مغربی افریقی مُلک، نائجیریا پانچ سال قبل بالآخر وہ مقام حاصل کرنے میں کام یاب ہو ہی گیا، جو کبھی ناممکن تصوّر کیا جاتا تھا اور وہ ہے، وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کا مکمل خاتمہ اور عالمی سطح پر پولیو فِری ہونے کے تصدیقی سرٹیفیکٹ کا حصول۔ لیکن یہ سنگِ میل عبور کرنے کے کئی سال بعد بھی پولیو وائرس مکمل طور پر قابو میں نہیں آسکا کہ یہ کثیر آبادی پر مشتمل مُلک اب بھی وائرس کی ایک دوسری قسم(سی وی ڈی پی وی ٹو) سے نبرد آزما ہے، خاص طور پر مُلک کے شمالی صوبوں کے پس ماندہ اور دُور دراز علاقوں میں آج بھی بچّے مذکورہ وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
گزشتہ سال نائجیریا میں اس وائرس کے 53کیسز رپورٹ ہوئے۔ دوسری جانب، جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان آج بھی اِس وائلڈ پولیو وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جو نائجیریا سے مکمل طور پر ختم ہوچُکا ہے۔ پاکستان اور اس کا ہم سایہ مُلک افغانستان، دونوں عالمی ادارۂ صحت کے ایسڑن میڈیٹیرینن ریجن(ایمرو) میں شامل ممالک ہیں اور دنیا کے صرف یہ دو ممالک پولیو اینڈیمک ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے افریقا ریجنل آفس اور پولیو آئی ایچ آر ایمرجینسی کمیٹی کے مطابق، نائجیریا گزشتہ سال میں پولیو ٹائپ ٹو وائرس کے کیسز رپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے باوجود، عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک نائجیریا میں وائرس کے پھیلاؤ میں پینتیس فی صد کمی ریکارڈ کی گئی اور انتہائی حسّاس یا ہائی رسک اور کم زور ریاستوں میں ویکسی نیشن کوریج اور مہم کے معیار میں مزید بہتری آئی۔
یہ کام یابیاں اعدادوشمار(ڈیٹا) پر مبنی حفاظتی ٹیکا جات کی مہم، مضبوط نگرانی (سرویلنس) اور مؤثر حکمتِ عملی پر مبنی کمیونٹی تک رسائی کی عکّاس ہیں۔ نائجیریا کی نیشنل پرائمری ہیلتھ کیئر ڈیویلپمنٹ ایجینسی نے نیشنل ایمرجینسی آپریشن سینٹر، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف اور گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹیو(جی پی ای آئی) کی مدد سے اَن تھک کوششیں کیں تاکہ روٹین ویکسی نیشن یعنی حفاظتی ٹیکا جات مہم کو مستحکم کیا جا سکے، ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچّوں کی انٹرراؤنڈ ویکسی نیشن کی جائے اور سرحدی علاقوں تک کوریج کو وسعت دی جا سکے۔ سب سے اہم پیش رفت، مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور کمیونٹی کے بااثر افراد کو اعتماد میں لے کر ویکسین سے ہچکچاہٹ اور خوف دُور کرنا اور ویکسین کے خلاف مزاحمت کو قبولیت میں تبدیل کرنا تھی۔
پولیو کی تاریخ، عالمی اور علاقائی تناظر میں: پولیو (پولیو مائیلائٹس) ایک انتہائی خطرناک وائرل بیماری ہے، جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عُمر بچّوں کو متاثر کرتی ہے اور بچّوں کے عُمر بَھر کے لیے اپاہج ہونے کا سبب بنتی ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں وبائیں عام تھیں، خاص طور پر یورپ اور شمالی امریکا میں، جس سے ہر سال ہزاروں بچّے معذور ہو جاتے تھے۔ 1955ء میں جوناس سالک کی تیار کردہ غیر فعال پولیو ویکسین اور 1960ء کی دہائی میں البرٹ سابن کی انسدادِ پولیو ویکسین نے روک تھام میں انقلاب برپا کیا۔ 1980ء کی دہائی کے آخر تک عالمی سطح پر کیسز کی تعداد تین لاکھ، پچاس ہزار سے زیادہ تھی۔
تاہم 1988ء میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹیو کا آغاز کیا گیا، جس سے کیسز میں واضح طور پر کمی آئی، تاہم افریقا اور ایشیا کے کچھ علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ پھر بھی جاری رہا۔ برّ ِاعظم افریقا میں پولیو نے ایک پیچیدہ راستہ اختیار کیا۔ نائجیریا، انگولا، چاڈ اور جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں 1990ء اور دو ہزار کی دہائی کے دَوران وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی ون) بار بار وبا کے طور پر نمودار ہوتا رہا، جسے اکثر بدامنی، صحت کے کم زور نظام اور ویکسین سے ہچکچاہٹ نے مزید سنگین بنا دیا۔
نائجیریا، برّ ِاعظم افریقا میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے پھیلاؤ کو روکنے والا آخری مُلک تھا، جہاں شمالی ریاستوں میں ثقافتی اور مذہبی خدشات سے جُڑی مزاحمت تاریخی طور پر موجود رہی۔ بالآخر سیاسی عزم، کمیونٹی کی شمولیت اور ویکسی نیشن کی جدید حکمتِ عملیوں کے نتیجے میں، نائجیریا میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے خاتمے کے بعد 2020ء میں افریقا کو پولیو کے مذکورہ وائرس سے پاک برّ ِاعظم قرار دیا گیا۔
ادھر جنوبی ایشیا میں پاکستان نے بھی اِس خطرناک وائرس کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ 1990ء کی دہائی سے وائرس اِس ملک میں موجود ہے، جس کی کئی وجوہ ہیں، جن میں بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صُورتِ حال، ویکسین سے متعلق لوگوں کی غلط فہمیاں اور روٹین ویکسی نیشن کی کم کوریج وغیرہ شامل ہیں۔
تاہم، عالمی اداروں کی مالی، تیکنیکی اور لاجسٹک معاونت، مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان میں کیسز کی تعداد میں واضح کمی آئی۔ سال دو ہزار چوبیس میں کُل 74 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم گزشتہ سال کیسز کی تعداد صرف 30تھی۔ جب کہ مُلک بَھر میں مختلف مقامات سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں سے 36میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی اور یہ امر شہری اور دُور دراز دیہی علاقوں میں وائرس کی موجودگی کی غمّازی کرتا ہے۔ قومی انسدادِ پولیو پروگرام کے اعداد وشمار کے مطابق، دسمبر 2025ء کی قومی انسدادِ پولیو مہم میں45ملین بچّوں کی ویکسی نیشن کروائی گئی، جو جاری چیلنجز کے باوجود، وائرس کے خلاف کوششوں اور عزم کی عکّاسی ہے۔
پاکستان اور نائجیریا کا موازنہ، فرق اور مماثلتیں: جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی تفریق اپنی جگہ، لیکن دونوں ممالک پولیو کے خلاف جاری جنگ میں کچھ اہم مشترک چیزیں یا مماثلتیں بھی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کو خانہ بدوشوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔ نائجیریا کے فولانی اور پاکستان کے خانہ بدوش (ایچ آر ایم پی)، ہائی رسک گروپس میں شامل ہیں، جن کے لیے راستوں پر ویکسی نیشن کے ٹرانزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔
دونوں ممالک میں مذہبی اور ثقافتی دباؤ وائرس کے خلاف جنگ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ویکسین کے خلاف غلط فہمیاں، وائرس کی روک تھام کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔ لیکن دونوں میں اہم فرق بھی موجود ہیں۔ نائجیریا کی وفاقی اور ریاستی ہم آہنگی نے متحدہ حکمتِ عملی اور مضبوط سیاسی عزم ممکن بنایا، جب کہ پاکستان چند علاقوں میں امن امان کی خراب صُورتِ حال کے باعث عدم ہم آہنگی کا سامنا کررہا ہے۔
نائجیریا میں روٹین ویکسی نیشن کی کوریج تیزی سے بڑھی، جب کہ پاکستان زیادہ تر مہمات پر انحصار کرتا رہا۔ نائجیریا میں اعتماد سازی نے ویکسی نیشن کو مقامی ملکیت کا درجہ دیا، جب کہ پاکستان میں مہم بعض والدین کی جانب سے بیرونی امداد سے چلائی جانے والی’’سازش‘‘ سمجھی جاتی ہے، جس سے شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔
مذہبی اور کمیونٹی کا اثر: شمالی نائجیریا میں مذہبی رہنماؤں نے یہ غلط فہمی دُور کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ پولیو ویکسین بانجھ پن یا کسی بیماری کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی علماء اور کمیونٹی کے بااثر افراد ویکسین کی قبولیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ہائی رسک علاقے: نائجیریا کے ہائی رسک علاقوں میں جگاوا، سوکوتو، زمفارا، کاتسینا اور شمالی سرحدی علاقوں میں خانہ بدوش فولانی آبادی شامل ہے، جب کہ پاکستان میں ہائی رسک علاقوں میں بلوچستان کے سرحدی علاقے قلعہ عبداللہ، پشین، چاغی، کوئٹہ، وزیرستان، کراچی کی کچّی بستیاں اور افغان سرحد سے متصل دیگر علاقے، جہاں نقل وحمل اور امن و امان کے مسائل ہیں،شامل ہیں۔
تاخیر کی خمیازہ: ماہرینِ صحت کے مطابق پولیو وائرس سے متاثرہ بچّہ ممکنہ طور پر خود چل نہیں سکتا، جس سے پورا خاندان بچّے کی دائمی معذوری کی وجہ سے مسائل کے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔ دونوں ممالک میں پولیو سب سے زیادہ غریب خاندانوں کو متاثر کرتا ہے، جو کچّی آبادیوں، پس ماندہ، دُور دراز اور متاثرہ اضلاع اور خانہ بدوش بستیوں میں رہتے ہیں۔ یہ بچّے اکثر غذائیت، صاف پانی اور بنیادی صحت کی سہولتوں سے بھی محروم ہوتے ہیں، جس سے طویل مدّتی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔
نائجیریا کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے اصلاحات پر توجّہ مرکوز کرنی چاہیے، جن میں مُلک گیر مہم چلانے سے ہدفی اقدامات کی طرف منتقلی، آخری ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچّے کی نشان دہی، مائیکرو کمیونٹیز کی جامع و مؤثر میپنگ اور خانہ بدوش خاندانوں کی نگرانی وغیرہ شامل ہیں۔ نائجیریا میں پولیو کے سب سے کم رپورٹ ہونے والے کیسز اور کام یابیوں میں سے ایک اس کی نگرانی کے نظام میں سرمایہ کاری ہے۔
معذوری کے شکار ہونے والے بچّوں کی نگرانی اور ماحولیاتی سیمپلنگ کو مضبوط بنانے سے پولیو وائرس کی ابتدائی شناخت ممکن ہوئی، جس نے فوری ردّ ِعمل کی راہ ہم وار کردی اور کیسز کو وبا کی شکل اختیار کرنے سے روکا۔ پاکستان نے ماحولیاتی نگرانی کو وسیع کیا، لیکن فوری، مقامی ردّعمل میں اب بھی مسائل موجود ہیں، خاص طور پر کچّی آبادیوں اور غیر محفوظ سرحدی اضلاع میں۔
وائلڈ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے نائجیریا کی حکمتِ عملی:نائجیریا کی کام یابی کثیر الجہتی اور مؤثر حکمتِ عملی پر مبنی تھی، جس میں ڈیٹا پر مبنی مائیکرو پلاننگ، کمیونٹی انگیجمنٹ، خواتین ورکرز کی تعیّناتی اور اُنھیں بااختیار بنانا، ٹرانزٹ پوائنٹس ویکسی نیشن کا قیام، حفاظتی ٹیکا جات کا انضمام، مضبوط نگرانی، اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون وغیرہ شامل تھے۔ یہ مربوط اقدامات مزاحمت کو قبولیت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوئے، خاص طور پر دیہی اور قدامت پسند کمیونٹیز میں۔
وائرس کے خاتمے میں خواتین کا کردار: نائجیریا سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ خواتین کا کردار نہ صرف ویکسینیٹر کے طور پر، بلکہ مذاکرات کار اور قابلِ اعتماد افراد کے طور پر بھی کلیدی رہا۔ خواتین ورکرز کو جدید تربیت، وسائل کی فراہمی، مقامی طور پر قانونی حیثیت اور مستقل شمولیت کے ذریعے بااختیار بنایا گیا، جس سے وہ ان کمیونٹیز کا بنیادی حصّہ بنیں، جہاں مرد ورکرز کی رسائی محدود تھی۔
پاکستان میں بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز اور خواتین موبلائزرز اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم بعض علاقوں میں غیر محفوظ حالات، ملازمت کے قلیل مدّتی معاہدوں اور محدود اختیارات کا سامنا بھی کرتی ہیں۔ ان کی حفاظت، مالی استحکام اور قیادت کی مضبوطی جیسے اقدامات باقی ماندہ حفاظتی خلا کو پُر کرنے میں فیصلہ کُن اور سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان براہِ راست نائجیریا کے تجربے سے سیکھ سکتا ہے۔ خصوصاً مذہبی اور مقامی رہنماؤں کے ذریعے کمیونٹی فرسٹ انگیجمنٹ اپروچ اپنانے، مزاحمت والے حسّاس اضلاع میں خواتین موبلائزرز کی مزید تعیّناتی، ہائی رسک اور موبائل آبادیوں کے لیے مؤثر مائیکرو پلاننگ، بروقت نگرانی اور انسدادِ پولیو مہم کے درمیان امیونٹی یا قوّتِ مدافعت برقرار رکھنا۔ ماہرینِ صحت کے مطابق، صرف ویکسین وائرس کے خاتمے کے لیے کافی نہیں، بلکہ باقی ماندہ خلا پُر کرنے کے لیے مسلسل نگرانی، ثقافتی ہم آہنگ پیغام رسانی، کمیونٹی کی اونرشپ اور غیر متزلزل سیاسی شراکت داری بھی ضروری ہے۔
پولیو وائرس کا خاتمہ اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچُکا ہے۔ نائجیریا کی کہانی سے ثابت ہوتا ہے کہ کام یابی مشکلات، نامساعد حالات، بے اعتمادی اور لاجسٹک پیچیدگیوں کے باوجود بھی ممکن ہے۔ پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ نائجیریا کے ماڈل پر من و عن عمل کرنے کی بجائے اس کے اصول اپنانے چاہئیں۔
مقامی ملکیت، اعتماد سازی، درست اور ہدفی حکمتِ عملی اور حفاظتی ٹیکا جات کے انضمام کو یقینی بنایا جائے اور دست یاب وسائل و تجربات کا بھرپور استعمال کیا جائے۔ اب ضرورت صرف مستقل، باحوصلہ اور مقامی سطح پر عمل درآمد کے عزم کی ہے۔ پولیو وائرس کا خاتمہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ مساوات، حکم رانی اور اجتماعی عزم کا پیمانہ بھی ہے۔ نائجیریا نے یہ مرحلہ عبور کیا، جب کہ پاکستان اب بھی اس کنارے پر کھڑا ہے۔