• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رنگ، روشنی اور احساس کی دنیا میں رچی ادب کی خوشبو، عالمی اردو کانفرنس کا 18 سالہ سفر

ایک گلابی شام ، عام شاموں سے مختلف بکھیرتے دھنک رنگ آنچل میں سمیٹے، پھولوں کی خوشبوؤں کو اپنے دامن میں لیے کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان کے بام و در میں ایسی اُتری کہ ڈھلتا چاند بھی احساس نہ دلا سکا کہ شام ختم ہوئی جاتی ہے۔ دیواروں پر آویزاں تصاویر یاداشتوں کے درمیان کہکشاں دار چلتے چلتے اٹھارویں برس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ یہ 25؍دسمبر کی شام تھی عام تعطیل کے باوجود اہل قلم، اہل فکر کے ساتھ اردو ادب کے ہی نہیں اردو صحافت کے چمکتے ستارے بھی تھے، جن کے قلم برسوں سے دل و دماغ کو روشن کررہے ہیں۔

رونقیں جہاں ادب سے زندہ تعلق کی گواہی دے رہی تھیں وہیں کراچی کے زندہ دل ہونے کا پتا بھی دے رہی تھیں۔ آرٹس کونسل کے محدود ستونوں اور وسیع میدان کے چہار سُو کتابوں کی خُوش بُو رچی بسی تھی، بک اسٹالوں پر پڑھنے لکھنے والے بھی نظر آرہے تھے اور خریدار بھی۔ 

جنگ مگ کرتا منظر نامہ شہر کراچی کی ان شاموں کو بھی یاد کررہا تھا، جب اُداسی، ویرانی اور موت کے سائے منڈلاتے رہتے تھے، آج یہی شہر پرندوں جیسی خوش رنگ خواہشوں کے ساتھ اڑانوں کا سفر جھوم جھوم کر طے کررہا تھا، ایسا سفر جس میں ماضی، حال اور مستقبل کے ساتھ بدلتے موسموں کے رنگ اور وقت کے چاک پر بنتے بگڑتے چہروں کے خدوخال دکھائی دے رہے تھے۔

ان چہروں میں بے ادب دور میں ادب کی چاشنی بھی نظر آئی اور ثقافت کی قوس و قزح میں زندگی کے ہر شعبے اور علوم و فنون کے تقریباً تمام گوشوں سے نسبت رکھنے والے آرٹس کونسل کے احاطے سے ایڈیٹوریم تک سیلفیاں بناتے، ہنستے مسکراتے، چہرے بھی۔ یہ 18ویں عالمی اردو کانفرنس کا افتتاحی سیشن تھا، جس میں سیاسی رنگ بھی نمایاں تھا اور محسوس کچھ یوں ہورہا تھا کہ، آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ نے جہاں اردو کے بکھرے موتیوں کو عالمی سطح پر ایک لڑی میں پرودیا ہے، مختلف زبانیں بولنے والوں کو گلے لگایا اور لگوایا بھی، دنیا بھر کی ثقافتوں سے متعارف بھی کرایا، اب کانفرنس میں سیاسی رنگ جما کر سیاست دانوں کو بھی گلے لگواکر لڑائی جھگڑا ختم کرادیں گے لیکن اس کے لئے ’’سیاسی کانفرنس‘‘ کا آغاز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

عالمی اردو کانفرنس میں سیاسی رنگ غالب آتا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو ، ادیب بھی سیاست کی نذر ہوجائیں۔ بہر حال یہ آنے والا وقت بتائے گا ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں ،بقول شاعر مبارک صدیقی؎

ادب کی لذت ، دعا کی خوش بُو ، بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے

بات ہورہی ہے18ویں عالمی اردو کانفرنس کی، جسے’’ جشن پاکستان ‘‘کا نام دیا گیا۔ گرچہ ہر سال کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ناظرین کو گزشتہ سالوں کی ڈاکیو منٹری دکھائی جاتی ہے لیکن 18ویں کانفرنس میں بنائی گئی جو ’’شو ریل‘‘ پیش کی گئی اسے دیکھ کر شرکاء افسردہ ہی نہیں ہوئے ، روئے بھی۔

اسکرین پر بیشتر وہ چہرے نمایاں تھے، جو اب زمین پر نہیں ہیں،احمد شاہ کی آواز بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔ مشتاق احمد یوسفی، شمیم حنفی، فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین اور فرمان فتح پوری جیسی قدآور شخصیات تو ڈھونڈے گے ملکوں ملکوں،پھر بھی نایاب ہوں گی۔ افتتاحی سیشن میں تو انور مقصود کی کمی بھی شدت سے محسوس کی گئی، ناسازی طبع کے باعث کانفرنس میں شرکت نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ انہیں زندگی دے آمین۔

18ویں کانفرنس نےحال کو ماضی سے ایسا جوڑا کہ ایک طرف کراچی کی اُداس شامیں دل و دماغ سے چپکی رہیں تو دوسری طرف کانفرنس کی رنگا رنگ تقاریب، جن میں علم و ادب کے ہیرے موتی ایسے جگمگائے کہ،آئینہ بدل گیا،دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کھل کھلا اُٹھا۔

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام…قارئین! یاد کریں سال 2008کا وہ دن جب احمد شاہ نے کراچی آرٹس کونسل کے پہلے منتخب صدر کا عہدہ سنبھالا تھا، اسی سال انہوں نے پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا ،اس کانفرنس میں مختلف ادبی، سماجی ،ثقافتی اور معاشرتی موضوعات پر، مختلف سیشنز منعقد ہوں گے۔ 

ایک طرف علامہ اقبال، نون میم راشد،فیض احمد فیض ، جون ایلیا اور یوسفی صاحب جیسی عظیم ادبی شخصیات کے فن اور ان کے بارے میں مذاکرے ہوں گے تو دوسری طرف آج کے ادیب و فنکار اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور عالمی سطح پر اس کے فروغ کو یقینی بنانا، ادبی و سماجی پہلوو ں پر تحقیق، مقالات اور تخلیقی کلام پیش کرنا ہے، نہ صرف یہ بلکہ آج کے ادیب وفن کار اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے، پھر ایسا ہی ہوا۔

کانفرنس کا پہلا سال اہل کراچی کا چہرہ روشن نہیں تھا، گزشتہ سالوں میں جو کچھ اس شہر میں ہورہا تھا، اس سے خوف کی فضا تھی، کچھ اہل قلم نے آتے ہوئے ہزار بار سوچا ہوگا کہ زندگی عزیز ہے تو نہ جانا ہی بہتر ہوگا، لیکن جو نہ آئے انہیں دوسرو ں کی زبانی اس شہر کی زندہ دلی کا پتا چلا کہ اردو کانفرنس نے اُودھم مچا دیا، جو نہ آسکا اس نے ویڈیو پیغام دیا، یوں اس کانفرنس میں سرحد پار ادیب بھی مل گئے اور کراچی کا کھلکھلاتا چہرہ بھی سب کو نظر آگیا۔

پہلی کانفرنس نے ایسا رنگ جمایا کہ جو آیا وہ کہہ کر گیا، اگلے سال پھر بہار دیکھنے آئیں گے۔ ہر گزرتے سال دائرہ وسیع ہوتا گیا، پاکستان سے ہی نہیں دنیا بھر سے ادیب ایسے کھینچے چلے آئے جیسے برسوں کی پیاس بجھا رہے ہوں ، سرحدوں کی قید رہی نہ زبانوں کا فرق، مشرق سے مغرب تک جولوگ کبھی اردو سے نابلد تھے ، اس کی چاشنی کو گھول کر ایسے پیا کہ، اب اس سے محبت کرنے والوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی مشاعروں نے بھی قربتیں بڑھا دیں، فاصلے مٹا دیئے، جس کے سائے میں پل کر ایک پوری نسل جوان ہوگئی، ان برسوں میں تخلیق کاروں کے ساتھ تصویروں کا البم بھی مرتب ہوگیا، یاداشتوں کے کیمرے میں بہت سی جذباتی، خوب صورت اور روشن تصویریں بھی سما گئیں، سچ بیانی یہ ہے کہ، یہ کانفرنس ایک روایت بن چکی ہے، جس میں دنیا بھر سے اردوداں شریک ہوتے ہیں، ایک چھوٹا سا پودا درخت بن چکا ہے، جس کے سائے میں ہر رنگ نسل کے لوگ آ کر بیٹھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اب عالمی اردو کانفرنس میں گزشتہ چند سال سے جنگ اور جیو کا تعاون بھی شامل ہے ۔

25 دسمبر 2025ء کو چار روزہ 18 ویں عالمی اردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا انعقاد ہوا۔ مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے سرانجام دیئے۔ صدر آرٹس کونسل، احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا’’ جب میں آرٹس کونسل کاصدر بنا تو شہر میں کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا، جو ادب اور ثقافت کے لیے کام کرے۔ ہم نے یہ کام اس وقت کیا، جب شہر میں نفرت کی آگ لگی ہوئی تھی، تب ہم نے سوچا کہ کوئی تو ہو جو محبت کی بات کرے اور پھر محبت کے سوتے پھوٹتے گئے، لوگ آتے رہے، قافلے بنتے رہے۔

دنیا کو فتح کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ثقافت ہے، جو تحاریر، نغمے، فنون، موسیقی کے سُر کی طاقت ہے، اس کا اثر دیر سے ضرور ہوتا ہے، مگر تادیر قائم رہتا ہے۔ ہمارے پاس یہی ہتھیار ہیں۔ اردو کانفرنس ایک کہکشاں ہے۔ یہاں ادیب، شاعر، فن کار سب جمع ہوتے ہیں آج بھی جمع ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور رہنا بھی چاہیے۔ معروف شاعر افتخار عارف نے مختصر خطاب میں کہا، کوئی بھی شخص جو اپنی مادری زبان سے محبت کرتا ہے یہ ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کی مادری زبان سے محبت نہ کرے۔ ہم سے زیادہ کسی نے اس زبان کے مسئلے پر نقصان نہیں اُٹھایا۔ 

ادیب و نقاد ناصر عباس نیئر نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا، ادب صرف نئی ہیئتیں، نئے اسالیب ، نئے موضوعات، نئی زبان ہی تخلیق نہیں کرتا، نئی جگہیں بھی تخلیق کرتا ہے، اور کبھی کبھی تو ایک نیا زمانہ بھی۔ ادب اور فنون بلاشبہ اپنی ایک مقامیت رکھتے ہیں، اور مقامی شناخت بھی مگر ان کی گفتگو تمام عالم سے بھی ہوا کرتی ہے۔ ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم ادب کی ایک قابل ِ فخر روایت رکھنے کے باوجود ، عالمی سطح پر اپنی کوئی ادبی شناخت نہیں رکھتے۔

غالب، اقبال ، منٹو ،قرة العین حیدر، انتظار حسین، عبداللہ حسین، شوکت صدیقی، فیض اور کچھ دوسرے ادیب، مغرب میں جنوبی ایشیائی مطالعات کا حصہ ہیں یا دولت ِ مشترکہ کے ادب میں ان کانام آتا ہے، مگر یہ سچ ہے کہ اردو کا کوئی ادیب، دنیا بھر میں اس طرح نہیں پڑھا جاتا، جس طرح یورپ وامریکا کے یا پھر لاطینی امریکا، افریقا، چین، جاپان اور کوریا کے ادیب پڑھے جاتے ہیں۔

ہم توقع کرسکتے ہیں کہ یہی جگہ ، ہمارے ادب کو عالم کی سیر کرانے والا پرندہ بنانے میں مددگار ہوگی۔ یہیں احمد شاہ، عالمی ثقافتی میلے کی مانند، عالمی ادبی میلہ بھی منعقد کریں گے۔ دنیا کے سیکڑوں ملکوں کے ادیب، ہمیں اپنی کہانیاں اور ہم انھیں اپنی کہانیاں اور شاعری سنائیں گے۔ گویا عالم کے ادب کے لیے ایک نئی جگہ اور ایک نئی اکالوجی پیدا ہوگی ہے۔

مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک جانب رکھتے ہوئے کہا،میرے اے ڈی سی نے لکھی ہے،میں فی البدیہہ خطاب کروں گا۔ گورنر سندھ نے کہا، کراچی منی پاکستان ہے، اس کی روح آرٹس کونسل ہے اور اس میں روح پھونکنے والا شخص، احمد شاہ۔ جو لوگ شوریل میں دکھائے گئے،ان کی کوئی مثال نہیں ملتی، سب نے اپنے اپنے کام کر کے چلے جانا ہے، احمد شاہ نے آنے والی نسل کے لئے ایک راستہ بنایا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی زبان کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ 

اگر عالمی کانفرنس یہ توازن برقرار رکھ سکی تو یقیننا یہ سال کی محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو کی زندہ تارریخ بنے گی، جو بن بھی گئی ہے۔ گورنر کے خطاب کے بعد بانی پاکستان کی سالگرہ کے ساتھ 18 ویں عالمی کانفرنس کا کیک کاٹ کر افتتاحی تقریب اختتام پذیر ہوئی اور سیشن کا آغاز ہو گیا۔ آرٹس کونسل کے احاطے مٰیں ’’جناح اور آج کا پاکستان‘‘ کے عنوان سے سیشن ہوا، جس سے افتخار عارف،جاوید جبار،غازی صلاح الدین،اور سہیل وڑائچ نے خطاب کیا۔

چار روزہ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر صبح سےرات گئے تک سیشنز ہوئے، ہر موضوع اپنی جگہ اہمیت کاحامل تھا۔عالمی مشاعرہ بھی ہوا،قوالی بھی۔فن کار بھی آئےاور طلبا نے بھی شرکت کی۔ ادبی، تحقیقی اور تنقیدی نشستیں منعقد ہوئیں۔ کتابوں کی رونمائی، تقدیسی ادب، بچوں کا ادب، سندھی ادب، شعرا، ناول نگاروں پر گفتگو، ٹی وی کا سفر اور ڈیجیٹل میڈیا جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے، عدنان صدیقی اور بشری انصاری سے ملاقات نے خوب رنگ برسائے۔ ذیل میں چند سیشن کا مختصر احوال ملاحظہ کریں اور کچھ پیاس بُجھائیں۔

’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘

کانفرنس کے دوسرے دن، ایک خاص سیشن، فیض احمد فیض کے مشہور مصرعے ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ کے عنوان سے منعقدہوا۔ یہ سیشن صرف اس لیے خاص نہ تھا کہ اس کا تعلق فیض کے کلام سے تھا، یہ اہمیت اپنی جگہ لیکن اس میں شریک وہ عہد ساز شخصیات تھیں، جنہوں نے فیض کو نہ صرف پڑھا بلکہ ان کے ساتھ وقت گزارا،ان کے عہد میں سانس لیا۔ افتخار عارف، زہرہ نگاہ اور فیض صاحب کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی سے زیادہ فیض صاحب کو کون جان سکتا ہے، پھر ارشد محمود کی نظامت نے سیشن کو دو چند کردیا۔

وہ یادوں کے خزانے لٹاتے رہے۔ سیشن کا آغاز ہوا تو نظم سے لیکن ایک پورا عہد تازہ ہوگیا۔ ’’لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے‘‘ جب موسیقی کی دھن پر اسکرین پر چلی تو شرکائے محفل ہم آواز ہوگئے۔ اس لمحے ایسا محسوس ہوا، فیض ایک بار پھر حال میں داخل ہوگئے، ساتھ اقبال بانو بھی، جنہوں نے اس نظم کو بہت خوب صورت انداز سے گا کر نظم کا حق ادا کر دیا۔ 

افتخار عارف نے نظم کے پس منظر کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا، اس نظم کی جڑیں اپنی مٹی میں پیوست ہیں، اسی لیے یہ آفاقی ہے۔ زہرا نگاہ نے کہا، فیض اقبال کو سمندر سمجھتے تھے،جہاں دریا آکر گرتے تھے، فیض فرد نہیں معاشرہ ہیں۔ سلیمہ ہاشمی نے کہا،جدید مصوری ہو یاشاعری،گہرائی میں اُتریں تو سیاست کے نقوش لازما ملتے ہیں، فیض اسی گہرائی کا نام ہیں ۔

کشمیر کا مزاحمتی ادب

اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس کے ایک سیشن “کشمیر کا مزاحمتی ادب” نے اس وقت دلچسپ صورت اختیار کر لی جب عین وقت پر اطلاع ملی کہ مہمانِ خصوصی مشال ملک اپنی مصروفیات کے باعث سیشن میں شریک نہیں ہو سکیں گی، یوں ہنگامی صورتِ حال میں صدرِ آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ،بشیر احمد سدوزئی کو اظہارِ خیال کی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے سیشن پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوئے کہا، عالمی اردو کانفرنس کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کشمیر پر باقاعدہ ایک سیشن رکھا گیا۔ 

یہ دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کچھ خطے محض جغرافیہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ، دکھ اور مسلسل جدوجہد کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ کشمیر بھی ایسا ہی ایک نام ہے، جہاں صدیوں سے بہتا ہوا لہو صرف مزاحمت کی سیاست نہیں بلکہ ایک مستقل ادبی روایت کو جنم دیتا رہا ہے اور جہاں مزاحمت ہو گی، وہاں مزاحمتی ادب بھی پروان چڑھے گا۔ 

جموں و کشمیر کے عوام 1886ء کے بعد سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، یہ جدوجہد بندوق سے پہلے لفظ میں ڈھلی اور لفظ سے پہلے آنسو میں۔ کشمیر کے آخری خود مختار بادشاہ یوسف شاہ چک کو مغل شہنشاہ اکبر کی جانب سے سفارتی آداب کے خلاف ہندوستان کے دورے کی دعوت پر بلا کر گرفتار کیا گیا، اور اسی سانحے کے پس منظر میں ملکۂ کشمیر حبہ خاتون کی مزاحمتی شاعری سامنے آئی۔ 

یہ اس تسلسل کی ابتدائی اور روشن مثال ہے، جہاں اقتدار کے جبر کے مقابلے میں ایک عورت کی آواز تاریخ بن گئی۔ جموں و کشمیر کے عوام نے اسی روز سے مزاحمت بھی شروع کی اور مزاحمتی ادب کی ابتدا بھی، ملکہ کشمیر حبہ خاتون کی شاعری سے ہوئی، جو پہلے سے شاعرہ تھیں، مگر بادشاہِ کشمیر کی گرفتاری کے بعد ان کی شاعری نے باقاعدہ مزاحمتی رنگ اختیار کیا۔ ہم نے حبہ خاتون کو برصغیر کی پہلی خاتون مزاحمتی شاعرہ قرار دیا، یہ محض ایک ادبی دعویٰ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ کشمیر کی مزاحمت میں عورت محض متاثرہ فریق نہیں، بلکہ ایک متحرک کردار رہی ہے۔

آج جب آسیہ اندرابی سمیت 32 سے زائد کشمیری خواتین بھارتی جیلوں میں بند ہیں اور مزاحمتی تحریک کا حصہ ہیں تو یہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی شعوری تربیت کا ثمر ہے۔ محمود احمد ہاشمی کی رپورتاژ “کشمیر اداس ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے بشیر سددوزئی نے کہا کہ جو بھی اسے پڑھتا ہے، خود کو 1947ء کے بانیال کے قصبے میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ 

کشمیر کی سب سے بڑی تاریخی کتاب “راج ترنگنی” 1100 صفحات پر مشتمل ایک منظوم تاریخ ہے، جو 1148ء میں پنڈت کلہن نے سنسکرت شاعری میں تحریر کی۔ اگرچہ اس میں راجاؤں اور مہاراجاؤں کا تفصیلی ذکر ہے، مگر اسے مزاحمتی ادب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ گویا برصغیر میں مزاحمتی ادب کے تصور کے اُبھرنے سے بہت پہلے کشمیر میں یہ روایت پروان چڑھ چکی تھی۔

میر، غالب اور اقبال کے تناظر میں مزاحمت کی تفہیم نے یہ واضح کیا کہ جبر جب بھی اور جہاں بھی ہو، ادب اس کا فطری ردِعمل ہوتا ہے۔ میر کا انسانی وقار، غالب کی ہوسِ زر کے خلاف بغاوت، اور اقبال کا سامراجی نظام پر فکری حملہ، یہ سب کشمیر کے مزاحمتی ادب کے فکری رشتے دار ہیں۔ یہ تمام دلائل اس سوال کا قطعی جواب ہیں کہ کیا ادب مزاحمت کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ کشمیر نے ثابت کیا کہ جب تاریخ لکھنے کی اجازت نہ ہو، تو شاعری خود تاریخ بن جاتی ہے۔

اردو تحقیق و تنقید کی نشست

اس سیشن میں تحقیقی مقالے،تنقیدی زاویے اور نئے سوالات پیش کئے گئے،نقاد،اور اسکالرز اپنی فکری کاوشوں کے ساتھ سامنے آئے۔اور یہ احساس نمایاں رہا کہ زبان صرف اظہار کا نہیں بلکہ سماجی شعور کی تشکیل کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہے۔اس نشست میں دو شخصیات، شان الحق حقی اور وحید قریشی پر، رؤف پاریکھ نے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا، انگریزی کی پہلی باقاعدہ لغت لکھنے والے سیمویل جانسن نے اپنی لغت کے لیے اصول طے کیا تھا کہ کسی لفظ کے کوئی معنی نہیں جب تک اس کے استعمال کی سند کسی شاعر یا ادیب کے ہاں نہیں ملتی اور لغت میں اندراج کے لیے وہ سند درکار ہے۔

شان الحق حقی نے بھی انھی اصولوں کو اردو لغت بورڈ کی لغت کی تدوین کے لیے اپنایا۔حقی صاحب شاعر بھی تھے، مترجم، نقاد، محقق بھی لیکن لغت نویسی اور لسانیات پر ان کا کام زیادہ نمایاں ہے، انہوں نےاردو لغت بورڈ کے لیے سترہ سال بغیر کسی معاوضے کے کام کیا۔ بورڈ کی لغت جو باون برسوں اور بائیس جلدوں میں مکمل ہوئی اس میں حقی صاحب کا حصہ سب سے نمایاں تھا۔ان کے ذہن میں ہر وقت لغت کا خیال رہتا تھا۔ 

ایک بار بیگم کے ساتھ شاپنگ پر گئے تو حقی صاحب کو یاد آیا کہ فلاں لفظ لغت میں درج کرنا ہے، اس کی سند کے اشعار بھی انھیں یاد آگئے۔ چنانچہ گاڑی اسٹارٹ کی اور لغت بورڈ کے دفتر پہنچ کر کام شروع کردیا۔ جب رات ہوگئی تو انھیں یاد آیا کہ بیگم کو شاپنگ کرتا چھوڑ آئے ہیں۔ بھاگم بھاگ مارکیٹ پہنچے تو تمام دکانیں بندہوچکی تھیں اور سناٹا تھا۔ 

گھر پہنچے تو بیگم موجود تھیں ، انھوں نے اطمینان سے کہا کہ میں ٹیکسی لے کر گھر آگئی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ کو لغت یاد آگئی ہوگی اور مجھے بھول گئے ہوں گے۔ حقی صاحب کے بیٹے شایان حقی بتاتے ہیں کہ ابا کو کسی بچے کے بارے میں یہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کس کلاس میں پڑھتا ہے۔ حقی صاحب نے لغت کے لیے بیوی بچوں کو بھی بھلا دیا تھا۔

وحید قریشی،معروف استاد،نقاد اور محقق بھی تھے۔ اردو ادب کے علاوہ فارسی اور تاریخ پر بھی گہری نظر تھی اور اپنے تحقیقی و تنقیدی کاموں میں فارسی اور تاریخ کے علم سے بہت فائدہ اٹھایا۔ ان کی تحریروں کی سب سے نمایاں خاصیت یہ ہے کہ وہ لگی لپٹی نہیں رکھتےتھے، اکابر کی خامیوں پر بھی کھل کر لکھا۔

18عالمی اردو کانفرنس بہ عنوان ’’جشن پاکستان‘‘ کےساتھ محض ادبی نہیں فکری بھی تھی۔ نسل نو کا انداز،اُن کا جوش و خروش بتا رہا تھا،ابھی کچھ لوگ ہیں جہاں میں جنہیں اپنی زبان سے ہی نہیں اپنی روایات سے بھی لگاؤ ہے، یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ اردو زبان ہمارے شاعروں کی، رابطے کی اور محبتوں کی زبان ہے۔

چار روزہ کانفرنس میں شاعروں نے بھی محفل لوٹی اور قوالوں نے بھی۔ اگلے سال یہ کانفرنس کس طمطراق سے اپنے رنگ دکھائے گی، اس کا انتظار اُن سب کو رہے گا جو اس میں شرکت کرتے ہیں اور شاید جنیرشن زی بھی کچھ نہ کچھ تو کرنے کا سوچے گی…

اسپیشل ایڈیشن سے مزید