’’بیٹا ابھی تم خوب پڑھو، جوان ہو اچھی تعلیم حاصل کرو۔ ترقی کرو پھر جب 85 سال کے ہو جاؤ تو شہادت کا رتبہ حاصل کر لینا۔‘‘یہ الفاظ اور مکالمہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ایٰ کا ایک سات۔ آٹھ سال کے بچے سے جو شوق شہادت میں سوال کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر دھوم مچا گیا بعد میں کئی ٹی وی چینلز نے بھی اسے خوب چلایا۔ یہ انداز گفتگو خود ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
جو سکون ان کے چہرے پر عیاں تھا صرف ایک نئی ہر ویڈیو میں وہ بذات خود بتا رہا تھا کہ آخر ایران اپنے بدترین معاشی بحران، جنگی صورتحال میں وہ بھی دنیا کی دو ’’بدمست ہاتھی‘ کی مانند دنیا کو اپنی طاقت کے نشے میں روندنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی صدر نیتن یاہو سے مقابلہ کرتے ہوئے بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے اپنی زمین کی حفاظت میں برسرے پیکار ہیں۔
شہادت کے معنی ان سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا شائد یہیں وجہ ہے کہ اس نے اپنے مشیروں اور سکیورٹی کی اس وارنگ کے باوجود کے آپ کی زندگی کو خطرہ ہے کسی بھی ’’بنکر‘‘ میں جانے سے انکار کر دیا اور ان سے کہا ’’کیا میرے عوام بھی کسی بنکر میں ہیں جو میں چھپ جائوں ایسے میں اگر میں شہید ہوگیا تو اس سے بڑا رتبہ اور کیا ہو سکتا ہے۔‘‘ یوں آیت اللہ خامنہ ایٰ نے شہادت حاصل کر کے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ آج شہید آیت اللہ زندہ آیت اللہ سے زیادہ خطر ناک ہو گیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ایٰ کی زندگی پر اگر نظر ڈالیں تو وہ پوری جدوجہد سے عبارت ہے۔ وہ شاہ ایران کے خلاف مختلف تحریکوں کا حصہ رہے اور پورے ایک سیاسی اور تحریکی عمل سے گزر کر پہلے دکن پارلیمنٹ بنے، پھر صدر اور 1989 کے بعد سے سپریم لیڈر۔
وہ انتہائی پڑھے لکھے، زبان خاص طور پر فارسی پر مکمل عبور حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پہلے ایرانی شہر مشہد جہاں ان کی پیدائش ایک مذہبی و عملی گھرانے میں ہوئی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر ’قم‘ کا رخ کیا جسے شیعہ دینی تعلیم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی سے بھی ان کی ملاقاتیں یہیں رہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کے خطابات میں سیاسی بیداری اور مذہبی شعور کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے اور ان کی یہیں خوبی ان کے آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوئی۔
گوکہ 60کی دہائی میں ایرانی صدر مصدق کے خلاف اور بعد میں شاہ ایران کے خلاف ایران کی کمیونسٹ پارٹی تودہ کا اہم کردار رہا ہے مگر ایران میں ہمیشہ سے علماء کرام کم ہی ’دربار شاہ‘ میں گئے اور شاہ کے خلاف امام خمینی کو قیادت میں تحریک نے زور پکڑا اور گو کہ امام خمینی پیرس میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے مگر انہوں نے ایران کے اسلامی انقلاب میں قائد کا کردار ادا کیا، جس میں اگر اہم ترین رہنماؤں کے ساتھ آیت اللہ خامنہ ایٰ کا بھی صف اول کا کردار رہا۔
ہر انقلاب کی طرح ایرانی انقلاب میں بھی کئی نازک موڑ آئے اور اندرونی سیاسی کشمکش نظر آتی ہے جس کا شکار انقلاب ایران کے کئی کردار، دانشور اور علمی شخصیات بھی ہوئے۔ مگر اس سب کے باوجود ’انقلاب‘ بچ گیا۔1979 میں ایرانی انقلاب کامیاب ہوا اور شاہ رضاپہلوی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
وہ ایران جو کبھی اس خطے میں امریکی مفادات کا محافظ تھا وہاں امریکی مخالف انہتا پسند حکومت قائم ہوئی اور یہ ابتدا تھی ایک نئے ورلڈ آڈر کی جس نے خطے اور خاص طور پر مشرق وسطح میں کی عرب ممالک میں خاص طور پر جہاں جہاں بادشاہتیں ہیں خوف و حراس پھیلا دیا۔ یہ کم و بیش وہی بیانیہ تھا جو 1917 میں دوسری انتہا پر نظر آتا ہے۔ جس روس میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا جس نے امریکہ سمیت دنیا کو پریشان کر دیا اور مغربی جمہوریت کو اس کے اثرات محسوس ہونے لگے۔
اب ایران ایک نئی اسلامی جمہوری نظام قائم ہوا اور وہ دراصل سامراج مخالف ’رجیم چینج‘ تھی یعنی بادشاہت سے اسلامی جمہوری تک۔ آیت اللہ خامنہ ایٰ جو پہلے ہی انقلاب کی جدوجہد میں اپنا کردار منوا چکے تھے اب انقلاب کے بعد اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار تھے ا ور امام خمینی ان سے خاصہ متاثر بھی تھے۔
اب ہماری جمہوریت یا سیاست کی طرح وہاں کوئی لوٹا کریسی، نام کی چیز تو ہوتی نہیں لہٰذا عہدہ اور وزارت امارت ہونی کو ملی جو جدوجہد کا حصہ رہے اور پہلی بار آیت اللہ خامنہ ایٰ کو رکن پارلیمنٹ کے لئے نامزد کیا گیا۔ چونکہ ایران میں ہر پانچ سال بعد نئی پارلیمنٹ اور نیا صدر منتخب ہوتا ہے تو آیت اللہ خامنہ 1981 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے اور پھر 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد ایک خلا پیدا ہوا جس کے بعد ایران کی سب سے اہم ’مجلس خبرگاہ‘ نے آیت اللہ خامنہ ایٰ کو ایران کا سپریم لیڈر نامزد کیا اور وہ منتخب ہوئے جو عہدہ ان کی شہادت تک برقرار رہا۔
اب امکان یہی ہے کہ ’مجلس خبرگاہ‘ اس ناطے نئے سپریم لیڈر کو نامزد کرے گی۔آیت اللہ خامنہ ایٰ شہید کا دور خاصہ ہنگامہ خیز رہا۔ چونکہ ایران میں پارلیمنٹ کے ہونے کے باوجود سپریم لیڈر کے پاس غیر معمولی اختیارات ہوتے ہیں سپریم لیڈر کے ہونے کے ناطے جس میں مسلمہ افواج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ساتھ ریاستی و خارجی امور میں بھی سپریم کمانڈر کی رائے مقدم سمجھی جاتی ہے۔
لہٰذا اگر ہم ان کے دور کا جائزہ بحیثیت صدر اور بعد میں سپریم کمانڈر کے تو نظر آتا ہے کہ وہ کوئی آسان دور نا تھا ایران، عراق جنگ سے لے کر امریکہ کے ساتھ نیو کلیئر پروگرام شروع پر شدید اختلافات ہے جو آخر میں امریکہ۔ اسرائیل کا ایران میں بزدلانہ حملے تک۔
عراق کے ساتھ جنگ تو پانچ سال سے زیادہ چلی جس کا آنے والے وقت میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کو حاصل کیا ہوا اور اس کے پس پردہ کردار کون تھے۔ تاہم امام خمینی کا اسرائیل کے خلاف ’فتوا، ایران کی خارجہ پالیسی کا جز رہا ہے اور یہ ہی خوف اسرائیل کو مارے جا رہا ہے۔
خامنہ ایٰ کے دور میں ایران نے کئی سیاسی اتار چڑھائو دیکھے اور پہلی بار ایران، ’اصلاح پسند‘ اور ’قدامت پسند‘ جیسی اصطلایں سامنے آئیں اور گروپس بھی جو بظاہر ایران میں مسلسل ایک انتخاب کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور ایک وقت میں اصلاح پسند حاوی بھی نظر آئے۔ ایران میں بہرحال مغربی پارلیمانی نظام نہیں ہے نا ہی آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ کا وہ تصور ہے لہٰذا ایران کو اس کے موجودہ نظام کے تناظر میں ہی دیکھنے کی ضرورت ہے اور دیکھنا چاہیے۔
آیت اللہ خامنہ ایٰ تقریباً تین دہائیوں سے ایران کی سیاست کا مرکزی کردار رہے ہیں انہوں نے خود ایک عام ایرانی کی طرح سادہ طرز زندگی اپنائی جو ویسے بھی آپ کو ایرانی قیادت میں نظر آئے گی اگر یقین نا آئے تو وہ ویڈیوز دیکھ لیں جب ہمارے جیسے ’امیر ملک‘ کے صدور اور وزرائے اعظم ایران جاتے ہیں نا لاکھوں روپیہ کا صوفہ نا ہی بڑی بڑی گاڑیاں اور گھر۔خامنہ ایٰ آخر وقت تک اپنے اصولی موقف پر قائم رہے اور انہی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
خامنہ ایٰ کو شہادت ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ان کی زندگی ایک ایسے شخص، عالم کی زندگی ہے جس نے مدرسہ سے اپنا سفر شروع کیا۔ سیاسی جدوجہد کا حصہ بنے۔ تحریک ایرانی انقلاب میں صف اول کا کردار ادا کیا اور مختلف منصب سے ہوتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر بنے اور یہ عہدہ بھی انہوں نے اپنی عوام کے لئے وقف کر دیا اور اپنے ہی عوام کے درمیان رہتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبہ پر پہنچے۔
یہ آج کی دنیا کی بدقسمتی ہے کہ آج ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور نریندرہ مودی جیسے لوگ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اقوام متحدہ نا اقوم نظر آ رہی ہے اور ناہی متحدہ۔ ایسے میں آیت اللہ خامنہ ایٰ جیسے لوگوں کی شہادت سے نیا سپریم لیڈر تو آ جائے گا مگر شائد اس خلا کو پر کرنے میں دہائیاں لگیں جو خامنہ ایٰ کی شہادت سے پیدا ہوا ہے۔