• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا امریکا ایران پر جوہری حملے کی تیاری کر رہا ہے؟ نیواڈا بیس پر پراسرار زلزلوں نے سوالات کھڑے کر دیے

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

کیا امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے جا رہا ہے؟ امریکی ریاست نیواڈا میں واقع ایک خفیہ فوجی اڈے کے قریب آنے والے پراسرار زلزلوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق خفیہ فوجی تنصیب کے اطراف تقریباً 16 درمیانے درجے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، یہ علاقہ عام طور پر ایریا 52 کے نام سے جانا جاتا ہے، جو مشہورِ زمانہ ایریا 51 کے قریب واقع ہے، ایریا 51 طویل عرصے سے خلائی مخلوق سے متعلق نظریات کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ٹونوپاہ ٹیسٹ رینج (Tonopah Test Range) سے 50 میل کے دائرے میں 100 سے زائد زلزلے جیسی سرگرمیاں نوٹ کی گئیں، یہ مقام کئی دہائیوں سے امریکی فوج کی جانب سے تجرباتی تحقیق اور جوہری تجربات کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

ریکارڈ کیے گئے جھٹکوں کی شدت 1.0 سے 3.0 کے درمیان رہی، ماہرین کے مطابق زیرِ زمین جوہری دھماکوں کی صورت میں عموماً 4.0 سے 6.0 یا اس سے زائد شدت کے زلزلے ریکارڈ ہوتے ہیں، جن کا انحصار ہتھیار کی طاقت اور زمین میں اس کی گہرائی پر ہوتا ہے۔

یہ پراسرار جھٹکے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے تحت بڑے پیمانے پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے بڑی لہر ابھی آنی باقی ہے۔

ادھر امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والا معاہدہ نیو اسٹارٹ بھی اپنی مدت پوری کر چکا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اسلحے کی دوڑ میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

تاحال امریکی حکام کی جانب سے نیواڈا میں آنے والے ان زلزلوں کو جوہری سرگرمی سے جوڑنے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں ان واقعات نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید