• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آیت اللّٰہ خامنہ ای 1 ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید— فائل فوٹو
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید— فائل فوٹو 

امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران پر اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر بننے سے 8 سال قبل ایران کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے اور 9 اکتوبر1981ء سے 16 اگست 1989ء تک ملک کے صدر رہے، جب وہ صدارتی امیدوار تھے تو ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے لیکن اس حملے میں ان کا دائیاں بازو مفلوج ہوگیا تھا۔

27 جون 1981ء کو وہ ایران عراق جنگ کی فرنٹ لائنز سے واپس آنے کے بعد نماز ادا کرنے کے لیے مسجد گئے اور پھر انہوں نے نماز کے بعد اپنے فالوورز کے سوالات کے جوابات دیے۔

اس دوران چیکرڈ کوٹ پہنے ایک درمیانے قد کے گھنگریالے بالوں والے نوجوان نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے سامنے کا غذات کے ساتھ میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر بھی رکھ دیا، تقریباً 1 منٹ کے بعد ریکارڈر سیٹی بجانے لگا اور پھٹ گیا۔

اس حملے میں ان کا دائیاں بازو، ووکل کورڈز اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا تھا۔

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو اس حملے کے بعد صحت یاب ہونے میں کئی ماہ لگے مگر ان کا دائیاں بازو ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ دائیں بازو کو زیادہ تر چادر میں ڈھانپ کر رکھتے تھے۔

اُنہوں نے بازو ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو جانے کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ یہ کہا کہ مجھے ہاتھ کی ضرورت نہیں پڑے گی، اگر میرا دماغ اور زبان کام کرتی ہے تو یہ میرے لیے کافی ہو گا۔

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اس حادثے کے بعد اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھا اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی اندرونی قیادت کے رکن بن گئے۔

خاص رپورٹ سے مزید