مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں مسلمان بنایا، حضور اکرم ﷺ کا امتی بنایا، اور پھر ایسے اعمال، ایسے مواقع اور ایسا زمانہ عطا فرمایا ہے کہ ان میں اگر تھوڑی سی بھی عبادت کر لی جائے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا بہت زیادہ اجر اور ثواب عطا فرماتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان المبارک ہمیں عطا فرمایا، اور رمضان میں ایک نفل ادا کی جائے، نفلی کام کیا جائے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ثواب فرض کے برابر عطا فرماتے ہیں۔ اور ایک فرض اس میں ادا کیا جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ 70 فرائض کے برابر اس کا اجر اور ثواب عطا فرماتے ہیں۔
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر۔ مرتبے والی اور عظمت والی رات۔ اس رات میں اگر آدمی عبادت کر لے اور صحیح معنوں میں اس رات کو عبادت، ذکر اور نیکی میں گزار لے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ہزار سال سے زیادہ نیکی کرنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ ایک ہزار سال آدمی عبادت کرتا رہے، اس کا ثواب اتنا نہیں ملتا جتنا اس ایک رات کو عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ یہ عظمت والی رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
جو لوگ اعتکاف کے لیے بیٹھے ہیں، ان کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ شب قدر ہمیں مل جائے۔ اور یہ مل گئی تو الحمد للہ ہمارا بیڑا پار ہے۔ مل بھی جائے اور صحیح معنوں میں اس کو ہم گزار بھی لیں تو ہمارا بیڑا پار ہے۔ اسی کی تلاش کے لیے آپ ﷺ نے اعتکاف فرمایا تھا۔ اعتکاف کے فضائل اپنی جگہ، مقصد ہے: لیلۃ القدر کا حاصل کرنا۔ آپ ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں شب قدر نہیں ملی، دوسرے عشرے کا اعتکاف کرو۔
دوسرے عشرے کا اعتکاف فرمایا۔ پھر فرمایا مجھے بتایا گیا کہ یہ شب قدر آخری عشرے میں ہے، تو جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کر رہے ہیں وہ آخری عشرے کا اعتکاف کریں۔ اس طرح پورا مہینہ آپ ﷺ نے شب قدر کی تلاش میں اعتکاف فرمایا۔ اور پھر آپ ﷺ نے امت کو پیغام دیا:تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ‘‘ لیلۃ القدر کو تلاش کرو آخری عشرے میں، اور اس کی بھی طاق راتوں میں۔
وہ طاق راتیں ہیں: 21، 23، 25، 27، 29۔ فرمایا کہ ان راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو۔اس کی علامات آپ ﷺ نے بتائی ہیں کہ وہ رات بڑی معتدل ہوتی ہے۔ نہ اس میں گرمی اور نہ اس میں ٹھنڈک۔ اس رات چاند بالکل کھلا ہوا ہوتا ہے، اور صبح جب سورج نکلتا ہے تو بغیر شعاع کے، جیسے روشنی پھیلی ہوئی ہوتی ہے، اس طرح روشنی نہیں ہوتی اور اس رات کوئی ستارہ آسمان پر نہیں ٹوٹتا۔ اور فرمایا کہ جب طاق رات ہوتی ہے تو سلیم قلب والے، جن کا دل نیکی کی طرف متوجہ رہتا ہے، ان کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے، دعاؤں میں خوب جی لگتا ہے۔ عام حالت میں دعا کرنا بڑا بوجھ بن جاتا ہے، حالانکہ کچھ وقت نہیں گزرتا۔ لیکن اس رات میں جب آدمی دعا کرتا ہےتو دعا میں اس کا جی لگتا ہے، اور دل میں ایک رقت پیدا ہوتی ہے، از خود اللہ کے سامنے رونے کا جی چاہتا ہے۔ یہ علامت ہے اس بات کی کہ یہ شب قدر ہے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب یہ رات ہوتی ہے حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام مع فرشتوں کے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔ اور جو آدمی کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا، لیٹا ہوا، اللہ کا ذکر کر رہا ہوتا ہے، اللہ کی عبادت میں مشغول اور مصروف ہوتا ہے، فرشتے آ کر اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے دل میں اطمینان اور اس کے دل میں یہ رقت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ کو یہ رات بتائی گئی،آپ ﷺ صحابہ کو بتانے کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے کہ اپنے صحابہ کو بتاؤں کہ آج شب قدر ہے۔ جب آپ باہر تشریف لائے، تو دیکھا دو آدمی آپس میں جھگڑا کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے جب ان کو دیکھا، تو اس کی تعیین کہ یہ فلاں رات ہے، آپ ﷺ سےاٹھا لی گئی۔ آپ واپس چلے گئے۔صبح آپ ﷺ جب تشریف لائے تو فرمایا کہ رات میں آیا تھا، اطلاع دینے کے لیے کہ فلاں تاریخ کو شب قدر ہے، لیکن فلاں اور فلاں آپس میں لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے اللہ نے یہ تعیین اٹھا لی۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے جہاں اور باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ لڑائی اور جھگڑا بہت زیادہ خیر اور بھلائیوں سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ آدمی جب جھگڑا کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سی خیریں اس سے اٹھا لیتے ہیں اور آدمی خیروں سے محروم ہو جاتا ہے۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو آدمی خیر سے محروم کر دیا گیا، وہ ساری بھلائیوں سے محروم کر دیا گیا۔ اور یہ آدمی "محروم" لکھا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جہاں رمضان المبارک میں اور اسی طرح شب قدر میں لوگوں کی مغفرت کا اعلان کیا جاتا ہے، روزانہ رمضان میں روزانہ رات کو دس لاکھ آدمیوں کی اللہ مغفرت فرماتے ہیں۔ اور جب آخری رات ہوتی ہے، پورے رمضان میں جتنے لاکھ لوگ جہنم سے آزاد ہوئے، جن کی مغفرت ہوئی، اس ایک رات میں اتنی تعداد میں اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف فرماتے ہیں، انہیں جہنم سے خلاصی عطا فرماتے ہیں۔
لیکن چند لوگ ایسے ہیں کہ جن کی پورے رمضان میں بھی مغفرت نہیں ہوتی، اور اس آخری رات کو بھی ان کی مغفرت نہیں ہوتی، ان میں سے ایک آدمی جھگڑا کرنے والا بھی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو معاف نہیں فرماتے۔ فرشتوں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس کی مغفرت کا اعلان نہیں کرنا، جب تک کہ یہ اس کے ساتھ صلح نہ کر لے۔
اعتکاف کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کے گھر میں آئے ہیں تو طے کر کے جائیں کہ آج کے بعد ہم کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہےکہ ایک آدمی کا دوسرے پر حق تھا۔ اور وہ چاہتا تو لے سکتا تھا۔ لیکن جھگڑے سے بچنے کے لیے، حق پر ہوتے ہوئے بھی، حق پر ہونے کے باوجود، جھگڑے سے بچنے کے لیے وہ اپنے حق کو چھوڑ دیتا ہے، فرمایا میں اس کو جنت کے بیچ میں گھر دلانے کی ضمانت دیتا ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لیلۃ القدر کی تعیین اٹھا لی، اس میں بھی اللہ نے بڑی حکمتیں رکھی ہیں۔ ایک حکمت تو یہ ہے کہ اگر تعیین ہو جاتی کہ آج لیلۃ القدر ہے تو ہر آدمی اس رات کو عبادت کرتا اور گویا اس انہماک سے دوسرے دنوں میں نہ کرتا۔ ہمارا دین پورے سال عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد ہے:أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ ۔اللہ کو وہ عمل محبوب ہے جو ہمیشہ ہو چاہے وہ تھوڑا کیوں نہ ہو۔علماء نے لکھا ہے کہ کسی عمل کے مقبول ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس عمل کے بعد دوسرے نیک عمل کی توفیق مل جائے۔ اور عمل کرنے کے بعد آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی نظر آئے۔ ایک بھائی پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا، اعتکاف میں بیٹھا، مسجد میں بیٹھا، اب پکا نمازی بن گیا۔ تو سمجھ لو کہ اس کا یہ اعتکاف قبول ہو گیا۔ اللہ کے ہاں یہ اعتکاف قبول ہے۔
کوئی بہن اعتکاف میں بیٹھی ہے اور اس کے بعد اسے نماز پابندی کے ساتھ پڑھنے کی توفیق مل گئی، تو یہ بہن بھی سمجھ لے کہ اس کا اعتکاف قبول ہے۔ ایک حکمت یہ ہے کہ اگر ایک رات متعین ہوتی تو لوگ اسی رات عبادت کرتے آگے پیچھے عبادت چھوڑ دیتے۔ ایک حکمت یہ بھی رکھی ہے کہ جب اللہ نے اس کو چھپا دیا تو لوگ اس کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے۔ 21 کو بھی ، 23 کو بھی، 25 کو بھی، 27 کو بھی، 29 کو بھی۔
لیلۃ القدر تو ایک رات میں ہوگی، لیکن ہمیں پانچ راتوں میں عبادت کرنے کا ثواب اضافی مل جائے گا۔ اور اگر متعین ہوتی تو پانچ راتوں کا ہمیں ثواب نہ ملتا۔ ایک وجہ یہ بھی ہےکہ اگر یہ ایک ہی رات ہوتی اور آدمی کسی وجہ سے اس رات عبادت نہ کر سکتا، تو سارا سال افسردہ رہتا کہ مجھ سے یہ رات چھوٹ گئی۔ جس طرح لیلۃ القدر میں عبادت کرنے سے ہزار مہینوں سے زیادہ کا اجر و ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس رات میں اگر گناہ کیا جائے، تو اس کی سزا بھی اتنا زیادہ ملتی ہے۔
مسجد سے باہر شرارت کرنا اتنا برا نہیں جتنا مسجد کے اندر شرارت کرنا برا ہے۔ اسی طرح شب قدر اگر متعین ہوتی اور ایک ہی رات ہوتی، اس رات میں کوئی ایسا جھگڑا کرتا تو اس کی تباہی یقینی تھی۔ اللہ نے اس سے بھی بچایا ہے۔ حدیث میں آتا ہے جب تک آدمی مسجد میں ہوتا ہے، باوضو ہوتا ہے، نماز کے انتظار میں رہتا ہے، اللہ کے فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں: "اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ۔" (یا اللہ اس کی مغفرت فرما، یا اللہ اس پر رحم فرما)۔
فرشتے دعا کر رہے ہیں۔ اور اللہ پاک ان کی دعائیں قبول فرماتے ہیں۔ اعتکاف کرنے والا بھی درحقیقت نماز کا انتظار کر رہا ہے۔ حضور ﷺ کی ایک حدیث ہے، قیامت والے دن اللہ پاک سات لوگوں کو عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائیں گے۔ جس دن اللہ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ ان میں ایک وہ آدمی بھی ہے کہ جو ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں رہتا ہے۔
اعتکاف کرنے والا، ظہر پڑھ لی تو عصر کے انتظار میں ہے۔ اور عصر پڑھ لی تو مغرب کے انتظار میں ہے۔ اور مغرب پڑھ لی تو عشا کے انتظار میں ہے۔ جب نمازوں کا یہ انتظار کر رہا ہے تو اللہ کی رحمت کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ کہ یا اللہ اس کی مغفرت فرما، یا اللہ اس پر رحم فرما۔ معتکفین مسجد کے تقدس کا خیال رکھیں۔ کیونکہ یہ اللہ کے مہمان ہیں اور مسجد اللہ کا گھر ہے۔
جتنا اس کا ادب اور احترام ہوگا، اتنا ہی اللہ تبارک و تعالیٰ اجر بڑھائیں گے۔ لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں۔ لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے بیٹھے ہیں، یہ انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اس کی جستجو اور تلاش میں رہتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ یہ رات ہمیں نصیب فرما دے، ہمیں صحیح اعتکاف کرنے کی توفیق عطا فرما دے، مسجد کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرما دے،اور ہمارے اس عمل کو آخرت میں ہم سب کی نجات کا ذریعہ بنا دے۔ آمین !