں رہی۔ ہاں البتہ انسان مصنوعی ذہانت اور سوفٹ ویئرز کی مدد سے ان موسمیاتی تبدیلیوں، ان کی مدت، شیڈول اور شدت بارے اندازہ (Prediction) تیار کر سکتا ہے تاکہ دریں صورت شدید تباہ کاریوں سے قبل بروقت حفاظتی اقدامات کئے جا سکیں۔ البتہ ماہرین اس پہلو پر بھی ریسرچ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی حدت (Global Warming) علاقائی طور پر El-Nino اور La Ninaکے قدرتی عوامل پر کیسے اثرانداز ہو سکتی ہے۔
حالیہ بارشوں اور سیلاب کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے پاکستان کے اکثر شہروں اور دیہات کی معاشیات اور زراعت پہلے ہی ناگفتہ حالات سے گزر رہی ہے۔ متوقع سخت موسم سرما اور موسمی آلام ملکی اداروں کی Resilient استعداد کو دوبارہ آزما سکتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ موسم سرما کی شدید بارشوں، برف باری یا خدانخواستہ علاقائی قحط سالی کے اثرات کا پیشگی اندازہ لگا کر تدارکی منصوبہ (Mitigation Plan) تیار کر لیا جائے۔ عالمی ادارے کے اشتراک سے تیارکردہ ایک رپورٹ میں یہ انتباہ موجود ہے کہ غیریقینی سرد طوفانوں کی وجہ سے پاکستان میں خریف کی فصلیں بالخصوص گندم کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور متعدی بیماریوں کا زیادہ احتمال ہے۔ اپنے گھروں کو بیرونی ٹھنڈک سے محفوظ کرنے کے لئے انسولیٹ کیا جائے۔ ٹمپریچر قائم کرنے کے لئے محفوظ طریقے اختیار کئے جائیںتاکہ ہوا بند، کوئلہ اور گیس جلنے کی وجہ سے کاربن مانوآکسائیڈ کے اثرات سے بچا جا سکے۔ کسان اپنی فصلوں کو برف باری اور ککر سے محفوظ کر لیں۔ سیاحتی مقامات پر جانے سے پہلے موسم کی پیش گوئی اور شدت کو پیش نظر رکھ کر پروگرام وضع کیا جائے۔ گرم حفاظتی لباس وغیرہ کا بندوبست لازم ہے تاکہ غیریقینی موسمی حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔