سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر احتجاج، تدریسی امور کے بائیکاٹ اور بلاول ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے لیے علیحدہ وزارت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سپلا کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی نائب صدر خرم رفیع اور خاتون نائب صدر شبانہ افضل کا کہنا ہے کہ سندھ کے کالجز حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب روز بروز کھنڈر بنتے جا رہے ہیں، کلاس رومز میں بچوں کے لیے ٹوٹی ہوئی بینچز، سوئیپرز کی کمی کے سبب صفائی کے ناقص انتظامات ہیں۔
فرنیچر کی کمی، لائبریرییز اور لیبارٹریز کی خراب صورتحال ہے، انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرمیڈیٹ کمپیوٹر سائنس کے لیے آج تک سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے کوئی کتاب شائع نہیں کی، اسی طرح کامرس کے حوالے سے بھی تا حال کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔
سپلا رہنماوں نے پیر کو ایس ایم آرٹس و کامرس کالج میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ 2017 میں ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ سے محکمہ کالج ایجوکیشن کو علیحدہ کر دیا گیا تھا، ہر حکمے کا ایک الگ وزیر ہوتا ہے لیکن محکمہ کالج ایجوکیشن کا کوئی علیحدہ وزیر نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ کے کالج اساتذہ کو احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ، صوبائی اسمبلی میں اس بات کا اعلان بھی چکے ہیں کہ سندھ کے کالج اساتذہ کی ترقیوں میں بہت سی مشکلات ہیں جس کے سبب ہم ان کو صوبہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فائیوٹیئر فارمولا دے رہے ہیں مگر تاحال ہمیں فائیوٹیئر فارمولا نہیں دیا گیا۔
انھوں نے اقربا پروری اور سفارشی کلچر کو فروغ دینے کے سبب پہلے سے پرنسپل اور اساتذہ کے جبری تبادلے کی مذمت کی۔
سپلا رہنماوں نے کہا کہ مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک کا شیڈول جاری کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کا آغاز 15 جنوری کو کراچی ریجن کے تمام کالجز سے کیا جائے گا، 19 جنوری کو سکھر ریجن کے تمام کالجز میں جبکہ 21 جنوری کو حیدر آباد ریجن کے تمام کالجز میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
انھوں نے کہا اس کے بعد بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو پھر 22 جنوری کو سکھر ریجن میں، 29 جنوری کو حیدر آباد ریجن میں جبکہ تین فروری کو کراچی ریجن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
پھر بھی مطالبے نہ مانے گئے تو پھر 9 فروری کو سندھ بھر کے تمام کالجز میں تعلیمی و تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس کے بعد 12 فروری کو بحالت مجبوری بلاول ہاؤس کراچی میں سندھ بھر کے کالج اساتذہ دھرنا دیں گے۔
انھوں نے کہا منصفانہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی کا اجراء کیا جائے، کالجز میں غیر تدریسی عملہ کی کمی کو فوری دور کیا جائے، کالجز کے انفراسٹرکچر، فرنیچر اور لیبارٹریز میں آلات کی کمی کو ختم کیا جائے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت کمپیوٹر سائنس، کامرس اور آرٹس کی درسی کتب کا اجراء کیا جائے۔
اقربا پروری اور سفارشی کلچر سے ہٹ کر میرٹ پر مستقل پرنسپلز/ ڈی ڈی اوز کی تعیناتی کی جائے، منجمد الاؤنسز کی مہنگائی کی شرح کے تناسب سے بحالی یا نظر ثانی کی جائے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنسز کا اجرا کیا جائے۔