سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں 4 سال کی کم ترین سطح پر ہیں، پھر بھی معاشی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔
ایک بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے باوجود برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار ہے، پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں امریکی ٹیرف میں رعایت سے فائدہ نہ مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی بجلی اور گیس کی بلند شرحیں برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے، صنعتکاروں کی وارننگ درست ہے، توانائی پالیسیاں سوالیہ نشان ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت 8 ڈالر میں ایل این جی خرید کر صنعتوں کو 15 ڈالر میں بیچ رہی ہے، رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ پاکستانی برآمدات میں 8 اعشاریہ7 فیصد کمی ہوئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دسمبر میں برآمدات میں تشویشناک 20 اعشاریہ 4 فیصد سالانہ کمی ریکارڈ ہوئی جبکہ تجارتی خسارہ 34 اعشاریہ 6 فیصد اضافے کے ساتھ نصف سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ عالمی تیل کی قیمتیں 4 سال کی کم ترین سطح پر ہیں پھر بھی معاشی ترقی نہیں ہو رہی، غیر معمولی عالمی اور ادارہ جاتی امداد کے باوجود حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام ہے۔