• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ عالم شاہد ہے کہ بیشتر عسکری دراندازیاں معاشی فوائد حاصل کرنے کیلئے شروع کی گئیں۔ مفتوح اقوام کو نہ صرف غلام بنایا گیا، بلکہ علاقوں کی معیشت پر قابو پا کر محنت کش عوام کی کمائیوں پر بعدازاں اپنے ساہوکار اور تجارتی گروہوں کے ذریعے دیرپا تسلط جما لیا گیا اور یوں انسانی و معاشی فوائد کا بہاؤ کئی صدیوں سے امیر ممالک کی طرف جاری و ساری ہو گیا۔ افسوس دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں، صنعتی معراج، تہذیب اور انصاف و جمہوریت کے نام نہاد حاملین اور علمبردار اپنے اس مذموم طرزِعمل سے تائب ہونےکیلئے تیار نہیں ، بلکہ اپنی فتنہ پردازیوں کی وجہ سے بیرونی دنیا کو آگ کا ایندھن بنا رہے ہیں اور ماحولیاتی قدرتی عوامل کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ تیسری دنیا کے غریب ممالک کو ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہے ہیں۔

افسوس کہ اقوامِ عالم کی تاریخی جنگوں میں بالعموم انسانی اقدار کو نظرانداز کیا گیا اور ماحولیاتی سفاکی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ ہمیں ان ظالمانہ رویوں کا مظاہرہ دوسری صدی قبل ازمسیح میں لڑی جانے والی جنگوں میں بھی ملتا ہے، جب انسان نے اپنے تئیں مہذب دعوے شروع کر دیئے تھے۔ ماحولیاتی بربریت کی داستان دوسری صدی قبل مسیح میں لڑی جانے والی جنگوں سے ملتی ہے۔ ان جنگوں میں دونوں متحارب سلطنتوں یعنی رومن اور پیونک (Punic) کے مابین لڑی جانے والی تینوں جنگیں نظریاتی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے شروع ہوئیں۔ افسوس ان جنگوں میں حربی اہداف کے ساتھ ماحولیات کو بھی حکمت عملی کے تحت برباد کیا گیا۔ دونوں سلطنتوں نے ہزاروں بحری بیڑوں کی تیاری کیلئے وسیع جنگلات کو بے دریغ کاٹا۔ دوسری پیونک جنگ میں تو اٹلی نے تمام دیہی حیات کا قتل عام کیا اور دشمن تک غذائی سپلائی روکنے کیلئے تمام فصلوں کو جلا دیا۔ اس سلسلہ کی تیسری جنگ میں بھی کارتیج شہر کے شہریوں اور ان کی املاک کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔ بعدازاں شہر کی فصیلوں کے اندر شورزدہ پانی بھر دیا گیا تاکہ دوبارہ آبادکاری نہ ہو سکے۔

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے ماحولیاتی تباہی کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے جاپان پر طویل تابکاری اثرات ڈالے ۔ انسانی جانوں اور قدرتی ماحول، جنگلات وغیرہ کی تابکاری اثرات سے جو تباہی ہوئی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس جنگ میں وسیع پیمانے پر نہ صرف قدرتی وسائل کو استعمال کر کے تباہ کیا گیا، بلکہ جنگ کے مابعداثرات وسیع ماحولیاتی تنزل کا باعث بن گئے۔ جنگلات کی کٹائی اور دھاتوں کے افراتفری حصول کیلئے کان کنی، مغربی اقوام کے مابین افریقی وسائل کی چھیناجھپٹی یعنی "Scramble for Africa" کی مہم جوئی بھی ماحولیاتی تباہی کی واضح مثال ہے جسکے دوران ان لالچی اقوام نے سونا، ہیرے جواہرات، باکسائٹ، لکڑی کی تلاش کے دوران زمینی حیات کو برباد کیا۔ ماحولیاتی کو پراگندہ کیا اور پھر ان کے حصول اور بیرونی روانگی کیلئے مغربی تاجروں نے نہایت ظالمانہ طریقے اختیار کئے، نہ صرف مقامی آبادیوں کو غلام بنایا، بلکہ ان کیلئےآزادانہ اظہار رائے اور معاش کے تمام دروازے بند رکھے۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے ماحولیاتی تباہی کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ اس عالمی جنگ میں انسانی حیات اور قدرتی ماحول، جنگلات وغیرہ پر تابکاری اثرات اور تباہ کاریاں ناقابل بیان ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے جاپان کی انسانی اور دیگر ماحولیاتی بقاء پر بھیانک اثرات مرتب کئے ۔ اس عالمی جنگ کے دوران جنگلات اور فصلوں کی وسیع کٹائی اور تباہی سے ارضی ماحول شدید متاثر ہوا۔ جنگی آلات، مشینوں اور گولہ بارود کی تیاری کے حصول کیلئے بے دریغ کان کنی سے وسیع علاقوں کی بے ہنگم کھدائی کی گئی۔ 1991ء میں مغربی طاقتوں کی شہ پر پھوٹنے والی بدنامِ زمانہ ’’گلف وار‘‘ خالصتاً حصولِ تیل اور کنوؤں کی تجارتی جنگ تھی، جسکے پس پردہ عالمی تیل کمپنیوں کے تجارتی مفادات تھے۔ اس دو سالہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کی اقتصادیات اور معاشیات پر کاری ضرب لگائی، بلکہ آبی اور صحرائی ماحولیات کو برباد کر دیا۔ اس جنگ کے دوران تیل کی ریکارڈ مقدار کو خلیج کے پانیوں میں بہایا گیا، تاکہ سطح آب پر آتش زدگی ہو اور حربی فوائد حاصل ہوں، لیکن افسوس ان حربوں نے آبی مخلوق کو ختم کر دیا۔ جنگ میں متحارب بیوقوف فریقین نے معاشی نقصان پہنچانے کیلئے تیل کے اَن گنت کنوؤں کو نذرِ آتش کر دیا جسکی وجہ سے آسمان کی بلندیوں اور بے کراں وسعتوں تک فضائیں گہرے دھوئیں سے آلودہ ہو گئیں۔ تیل کے کنوؤں سے صحراؤں میں بہنے والے تیل کی کثیر مقدار سے صحرائی اکالوجی، یورینیم اور گندھک کے مرکبات سے آلودہ ہو گئی۔ اس جنگ کے دوران صحرائی بگولوں نے آبنائے فارس کی علاقائی اکالوجی پر جو اثرات چھوڑے وہ ابھی تک قائم ہیں۔ اگرچہ بادی النظر میں ان جنگوں کے بعد فاتح اقوام کو عارضی اور وقتی فتوحات حاصل ہوئیں۔ علاوہ ازیں ان جنگوں کے پس پردہ قوتوں کو اسلحہ کی فروخت، جنگی سامان کی تجارت یا دیگر مالی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ لیکن ان جنگوں نے کرۂ ارض پر اجتماعی ماحولیاتی تنزل پیدا کیا ، جسکے برے اثرات سے فاتح و مفتوح کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم کو بھی نتائج بھگنا پڑ رہے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ عالمی طاقتوں کے نئے تجارتی عزائم اور باہمی سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ بصورت دیگر وینزویلا، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور گرین لینڈ کے تازہ ترین تنازعات کہیں نئی عالمی جنگ اور طویل ماحولیاتی تباہ کاریوں کا پیش خیمہ نہ بن جائیں۔

تازہ ترین