حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکل 89/2 کے تحت آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی۔
اس سے پہلے وزیراعظم نے یہ آرڈیننس منظوری کے لیے صدر کو بھجوایا تھا، صدر نے 15 دن تک اس پر دستخط نہیں کیے، جس کے بعد یہ خود بخود نافذ العمل ہو گیا تھا۔
قومی اسمبلی میں آج پیپلز پارٹی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر احتجاج کیا۔
پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ پہلی بار حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس کی صدر نے منظوری نہیں دی، اس قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بنتے، پی پی پی نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے واضح کرتا ہوں جب تک صدر توثیق نہ کریں ہم اس کو نوٹیفائی نہیں کرتے۔
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کو اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس پر اعتراض ہے، یہ آرڈیننس صدرمملکت کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا۔