پاس رکھے موبائل میں تھرتھراہٹ ہوئی، تو مَیں نے لیپ ٹاپ پر کام کرتے چونک کر دیکھا۔ ’’بھائی کالنگ‘‘ لکھا ہوا آرہا تھا۔ فون اُٹھا کر سلام کیا اور کہا۔ ’’مَیں ابھی آپ کو کال کرنے ہی والی تھی، امّی نے بتایا تھا کہ آپ کو بخار ہے۔‘‘ بھائی کی آواز بھاری ہورہی تھی، گلوگیر لہجے میں کہنے لگے۔ ’’ہاں بیٹا، مَیں ٹھیک ہوں، تم کہاں ہو؟‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’آفس میں۔‘‘
اُس کے بعد وہ اچانک پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔ میرے ہاتھ پیر برف ہوگئے۔ کپکپاتی آواز میں پوچھا۔ ’’کیا ہوا ہے، کیوں رو رہے ہیں.....؟‘‘ مگر بھائی سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا، شدّتِ غم سے صرف اتنا کہہ پائے۔ ’’ابّو چلے گئے۔‘‘ یہ غیر متوقع، اندوہ ناک خبر سُنتے ہی مجھے لگا، سانس بند ہوگئی۔ کیسے لیپ ٹاپ بند کرکے بھاگتی ہوئی آفس سے باہر آئی اور کیسے گھر تک پہنچی، کچھ سمجھ نہیں آیا۔
اُس وقت، بس اتنے حواس بحال تھے کہ ابّو کے پاس جانا ہے۔ گھر پہنچتے ہی نڈھال صوفے پر غم و اندوہ کی کیفیت میں بیٹھی امّی سے پوچھا۔ ’’ابّو کہاں ہیں، اُن کا بسترکیوں خالی ہے۔‘‘ امّی، بس خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھ کر رہ گئیں۔ بعد میں بتایا۔ ’’صُبح سے بالکل خاموش تھے، ایک لفظ نہیں بولے۔
عصر سے کچھ پہلے مَیں نے کہا، آپ کا بی پی لو ہے، کچھ کھالیں، اور پھر سیب کاٹ کر اُن کے منہ میں ڈالا، لیکن وہ خاموشی سے تکتے رہے، یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے فرشتے اُنھیں لینے آچکے تھے، اور بس اِسی طرح میری طرف دیکھتے دیکھتےاُن کی آنکھیں ساکت ہوگئیں۔‘‘امّی کہتی ہیں۔
’’اُس لمحے مجھے لگا، میرے سامنے سے ایک سفید سایہ سا گزرا ہے۔ مَیں فوراً اُٹھ کر تمہارے بھائی کو بلانے بھاگی۔ عصر کی اذانیں شروع ہوگئی تھیں۔ تمہارا بھائی آیا، ابّو کا ہاتھ پکڑا، نبض تھامی، دل کی دھڑکن محسوس کی، لیکن سب ساکت۔‘‘ ابّو ایسے خاموشی سے چلے گئے کہ پتا ہی نہیں چلا۔ وہ جو ہر وقت ایک ہل چل مچائے رکھتے تھے، جاتے ہوئے ایسی خاموشی اختیار کی کہ امّی، جو اُن کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھیں، اُنہیں بھی کچھ علم نہ ہوا۔ نہ جسم میں کوئی اکڑاؤ، نہ جھٹکا، بس دودھ سے بالائی کی طرح، جسم سے رُوح نکل گئی۔
دنیا میں سب ہی پُرخلوص لوگ اپنے پیاروں پرپیار نچھاور کرتے، بے پناہ محبّت لٹاتے ہیں، لیکن یہ جو ’’ابّا لوگ‘‘ ہوتے ہیں ناں، اِن کا تو کوئی نعم البدل ہی نہیں۔ یہ اپنی اولاد کو دنیا میں جینے کا ہُنر ہی نہیں سکھاتے، دنیا سے لڑجانے، اُس کے سامنےڈٹ جانے کا قرینہ بھی سِکھا ڈالتے ہیں۔ ہاں، نہیں سکھاتے، توکُھلے آسمان تلے اپنے بغیر جینے کا طریقہ نہیں سِکھا پاتے۔
آج میرے عظیم والد، ڈاکٹر نثار احمد کو دنیا سے رخصت ہوئے چار برس ہوگئے ہیں، مگر محسوس یوں ہورہا ہے، جیسے چار صدیاں بیت گئیں۔ اُن کی باتیں، یادیں، کسی طور پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ وہ ہر لمحہ، ہر پَل یاد آتے ہیں۔ اُن کا وہ ہر دَم یہی اصرار کہ آ کر ’’شکل دِکھا جاؤ۔ تمہیں میکے آئے اتنے گھنٹے، اتنے منٹ ہوگئے (اُنھوں نے سب حساب کتاب رکھا ہوتا تھا) اب تو آجاؤ۔‘‘
وہ اُن کا جان دار قہقہہ، اُن کے چٹکلے، بچّوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو، چھیڑ چھاڑ، اُن کی ہرمعاملےمیں رہنمائی، چھوٹوں بڑوں سب کی خبر گیری۔ ہر مسئلے کا منٹوں میں حل نکالنے والے، ہمہ وقت ہر ایک کی مدد کو تیار، گھومنے پھرنے کے شوقین، لکھنے پڑھنے کی جنون کی حد تک چسک (سیرتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر متعدد کتابیں اور مقالے لکھے، ڈھیروں صدارتی ایوارڈ جیتے)۔ اُنھیں افواجِ پاکستان کے تحت ہونے والے قومی و ملّی پروگرامز میں سیرت پر تقاریرکےلیےمدعو کیا جاتا۔ علاوہ ازیں، مختلف ٹی وی چینلز پر بےشمار علمی پروگرامز کا حصّہ رہے۔ اُن کی تقاریر اکثر ریڈیو پاکستان سے بھی نشر ہوتیں۔
اُن کی ایک کتاب جاپان کے تعلیمی نصاب میں شامل ہے، جب کہ دنیا بھر میں اُن کی کتب کے پڑھنے اور سراہنے والے موجود ہیں۔ تب ہی پاکستان اور بیرونِ مُلک کے علمائے دین نے اُن کےانتقال کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی رگوں میں دوڑتا تھا اور شاید اُسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اُنھیں زندگی میں بےپناہ عزّت دی، تو موت کےبعد بھی اُن کا کام اُنھیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سیرتِ رسولﷺ پر اُن کی تصانیف، اُن کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں اور اِن شاء اللہ اُن کا یہ کام اُن کی بخشش کا ذریعہ بھی بنے گا۔
بحیثیت ایک باپ، انہوں نےہمیں بےانتہا محبّت اور اعتماددیا۔ اس قابل کیا کہ ہم آج اپنے پیروں پر کھڑے اورعزت سے جی رہے ہیں۔ ابّو نے زندگی بھر اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ ہمیشہ غلط کو غلط کہا۔ دھونس، دھمکیوں کے باوجود حق بات پر ڈٹے رہے اور ہمیں بھی یہی سکھایا کہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دو، خواہ کتنی ہی بڑی مصیبت کیوں نہ آن پڑے۔
الحمدُللہ، یہ ہماری گُھٹّی میں ہے کہ بےشک، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اُن ہی کی تربیت کا ثمر ہے کہ ہم اب بھی تھوڑے کو بہت جانتے اور رزقِ حلال کا حصول عبادت سمجھتےہیں۔ ہم پر اللہ کا احسان ہے کہ اُس نے ہم میں یہ احساس پیدا کیا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ شعور دے رہے ہیں۔ ابّو نے اپنی پوری زندگی قناعت و درویشی میں گزاری۔ زندگی بھر زمین پر بستر بچھا کر سوئے۔ ہمیشہ بسوں میں سفر کیا۔
کراچی یونی ورسٹی میں فیکلٹی آف آرٹس اینڈ کامرس کے ڈین کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود بس ہی سے آیا، جایا کرتے۔ جب بھائی، ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت سے منسلک ہوا، تو اُس نے پہلی گاڑی خریدی۔ وگرنہ امّی، ابّو نے ہمیشہ بہت سادہ زندگی گزاری۔ کبھی کوئی لالچ، حرص و طمع نہیں رکھی۔ نہ کبھی خُودکسی کی خوشامد کرتے اور نہ اپنے لیے پسند کرتے تھے۔ برسوں اُن کی ترقی رُکی رہی، لیکن اُنہوں نے دنیاوی ترقی کو ہمیشہ جوتے کی نوک پہ رکھا۔ اور دنیا نے دیکھا کہ اُن کے انتقال پر اُن کے لیے کہاں کہاں سے تعزیتی پیغامات آئے، کہاں کہاں تعزیتی ریفرنسز ہوئے۔
آج اگرچہ دنیا کی ہر نعمت ہمارے پاس ہے، مگر ابّو نہیں ہیں۔ پر دل کو ایک تسلّی ضرور ہے کہ وہ یہاں سے بہت اچھی جگہ ہوں گے۔ تاہم، اُن کی جدائی کےبعد دل کو قرارنہیں آتا۔ ہر خوشی، ہرغم اُن کے بغیر اُدھورا ہے۔
پہلے کوئی پریشانی ہوتی تھی، تو ابّو کو سب سے پہلے بتاتے تھے کہ وہ روحانی طور پر بھی ایک عالم تھے۔ بہت سے مسائل کی جڑ ڈھونڈ کر فوری حل بتا دیتے۔ اللہ نے اُنھیں علمِ خاص بخشا تھا، تو اُن کی دُعائیں ہمارے لیے کئی راہیں کھول دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اُن کی شخصیت کی کتنی پرتیں تو اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعدہم پر کُھلیں۔
ہم تو ابّو کی کتنی کام یابیوں، اعزازات ہی سے لاعلم تھے، اُن کے لیے تعزیتی ریفرنسز میں جب بڑی بڑی شخصیات نےاُن کی خصوصیات، علمی و ادبی کارنامے بیان کیے، تب ہمیں معلوم ہوا کہ ابّو درحقیقت کتنی بڑی شخصیت تھے۔ کہتے ہیں، جب دستِ شفقت کم ہونے لگیں، تو زندگی کی تلخیاں بڑھتی محسوس ہوتی ہیں۔ ہمیں ابّوکا شفقت بھرا ہاتھ، ہر فکر سے بےنیاز کر دیتا تھا۔ افسوس، اب نہ اُس جُھریوں بَھرے ہاتھ کا لمس میسّر ہے اور نہ ہی وہ رُعب دار آوازکہ’’بیٹا فکرکس بات کی، مَیں ہوں ناں.....‘‘آج ابّو کی چوتھی برسی ہے۔
اُنہوں نے اپنی زندگی بھرپور طور پر گزاری، اللہ نےاُنہیں تمام خوشیاں دکھائیں۔ اپنے انتقال سے ایک دو دن پہلے ہی سوتے سے اُٹھ کرانھوں نے امّی سے کہا تھا۔ ’’بس تیاری کرلو، گھر خالی کرنا ہے، نوٹس آگیا ہے۔‘‘ امّی کہتی ہیں، میرا دل تب ہی سہم گیا تھا کہ یہ ایسی بات کررہے ہیں، توکچھ تو ہے۔ اور وہی ہوا، دو دن بعد وہ بہت سُکون و اطمینان سے گھر، دنیا اور ہمیں بھی خالی کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کامل مغفرت فرمائے اور اُنھیں رسول اللّٰہ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔ (افشاں مراد، کراچی)