• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی مانے یا نہ مانے سچ یہ ہے کہ پاکستان کو عام لوگوں نے نہیں بلکہ کچھ بہت خاص لوگوں نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ یہ خاص لوگ وی آئی پی کہلاتے ہیں لیکن سعید مہدی کی آپ بیتی کئی وی وی آئی پی لوگوں کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔ جب انہوں نےسول بیورو کریٹ کے طور پر اپنی نوکری شروع کی تو پاکستان پر ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت تھی ۔ سعید مہدی کے سامنے قائد اعظم کا پاکستان ٹوٹ گیا اور انہوں نے پاکستان کو توڑنے میں وی وی آئی پی لوگوں کے کردار کو بہت قریب سے دیکھا ۔ اسی لئے اُنہوں نے اپنی کتاب کا نام THE EYEWITNESS یعنی عینی شاہد رکھا ہے۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگایا تو سعید مہدی راولپنڈی کے ڈی سی تھے۔ انہیں حکم دیا گیا کہ جیل جاؤ اور گرفتار وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہو کہ جنرل ضیاء کے نام معافی کی اپیل لکھے۔ سعید مہدی نے حکم کی تعمیل کی اور جیل جا کر بڑے مودبانہ انداز میں ڈکٹیٹر کا پیغام ایک گرفتار وزیر اعظم تک پہنچا دیا۔ گرفتار وزیراعظم نے بڑی شاہانہ تمکنت سے ڈی سی راولپنڈی کو پوچھا آپ میرا نام جانتے ہیں؟ سعید مہدی نے بتایا آپ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ گرفتار وزیراعظم نے پوچھا آپ میرے باپ کا نام جانتے ہیں؟ سعید مہدی نے جواب دیا جی آپکے والد کا نام سر شاہنواز بھٹو ہے۔ گرفتار وزیر اعظم نے پوچھا کہ ڈکٹیٹر کا کیا نام ہے؟ ڈی سی راولینڈی کا جواب تھا جنرل ضیاء الحق۔گرفتار وزیر اعظم نے پوچھا اُسکے باپ کا کیا نام ہے؟ سعید مہدی نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔ گرفتار وزیر اعظم نے کہا کہ شاید وہ کسی مولوی کا بیٹا ہے۔ مسٹر ڈپٹی کمشنر سر شاہنواز بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو کسی مولوی حق کے بیٹے جنرل ضیاءالحق کے نام رحم کی اپیل لکھ کر اُسے ذہنی سکون فراہم نہیں کرے گا۔ چند دن کے بعد اس گرفتار وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔ کئی سال کے بعد جس دن جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تو سعید مہدی انہیں کمشنر کے طور پر الوداع کہنے والے آخری شخص تھے ۔ جس دن جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں ایک اور منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو سعید مہدی وزیراعظم کے سیکرٹری تھے۔ انہیں وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ دو سال جیلوں میں رہے۔ جس طرح وہ ایک ڈکٹیٹر کا پیغام لیکر گرفتار وزیراعظم کے پاس جیل گئے تھے اب ایک اور ڈکٹیٹر انہیں گرفتار وزیراعظم کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کیلئے اپنے پیامبر جیل میں بھیج رہا تھا۔ سعید مہدی نے وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ مشرف حکومت نے کوشش کی کہ یہ آدمی نواز شریف کیخلاف گواہی نہیں دیتا تو نیب کے پاس زیرتفتیش ایک پرانے مقدمے میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن جائے ۔ سعید مہدی نے بے نظیر بھٹو اور زرداری صاحب کیخلاف گواہی دینے سے بھی انکار کر دیا ۔ کچھ برسوں کے بعد 2008ء میں آصف زرداری اور نواز شریف نے ملکر جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ سعید مہدی کی کتاب مشرف جیسے طاقتور وی وی آئی پی لوگوں کے عروج و زوال کی کہانی ہے اور اسی لئے کتاب کے صفحہ 236پر انہوں نے حبیب جالب کا یہ شعر لکھا ہے

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقیں تھا

سعید مہدی نے ایک بیوروکریٹ کے طور پر جو کچھ دیکھا وہ لکھ دیا۔ کارگل کی جنگ کے بارے میں انہوں نے جو لکھا وہ نیا نہیں۔ جنوری 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے مجھ سمیت چار صحافیوں کو اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا لیکن ہم اسے آف دی ریکارڈ سمجھ کر خاموش رہے ہمیں نہیں پتہ تھا وزیراعظم اس پورے آپریشن سے لاعلم تھے۔ سعید مہدی نے کتاب کے آخر میں ایک ایسے واقعے کا ذکر کر دیا ہے جو پاکستان کی تاریخ پر کسی احسان سے کم نہیں ۔ اس واقعے کا تعلق کراچی کے موہاٹا پیلس کی ملکیت سے ہے۔ سعید مہدی نے قیام پاکستان کے بعد کراچی کے پہلے ڈی سی سید ہاشم رضا کے حوالے سے لکھا ہے کہ 14 اگست 1948 ء کو پاکستان کے پہلے یوم آزادی پر گورنر جنرل ہاؤس میں ایک تقریب تھی۔ یہاں سیٹھ شیورتن موہاٹا بھی مدعو تھے- تقریب ختم ہونے پر وہ قائد اعظم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ انہیں موہاٹا پیلس واپس کیا جائے کیونکہ انہیں رہائش کیلئے اسکی ضرورت ہے۔ قائداعظم نے اُن سے پوچھا کہ موہاٹا پیلس آپ سے کس نے لیا ؟ سیٹھ صاحب نے بتایا کہ ڈی سی کراچی نے اُن سے یہ گھر لیکر وہاں وزارت خارجہ کے دفاتر قائم کر دیئے ہیں ۔ قائد اعظم نے سیٹھ صاحب کو جواب دیا کہ میں براہ راست ڈی سی کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتا لیکن آپ ڈی سی کے باس کمشنر کراچی کے نام ایک اپیل بھجوائیں۔ بعد میں قائد اعظم نے ڈی سی کو تجویز کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ سیٹھ شیورتن موہاٹا سے اُن کا گھر خرید لے تا کہ گھر کا مالک کچھ رقم حاصل کر کے اپنے لئے متبادل رہائش کا بندو بست کر سکے۔ سید ہاشم رضا نے قائد اعظم کو بتایا کہ اس گھر کی قیمت بہت زیادہ ہے اور حکومت کے پاس یہ قیمت ادا کرنے کیلئے فنڈز موجود نہیں۔ قائداعظم نے ڈی سی سے کہا حکومت موہاٹا پیلس کو خریدنے کی تیاری کرے کیونکہ وہ اس عمارت کی قیمت اپنی جیب سے ادا کرینگے۔ قائداعظم نے موہاٹا پیلس کی قیمت اپنی جیب سے ادا کی ۔ کیا آج کا کوئی وی وی آئی پی پاکستان کیلئے اپنی جیب سے کوئی جائیداد خریدے گا؟ جنرل ایوب خان کے دور میں دارالحکومت کراچی اسلام آباد منتقل ہو گیا ۔ بعد میں محترمہ فاطمہ جناح کو بمبئی میں اُنکی جائیداد کے عوض موہاٹا پیلس کراچی الاٹ کیا گیا۔ یہیں پر اُنکی پراسرار موت واقع ہوئی ۔ سعید مہدی نے لکھا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے سامنے کمشنر کراچی سید دربار علی شاہ نے بیان دیا کہ جب وہ مادر ملت کی موت کی خبر سن کر موہاٹا پیلس پہنچے تو اُنکی گردن پر تشدد کے نشانات تھے اور اُنکا سرخون میں ڈوبا تھا ۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ وہ باتھ روم میں پھسل گئی تھیں جسکی وجہ سے اُنہیں زخم آئے ۔ پولیس نے اپنی نگرانی میں اُنکی جلدی جلدی تدفین کردی تھی۔ سعید مہدی نے سوال اُٹھایا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت کی انکوائری رپورٹ ہم کہاں سے تلاش کریں ؟ سعید مہدی افسوس کیساتھ لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب خان کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دینا پاکستان کی تاریخ کا سب سے مایوس کن واقعہ تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف کہاں تک جا سکتا ہے۔ مادر ملت کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے جنرل ایوب خان کیخلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیاجس پر انہیں انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا ۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ قائد اعظم خوش قسمت تھے کہ پاکستان بننے کے بعد صرف ایک سال تک زندہ رہے اگر وہ مزید زندہ رہتے تو کیا پتہ وہ بھی کسی بہت برے انجام سے دو چار ہو جاتے ۔ سعید مہدی کی کتاب چیخ و پکار نہیں کرتی بلکہ آپکے کانوں میں ہلکی پھلکی سر گوشیاں کرتی ہے کہ پاکستان کو اصل خطرہ باہر کے دشمنوں سے نہیں بلکہ ان وی وی آئی پی لوگوں سے ہے جو اقتدار کے نشے میں مخمور ہو کر آئین توڑنے اور کارگل آپریشن جیسے فیصلے کرتے ہیں ۔ کوئی اختلاف کرے تو اسے غدار قرار دیدیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کو وی وی آئی پی لوگوں کی حماقتوں سے محفوظ رکھے۔

تازہ ترین