تحریر: نرجس ملک
ماڈلز: مہ وش علی ، لائبہ
ملبوسات: فائزہ امجد اسٹوڈیو(ڈی ایچ اے، لاہور)
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
کوآرڈی نیشن: عابد بیگ
عکّاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
بڑی تحقیق و جستجو، سوچ بچار، بحث و تکرار اور لے دے کے بعد ورلڈ کلر اتھارٹی "PANTONE" نے بالآخر ’’کلر آف دی ایئر 2026ء‘‘ کا انتخاب کر ہی ڈالا۔ سالِ رفتہ کے آخری مہینوں میں، سالِ نو کے لیے ایک بہترین رنگ کے انتخاب کے ضمن میں کافی قیاس آرائیاں کی گئیں، بھانت بھانت کے رنگوں، شیڈز سے متعلق آراء طلب کرکے ووٹنگ، سرویز بھی کروائے گئے، لیکن بہرکیف، قرعۂ فال ’’دودھیا سفید‘‘ رنگ کے نام نکلا۔
جسے کمپنی نے تو "Cloud Dancer" کا نام دیا، لیکن حقیقتاً یہ دودھیا سفید رنگ ہی ہے، جس کے انتخاب کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’یہ رنگ امن و آشتی کا پیام بَر ہے اور چوں کہ اِس وقت دنیا جنگوں میں گِھری، ہمہ وقت کئی محاذوں پر سرگرم ہے، تو اِس آگ و بارود کی شدّت و حدّت کو ایسے ہی کسی ٹھنڈے، دھیمے، صلح جُو، سُکون و اطمینان کا احساس دیتے رنگ سے کم یا سرد کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ہمارے لیے تو سفید رنگ سے زیادہ مقدّس و متبرّک، پاکیزہ و پوتّر، سَچّا و سُچّا رنگ کوئی ہو نہیں سکتا کہ یہ ہمارے نبی، حضرت محمّدﷺ کا پسندیدہ ترین رنگ تھا۔
ویسے تو نبیٔ محترمؐ نے سیاہ، سبز اور زعفرانی رنگوں کے ملبوسات بھی زیبِ تن فرمائے، لیکن سفید رنگ آپ ؐ کو بےحد مرغوب تھا اور آپؐ نے خصوصی طور پر مَردوں کے لیے سفید رنگ کی پسندیدگی ظاہر فرمائی۔ اور یہ جو زمانۂ قدیم سے جنگوں میں سیزفائر کے لیے’’سفید جھنڈا‘‘ لہرانے کی روایت چلی آرہی ہے، وہ بھی اِسی سبب ہے کہ ’’سفید رنگ‘‘ ازل سے امن و سلامتی، صلح صفائی، دوستی ومصالحت ہی کا استعارہ ہے۔ یوں کہیے کہ بظاہر یہ رنگ، بےرنگ ہوکر بھی دنیا کے سب رنگوں پر حاوی ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ تمام رنگ ہی تکنے لگے تھے حسرت سے.... سفید رنگ کی اوڑھی جو اوڑھنی مَیں نے۔
بلاشبہ، اِس رنگ کی سُندرتا اور پوتّرتا کا کوئی مول ہی نہیں۔ جب کہ گھنیرے سائے سے اس دبیز رنگ کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کئی گہرے، تیز، شوخ و شنگ رنگوں کا نہ صرف جلال، تیزی و طرّاری کم کرتا ہے (وہ پنجابی زبان میں کہتے ہیں ناں کہ ’’مچ مار دیتا ہے‘‘) بلکہ اپنے جمال سے بے شمار رنگوں کے ساتھ ایک بہترین امتزاج، کامبی نیشن بھی بناتا ہے۔ مثلاً سیاہ رنگ تو اِس کا سدا بہار جوڑی دار ہے ہی، سُرخ، زرد، نیلے، سبز، جامنی، گلابی، فیروزی، مٹیالے، عنّابی، نارنجی، آتشی اور سُرمئی کے ساتھ بھی یہ خوب لگّا کھاتا ہے۔
ماہرینِ رنگ (Colorologists) نے دیگر کئی رنگوں کی طرح سفید رنگ کو بھی کئی شیڈز میں (ہرشیڈ کےایک الگ نام کےساتھ) منقسم کر رکھاہے۔ جیسا کہ اینٹیک وائٹ، بیج، کاسمک لیٹے، کریم، ایگ شیل وائٹ، فلورل وائٹ، گھوسٹ وائٹ، ہنی ڈیو، آئیوری، لیونڈر بلش، مِنٹ کریم، منگولین، نواجو وائٹ، سی شیل، پرل وائٹ، ونیلا، وائٹ اسموک، سنو وائٹ، ایزا بیلن، بلونڈ وائٹ، لینن، لیمن، شیفون، اسپیلشڈ وائٹ اور کلاؤڈ ڈانسر وغیرہ۔ اور کلر ایکسپرٹس کا یہ بھی ماننا ہے کہ دھیمی، پُرسکون، ٹھنڈی روشنی، رُوپہلی چاندنی، بہتی ندی، سپیدۂ سحری، برف کے گالوں، بادلوں کی ٹکڑیوں، گنگناتی آب شاروں، موسیقی کےتاروں اوراوس کے قطروں جیسے اِن ہلکے، اُجلے، دھیمے، نرم وملائم شیڈز کا صرف ملبوسات، ایکسیسریز ہی میں استعمال خوش کُن، خوش آئند نہیں بلکہ یہ ہر ہر شعبۂ زندگی کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوتے ہیں۔
مطلب، گھروں، دفاتر،اہم عمارات کے انٹریئر، ہوم اپلائنسیز، گیجیٹس، راہ داریوں سے سواریوں اور ڈیکوریشن پیسز سے کراکری، حتیٰ کہ بیڈ شیٹس تک دودھیا سفید رنگ کے مختلف شیڈز کا انتخاب عمومی زندگیوں میں راحت وآرام، آسودگی و اطمینان کا احساس اجاگر کرے گا۔ یوں بھی فی الوقت دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ، اشد ضرورت ہے، وہ ذہنی و قلبی و روحانی ’’سکینت‘‘ ہی ہے۔ واضح رہے، ’’سفید رنگ‘‘ سادگی، معصومیت، پاکیزگی کے ساتھ صفائی ستھرائی کی بھی علامت ہےاور پھر یہ رنگ چوں کہ حرارت کو منعکس کرتا ہے، تو اِس کا تاثر ٹھنڈا ٹھار بہت فرحت بخش ہوتاہے۔ نیز، یہ ایک عالم گیر رنگ ہے، تو دنیا بھر کے مفکرین نے اِس سے متعلق اپنی اپنی آراء کا اظہار بھی کیا ہے۔
مثلاً: ’’سفید ایک چمک دار اثباتی رنگ ہے۔ قدرت نے دنیا کو کئی رنگوں سےپینٹ کیا ہے، مگر سفید کے استعمال کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔‘‘، ’’میرے نزدیک سفید دنیا کا سب سے طاقت وَر رنگ ہے، کیوں کہ یہ امن و سلامتی، اُمید و رجا کا دوسرا نام ہے۔‘‘، ’’سفید رنگ اپنی ذات میں کسی فرشتے کی طرح معصوم و مقدسّ ہے۔‘‘، ’’میرے خیال میں سیاہ رنگ تمام رنگوں کی عدم موجودگی، تو سفید رنگ، تمام رنگوں کی موجودگی کی علامت ہے۔‘‘، ’’سفید ایک شفا بخش رنگ ہے، اِسی لیے مَیں سفید چادروں، بستروں اور تولیوں کی بےحد پرستار ہوں۔‘‘،
’’سفید دیواروں والے گھر، رنگین دیواروں والے گھروں سے کہیں زیادہ سُکون بخش، تحفّظ آگیں ہوتے ہیں۔‘‘، ’’اگر وقت ایک رنگ ہوتا ہے، تو مَیں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ آف وائٹ ہی ہوتا۔‘‘ ’’سفید ایک ایسا خالص رنگ ہے، جو ہر رنگ سے میل کھاتا ہے۔‘‘ اور…’’سفید لباس سے زیادہ ورسٹائل کوئی لباس ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک مرد وائٹ ڈریس شرٹ میں جس قدر پُراعتماد اور ڈیسنٹ معلوم ہوتا ہے، کسی بھی اور رنگ کی شرٹ میں ہرگز نہیں۔ اِسی طرح ایک عورت کے لیے سفید لباس سے زیادہ پُروقار اور جاذبِ نظر پہناوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
فیشن انڈسٹری میں سفید رنگ کو ایک ازلی، ابدی، لازوال رنگ کی حیثیت حاصل ہے۔ شاید ہی کوئی دَور ہو، جس میں اِس پر ہر طرح کے تجربات نہ کیے گئے ہوں اور اب تو سالِ نو کے لیے اِس رنگ کو سب سے معتبر و مستند ہی ٹھہرا دیا گیا ہے، تو پھر آپ پر بھی واجب ٹھہرا کہ اپنی وارڈروب میں فوراً سے پیش تر دودھیا سفید یا سفید کے کسی بھی شیڈ کے دوچار ملبوسات تو شامل کرہی لیں۔ کچھ مدد ہمارے آج کےاس دیدہ زیب، انتہائی نفیس و دل کش سے انتخاب سے بھی مل جائے گی۔
جس پہناوے پہ نگاہِ پُرشوق، نظرِ انتخاب جا ٹھہرے، سمجھیں، وہ آپ ہی کے لیے ہے۔ اپنالیں اور پھر خُوب گاتی، اِٹھلاتی پھریں۔ کوئی بےاختیار ہی کہہ اُٹھے گا۔ ؎ رنگت اُسے پسند ہے اے نسترن سفید.... پہنے نہ کیوں، وہ رشکِ چمن پیرہن سفید.... بیٹھے ہیں گِرد سیمتنانِ سفید پوش.... اُس ماہتاب کی ہے تمام انجمن سفید۔ اور…؎ کِھلا ہو باغ میں جیسے کوئی سفید گلاب....وہ سادہ رنگ نگاہوں کو خاص لگتا ہے.... ہوا میں خوشبوئے موسم کہیں سِوا تو نہیں.... وہ پاس ہے، یہ بعید ازقیاس لگتا ہے۔