امریکہ اور ایران کی حالیہ چپقلش نے ہمارے خطے میں حالتِ جنگ کی جس کیفیت کو جنم دیا ہے اس نے پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کیلئے بھی شدید خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔ صرف یہی نہیں امریکہ اور اسرائیل کی جنگی دہشت گردی اس کرہءِ ارضی کیلئے بھی خوفناک نتائج کی حامل ہو سکتی ہے کیونکہ امریکی سامراج اور اس کے پٹھو اسرائیل کی طرف سے طاقت کا اندھا استعمال پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتاہے اور خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں تیسری عالمی جنگ جس عالمی تباہی کو جنم دے سکتی ہے اس سے ہر کوئی آگاہ ہے ۔امریکہ اور ایران کی دشمنی کی تاریخ تقریباً نصف صدی پرانی ہے جب امام خمینی کی سربراہی میں امریکہ کے اتحادی شاہِ ایران کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا جسکی وجہ سے تیل کی دولت سے مالا مال ایران امریکہ کے اس خطے میں سب سے بڑے دشمن کی حیثیت سے ابھرا جس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ نصف صدی سے ایران کی انقلابی حکومت کو ختم کرنےکیلئے ایران پر طرح طرح کی تجارتی اور سفارتی پابندیاں عائدکیں یہاں تک کہ گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملہ کر دیا لیکن اس کے باوجود وہ ایران میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ اس ناکامی نے امریکی سامراج کو مزید سیخ پا کر دیا اور اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایرانی حکومت کو مفلوج اور مہنگائی کے نام پر ہونیوالے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت پیدا کرنےکیلئے سازشوں کا بازار گرم کر دیا۔ وہ ایرانی مظاہرین کو مشتعل کرنےکیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا بلکہ اس نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مظاہرین کی امداد کرنے کیلئے امریکہ ایران پر حملہ کرنےکیلئے بھی تیار ہے ۔ یہ کسی آزاد اور خود مختار ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی انتہا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے جسے تسلیم کرنے کا مطلب دنیا میں از سرِ نو جنگل کے قانون کا احیاء ہے جس کے خلاف اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا تھا گویا آج کی مہذب دنیا ایک مرتبہ پھر جہالت کے اس دور کے کنارے پر پہنچ گئی ہے جب طاقتور اقوام کمزورقوموں کو اپنی ہوسِ ملک گیری کا نشانہ بنانےکیلئے کسی اخلاقی یا سماجی ضابطے کی پابند نہیں تھیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کیخلاف امریکی جارحانہ رویّوں میں تیزی کیوں پیدا ہو گئی؟ تو اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ امریکی سامراج اقتصادی لحاظ سے انتہائی کمزور ہو چکا ہے جسکی وجہ سے وہ تیزی سے دنیا میں اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ اسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ میں مہنگائی اوربیروزگاری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جسکی وجہ سے امریکہ نے اقوام متحدہ کے بہت سے اداروں کی مالی امداد سے بھی نہ صرف اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے بلکہ اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینےکیلئےدوسرے ممالک سے آنے والی اشیاء پر ڈیوٹی کی شرح میں بھی انتہائی اضافہ کر دیا ہے لیکن اسکا سب سے بڑا نشانہ خود امریکی عوام بن رہے ہیں کیونکہ اس عمل نے امریکہ میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھا دی ہے۔ ایران کو تنہا کرنےکیلئے امریکی حکومت نے ان ممالک پر مزید 25 فیصد ڈیوٹی لاگو کر دی ہے جو ایران کے ساتھ کسی قسم کی تجارت میں شریک ہیں اس سے پاکستان سمیت دنیا کے اکثرممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔ جہاں امریکی سامراج کی یہ حرکات ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہیں وہاں وہ عالمی امن کیلئے انتہائی خوفناک نتائج کی حامل بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ جب کوئی بڑی طاقت زوال پذیر ہونے لگتی ہے تو وہ اس قسم کی مہم جوئی سے خطرناک جنگوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔ امریکی سامراج اس آڑ میں ایران میں رجیم چینج کے ذریعے نہ صرف تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں اپنے اور اپنے ایجنٹ اسرائیل کے قدم مضبوط کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنے سب سے بڑے حریف چین کے گرد بھی اپنا حصار مضبوط کرنے کی خواہش رکھتا ہے جسے چین کسی صورت برداشت نہیں کرئیگا۔ ایران میں رجیم چینج کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے بارڈر تک امریکی اور اسرائیلی فوجوں کی دسترس، جو پاکستان کیلئے ایک خوفناک صورتحال ہوگی کیونکہ بلوچستان پہلے ہی بدامنی کا شکار ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے گریٹر اسرائیل کے نام سے جس اسرائیلی توسیع پسندی کا اعلان کیا ہے اس میں شام، ایران، مصر، اردن ،ترکیہ اور سعودی عرب کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں دوسری طرف ہمارے خطے میں اسرائیل کے اتحادی کی حیثیت سے ہندوستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جسکا سب سے بڑا ثبوت مئی 2025 کی جنگ میں ہندوستان کی طرف سے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال ہے ہندوستان کی پاکستان دشمنی بھی ڈھکی چھپی نہیں کیونکہ پاکستان میں ہونیوالی حالیہ دہشت گردی کے پیچھے انڈیا کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ فاشسٹ مودی اسرائیل کی طرح اکھنڈ بھارت کے جس منصوبے پر عمل کر رہا ہے اسکے جاری کردہ نقشے کے مطابق اکھنڈ بھارت میں پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، میانمار اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کی توسیع پسندی کے خلاف سب سے پہلی دفاعی لائن ایٹمی طاقت کا حامل پاکستان ہے جسکے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا انکی پہلی ترجیح ہوگی جبکہ اسکے بعد انکا ہدف دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر پاور چین ہوگی۔ امریکہ اسرائیل اور بھارت اپنے ان مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ بعد کی بات ہے لیکن یہ تمام صورتحال فوری طور پر پاکستان کیلئے لمحہءِ فکریہ ضرورہے جس کیلئے ہمیں من حیث القوم ہر وقت تیار رہنے اور اپنے اندرونی اتحاد اور سیاسی استحکام پر سب سے زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔آج کے شعر
ستم کا دور ہے نغمہ گرو مضراب کو رکھ دو
حصارِ شب میں ہے خورشید ، اپنی مشعلیں تھامو
اٹھاؤ حشر تاکہ بستیوں میں زندگی جاگے
قلم میں آگ بھر لو ،حرف کو شمشیر میں ڈھالو