قدرتی آفات کو’’مکافاتِ عمل‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جو اِس اعتبار سے درست ہے کہ یہ سب ہمارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ مناظرِ فطرت سے چھیڑ چھاڑ، ترقّی کے نام پر غیر دانش مندانہ فیصلے، ارتکازِ دولت میں ناانصافیاں، لُوٹ کھسوٹ اور قانونِ قدرت سے بغاوت وغیرہ اس کا ٹھوس ثبوت ہیں۔ جن ممالک اور علاقوں میں قدرتی نظام سے چھیڑ چھاڑ کم ہے، وہاں قدرتی آفات سے بڑی تباہیاں بھی نہیں ہو رہیں اور نہ ہی اُن معاشروں کو کسی ایسی صُورتِ حال یا پریشانیوں کا سامنا ہے، جو باقی ممالک کر رہے ہیں۔
ایک زمانے میں زلزلوں، طوفانوں، سیلابوں سے لاکھوں اموات ہوتی تھیں اور شہر کے شہر صفحۂ ہستی سے مِٹ جاتے تھے، لیکن متاثرہ ممالک نے سائنسی ترقّی اور معاشرتی اصلاحات کی بنیاد پر اِن مسائل پر بہت حد تک قابو پا لیا۔ وہاں زلزلے اور طوفان تو اب بھی آتے ہیں، تاہم نقصانات ماضی کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
جنوری 2025ء میں تبت میں 6.8شدّت کا زلزلہ آیا، جس سے کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، جب کہ95افراد ہلاک ہوئے۔ اِس زلزلے کے جھٹکے نیپال کے دارالحکومت، کھٹمنڈو اور بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ چند روز بعد جاپان میں بھی 6.8شدّت کا زلزلہ آیا۔ کیوشو کے علاقے، میازائی میں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد ایک میٹر تک بلند سونامی کی لہروں کی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، مگر جاپان میں ہمیشہ کی طرح یہ زلزلہ بھی ’’انسان دوست‘‘ ثابت ہوا کہ اِس سے جانی و مالی نقصانات نہیں ہوئے، البتہ کچھ فوائد ضرور حاصل ہوئے۔ 7فروری کو اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ’’پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سرِفہرست ہے۔
گلیشیئرز تیزی سے پِگھل رہے ہیں، جس سے انڈس ڈیلٹا متاثر ہو رہا ہے اور شعبۂ زراعت سے منسلک افراد کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ لہٰذا، اِس تناظر میں ’’موسمیاتی عدالت‘‘کے قیام کی اشد ضرورت ہے، جس کے ذریعے’’موسمیاتی احتساب‘‘ ہوسکے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کا فوری سدّ ِباب ہو۔‘‘ اُسی ماہ عالمی بینک نے بھی کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں غیر زرعی مقاصد کے لیے پانی کے استعمال میں اضافہ متوقّع ہے اور صُورتِ حال سے نمٹنے کے لیے 10فی صد پانی دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہوگا۔
پاکستان میں سالانہ 4.9فی صد کی بلند شرحِ نمو اور 2047ء تک درجۂ حرارت میں 3ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے پانی کی طلب میں 6فی صد اضافے کا امکان ہے۔ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک دستاویز کے مطابق، غذائی تحفّظ پر سمجھوتا کیے بغیر اِتنی بڑی مقدار میں پانی تک رسائی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے متعلق عالمی اداروں کی پیش گوئیاں ہیں اور دوسری طرف حالات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس ممکنہ قدرتی آفت کا اُس طرح ذکر تک نہیں ہوتا، جیسے ہونا چاہیے۔
ماہ مئی میں یونان میں 6.1شدّت کا زلزلہ آیا، جب کہ جون میں کولمبیا میں 6.3شدّت کے زلزلے سے سڑکوں پر دراڑیں پڑنے کے ساتھ، اِس جنوبی امریکی مُلک میں درجنوں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ مئی میں گلگت بلتستان، چترال، اَپر دیر، سوات اور گمراٹ ویلی میں گلیشیئرز پَھٹنے کے خدشات ظاہر کیے گئے۔ اِس موقعے پر اگلے 48گھنٹوں کے دَوران این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں اور مُلک میں ممکنہ سیلاب کے خطرات کے لیے الرٹ جاری کیا۔ جون میں جنوبی یورپ کے متعدّد ممالک میں شدید گرمی کے باعث درجۂ حرارت 40ڈگری سے تجاوز کر گیا۔ اٹلی، یونان، فرانس، اسپین اور پرتگال سے لے کر کروشیا تک کی پٹّی، شدید گرمی کی لپیٹ میں رہی۔
ماہرین نے ہیٹ ویو کی اِس صُورتِ حال میں آتش زدگی کے خدشات کا بھی اظہار کیا، تاہم حکومتوں کی جانب سے اِس ضمن میں ٹھوس اقدامات کیے گئے، جس کے سبب ایسی صُورتِ حال پیدا نہیں ہوئی۔ 5جولائی کو چیلاس میں درجۂ حرارت 48.5ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا، جس سے 1997ء کے درجۂ حرارت 47.7کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔1971ء میں یہاں درجۂ حرارت 45.6ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین نے اسے مسلسل بدلتے موسمی پیٹرن کا حصّہ بتایا، جو عالمی اور علاقائی ماحولیاتی انحطاط سے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔
اِسی دوران بلوچستان میں مون سون بارشوں سے چھے افراد جاں بحق اور نصف درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، یہ اموات آسمانی بجلی گرنے اور آبی ریلوں میں بہنے کی وجہ سے ہوئیں۔ بلوچستان کے علاقے ژوب، زیارت، کوہلو اور موسیٰ خیل زیادہ متاثر ہوئے۔ زیارت اور ضلع خضدار میں بارشوں سے دو درجن سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ آٹھ جولائی کو چین، نیپال سرحد پر سیلاب سے 8افراد ہلاک اور31لاپتا ہوئے۔
ہمالیاتی پہاڑی وادی اِس سیلاب سے تہس نہس ہوگئی، جب کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں تباہ کُن سیلاب سے 109افراد ہلاک ہوئے۔17جولائی کو اسلام آباد، راول پنڈی اور چکوال میں ندی نالوں میں طغیانی سے 63افراد ہلاک ہوئے۔ اسلام آباد، راول پنڈی میں 230ملی میٹر اور چکوال میں 423ملی میٹر بارش ہوئی۔ بادلوں کے پَھٹنے(کلاؤڈ برسٹ) سے ایک ڈیم ٹوٹ گیا، جب کہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سائرن بجائے گئے۔
جولائی ہی میں گلگت، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں بارشوں نے تباہی مچائی، جہاں مجموعی طور پرہلاکتوں کی تعداد 233بتائی گئی، جب کہ 804سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے۔ کوٹلی اور گردونواح کے دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی سے متعدّد سڑکیں اور پُل تباہ ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے ڈوبتے مکانات اور مویشیوں کی حالتِ زار سے متعلق پوسٹس کی بھرمار رہی۔ اِس طوفانی بارش اور سیلاب سے ایک ہزار 400لڑکوں، جب کہ لڑکیوں کے ایک ہزار، پانچ سو اسکولز کو نقصان پہنچا۔ 850سے زائد دیگر عمارات جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔
گجرات، حافظ آباد، مظفّر گڑھ، نارووال اور ملتان کے اسکولز سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اِن علاقوں میں 500دیہات زیرِ آب آئے۔ اِس موقعے پر متاثرین کے اگست کے بجلی کے بِل وفاق کی جانب سے ادا کرنے کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی زرعی، کمر شل اور صنعتی شعبوں کے بلز کی وصولی مؤخر کر دی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق سیلاب سے تقریباً 500ارب کا نقصان ہوا۔ 2025ء کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کے بڑے سیلابوں میں سے تھا۔ دریاؤں میں دہائیوں بعد پانی کی سطح انتہائی بلند ہوئی۔
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں کسی اعلان یا اطلاع کے بغیر چھوڑے گئے پانی سے صوبہ پنجاب زیادہ متاثر ہوا، تاہم صوبائی حکومت نے ریسیکیو اور بحالی کا کام خاصے منظّم انداز میں کیا۔ پنجاب گزشتہ برس بھی اسموگ کی لپیٹ میں رہا اور ایک موقعے پر صوبائی دارالحکومت، لاہور حسبِ سابق، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا۔ صوبائی حکومت نے اِس ضمن میں متعدّد اقدامات کیے، تاہم اُن کے نتائج رواں برس ہی درست طور پر سامنے آ سکیں گے کہ حکومتی ترجمانوں کے مطابق، گزشتہ برس دیرپا نتائج کے حامل فیصلے کیے گئے۔
سال بَھر ماہرین اپنے تجربات، مشاہدات اور علم کی روشنی میں رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے رہے۔ جون میں سائنس دانوں کی ایک رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیاں خطرناک حدود کو چُھو رہی ہیں۔ زمین کا درجۂ حرارت پہلی بار صنعتی دَور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔ کاربن آلودگی، سطحِ سمندر کی بلندی اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے جسیے اہم موسمیاتی عوامل اب بڑا خطرہ بن چُکے ہیں۔سائنس دانوں نے خبردار کرتے ہوئے نظرثانی رپورٹ میں بتایا کہ فوسل فیول یعنی کوئلہ، تیل، گیس کے استعمال اور جنگلات کی کٹائی سے خارج ہونے والی گرین گیسز بلند ترین سطح پر پہنچ چُکی ہیں۔
پچھلے دس برسوں میں سالانہ 53.6ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج، یعنی فی منٹ ایک لاکھ ٹن تک پہنچ چُکا ہے، مگر پھر بھی دنیا کی80فی صد توانائی ضروریات فوسل فیولز ہی سے پوری کی جارہی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق، چین کے ماحول دوست اقدامات عالمی سطح پر فوسل ایندھن کے استعمال کو دس سال کے اندر کم کر سکتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں چین کی حکمتِ عملی دیگر ممالک کو بھی سَستی، صاف اور محفوظ توانائی کی جانب قائل کر رہی ہے۔ 2025ء کی پہلی ششماہی میں فوسل فیولز کے استعمال میں دو فی صد کمی دیکھی گئی، جس سے چین کی سنجیدگی کی عکّاسی ہوتی ہے۔واضح رہے، دنیا میں فوسل فیولز کا سب سے زیادہ استعمال چین ہی میں ہو رہا ہے، اِسی لیے عالمی برادری اُس سے مؤثر اقدامات کی اپیل کرتی چلی آ رہی ہے۔
ماہِ ستمبر میں ماہرین نے خبردار کیا کہ زمین اپنی معمول کی رفتار سے تیز گھومنے لگی ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے دن بتدریج چھوٹے ہو رہے ہیں۔9جولائی کو دن 1.3ملی سیکنڈ چھوٹا رہا، جب کہ آنے والے دنوں میں 1.4اور 1.5ملی سیکنڈ تک پہنچے کا امکان ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، یہ فرق انسانی جسم کومحسوس نہیں ہوتا، لہٰذا معمولی سی تبدیلی سے بھی بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
برف پگھلنے کے نتیجے میں سمندری سطح کا بڑھنا، زمین کے مختلف حصّوں (پلیٹس) کی حرکت، بڑے زلزلے اور سمندری لہریں، زمین کی گردش کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا، تو گھڑیوں میں بھی تبدیلی لانی پڑے گی۔ ماہرین کے مطابق، زمین کے موسم اب پہلے کی طرح ترتیب میں نہیں چل رہے۔ عام طور پر چار موسم ہوتے ہیں، سرما، بہار، گرما اور خزاں۔ تاہم، سیٹیلائٹ سے 20سال کے مشاہدے کے بعد سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کئی علاقوں میں یہ ترتیب بگڑ چُکی ہے۔ اِن میں کیلیفورنیا، چلّی، جنوبی افریقا، جنوبی آسٹریلیا اور بحرِ روم کے علاقے شامل ہیں۔
27جولائی کو یونان اور تُرکیہ کے جنگلات میں شدید گرمی اور تیز ہواؤں سے آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ ستمبر میں کے پی کے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، جس کی شدّت 5.5تھی۔ ماہِ اگست کے اختتام پر نصف شب کو افغانستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، جس کے نتیجے میں پَلک جھپکتے میں لوگ اپنے خاندان، مکانات اور مال مویشی کھو بیٹھے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے، یونیسیف کے مطابق، اِس زلزلے میں 1172بچّوں کی ہلاکت ہوئی۔
نیز، اقوامِ متحدہ نے 4,57000افراد کو بنیادی امدادی اشیاء فراہم کیں۔ ستمبر میں سیلاب سے انڈونیشیا میں 2جزائر اور 7اضلاع ڈوب گئے، جب کہ 19افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا ہو گئے۔ بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ سیلابی ریلے سے سرحدی باڑ متاثر ہوئی اور 90چوکیاں بھی ڈوب گئیں۔ اِس تباہی نے جہاں روز مرّہ زندگی مفلوج کی، وہیں عوام کو منہگائی کے ریلے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اکتوبر میں اقوامِ متحدہ نے دنیا بَھر کو متنبّہ کیا کہ موسم کی شدّت خطرناک حد تک بڑھ چُکی ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں پانی سے مشروط خطرات کے باعث 20لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ عالمی ادارے نے تمام ممالک سے ایمرجینسی وارننگ سسٹم کے قیام کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے نصف ممالک میں شدید موسم کی پیشگی وارننگ کا نظام موجود نہیں، جب کہ ترقّی پذیر ممالک میں کروڑوں افراد خطرناک موسمی حالات کے باعث غیر محفوظ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 108ممالک میں وارننگ سسٹم فعال ہوگئے ہیں، تاہم 62ممالک کے جائزے سے ثابت ہوا کہ اُن کے پاس صرف بنیادی نوعیت ہی کی صلاحیت موجود ہے اور اُنھیں عالمی اصولوں کے تحت وارننگ سسٹم اَپ گریڈ کرنا ہوگا۔ 3نومبر کو افغانستان کے شہر، مزار شریف میں 6.3شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں 12افراد جاں بحق اور 150زخمی ہوئے۔
2025ء کی پہلی ششماہی میں قدرتی آفات کے باعث 135ارب ڈالرز کا عالمی معاشی نقصان ہوا۔ جنوری میں لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کو اب تک کی سب سے بڑی’’بیمہ شدہ جنگلاتی آگ‘‘ قراردیا گیا۔ مارچ میں میانمار میں آنے والے زلزلے کو بھی بڑے قدرتی سانحات میں شمار کیا گیا، جس کے جھٹکے تھائی لینڈ، بھارت اور چین تک محسوس کیے گئے۔ اِس زلزلے سے صرف تھائی لینڈ میں 1.5ارب ڈالرز کے بیمہ شدہ نقصانات بتائے گئے۔
نومبر میں ایران کے صدر، مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ اگر مُلک میں جلد بارشیں نہ ہوئیں، تو دارالحکومت تہران کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں شہر خالی کروانے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ اِس قحط سالی کو مُلک کے لیے سنگین ترین قدرتی چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا۔ نومبر میں افغانستان میں 6.3شدّت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے مزار شریف اور دیگر شہروں میں محسوس کیے گئے۔
اِس زلزلے میں 12افراد جاں بحق اور 150لوگ زخمی ہوئے، جب کہ مکانات کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ برازیل کی ریاست، پارانا میں طوفانی بگولوں نے قیامت ڈھائی۔ 250کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے ریو بونیٹو شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ نومبر میں جاپان میں 6.7شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس کے بعد ایک میٹر تک اونچی سونامی لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ اِس دوران پاکستان نے اقوام ِمتحدہ میں مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کو فنڈز، امداد کی صُورت دئیے جائیں۔
کوپ-30میں فوسل فیولز کے استعمال میں کمی کے منصوبے کی 80ممالک نے حمایت کی۔16نومبر کو جاپان کے مغربی جزیرے، کیوشو کور میں ایک آتش فشاں پَھٹنے سے 4.4کلومیٹر تک دھواں اور راکھ کے بادل چھا گئے، جس کی وجہ سے کئی پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ 2019ء میں اِس آتش فشاں نے 5.5کلو میٹر تک دھواں اور راکھ فضا میں خارج کی تھی۔
اِسی دوران ایتھوپیا کے علاقے، افار میں ایک بڑے آتش فشاں کے اچانک پَھٹنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ 12ہزار سال پرانے آتش فشاں کے دوبارہ پَھٹنے کے نتیجے میں فضا میں دھواں پھیل گیا۔ یہ آتش فشاں 500میٹر بلند ریکارڈ ہوا اور آگ 14کلو میٹر کی بلندی تک بلند ہوئی۔ اِس آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ اور دھویں کے شمالی پاکستان، یمن، عمان اور بھارت تک پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے گئے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نئی ماحولیاتی اور موسمیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہڑپا اور موہن جو دڑو کا زوال دراصل آب وہوا میں بڑی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ درحقیقت، دنیا کو سمجھنے میں انسان کو زمانے لگے ہیں اور اِس وقت بھی بہت سے معاملات اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ اِس کی اصل وجہ اُس کی کوتاہیاں، نالائقیاں، لالچ اور تکبّر ہے، جسے قدرت ہرگز پسند نہیں کرتی۔
پانی کے راستوں پر آبادیاں بسانا، زلزلہ زون میں ناقص منصوبہ بندی کے تحت تعمیرات اور دولت کے ناجائز ذرائع سے دل چسپی جیسے عوامل قدرتی آفات کی راہ ہم وار کرتے ہیں۔ نتیجتاً، ہر برس ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن رہے ہیں، جب کہ مالی تباہی کے اعداد و شمار بھی اربوں، کھربوں میں ہیں۔ ایسے میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمی برادری، خاص طور پر ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے ممالک، اپنی ذمّے داری محسوس کرتے ہوئے زبانی کلامی دعووں کی بجائے، عملی اقدامات پر توجّہ دیں تاکہ انسانیت سُکھ کا سانس لے سکے۔