• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال2025ء، پاکستان میں شعبۂ صحت کے ضمن میں چند خوش آئند تبدیلیوں کے ساتھ سنگین چیلنجز کا بھی سال رہا۔ مُلک نے عالمی سطح پر صحت کے بعض اہم مسائل پر قابو پایا، تو وبائی اور ماحولیاتی عوامل کے سبب تشویش ناک صُورتِ حال بھی برقرار رہی۔ سالِ رفتہ پاکستان کو شدید سیلاب کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں نہ صرف انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا، بلکہ صحتِ عامّہ پر بھی شدید منفی اثرات مرتّب ہوئے۔ 

سیلاب کے بعد وبائی امراض میں اضافہ ہوگیا۔ ملیریا کے کیسز میں جون اور اگست کے دوران تقریباً87فی صد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ مختلف شہروں میں ڈینگی کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، خاص طور پر ایکیوٹ واٹری ڈائریا(AWD) کے کیسز خیبر پختون خوا میں 15 فی صد تک بڑھ گئے۔ اس کے علاوہ جِلدی بیماریوں، سانپ کے کاٹنے، آنکھوں کے انفیکشنز اور سگ گزیدگی( کتے کے کاٹنے) کے کیسز بھی تشویش ناک سطح پر رپورٹ ہوئے۔

سیلاب سے130مراکزِ صحت جزوی طور پر متاثر ہوئے، جب کہ7مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ خیبر پختون خوا میں68لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مکانات متاثر ہوئے، جن میں28مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ 2025ء پولیو کے ضمن میں پاکستان کے لیے مسلسل خطرے کا سال ثابت ہوا۔ اِس عرصے میں مُلک بھر میں30وائلڈ پولیو وائرس کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ،19کیسز خیبر پختون خوا سے سامنے آئے، جب کہ سندھ سے 9، پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا۔ 

یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ وائرس کی فعال ترسیل کا مرکز جنوبی کے پی کے اور شہری سندھ رہے۔87اضلاع سے حاصل کیے گئے127سیوریج سیمپلز میں سے44 مثبت پائے گئے، جب کہ 2کے نتائج زیرِ تجزیہ تھے۔ مثبت سیوریج نمونے اِس امر کا بیّن ثبوت ہیں کہ کئی علاقوں میں وائرس خاموشی سے گردش کر رہا ہے۔مختلف علاقوں، خصوصاً خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ کے حسّاس اضلاع میں پولیو ٹیمز پر حملے، بدکلامی، رکاوٹیں، زبردستی مہم روکنے کی کوششیں اور ہراسانی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

2025ء میں پاکستان میں13.8ملین افراد کرونک ہیپاٹائٹس کے شکار رہے، جن میں سے ہیپاٹائٹس-سی کے10ملین کیسز کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہیپاٹائٹس سے جُڑی شدید جگر کی بیماری یا جگر کے کینسر کے باعث پاکستان میں ہر30سیکنڈ میں جگر کے امراض سے ایک موت واقع ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس اے کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔گزشتہ برس سگ گزیدگی اور ریبیز کے کیسز میں واضح اضافہ ہوا، خاص طور پر کراچی میں جنوری اور فروری میں 5,795 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ پچھلے سال اِسی عرصے کے 3,269کیسز کے مقابلے میں بہت زیادہ تھے۔

سندھ میں اگست تک 22000ہزار ریبیز کیسز رپورٹ ہو چُکے تھے، جب کہ 14 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔ اسلام آباد میں2,800سے زائد کتوں کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ خیبر پختون خوا میں کتوں کی ویکسی نیشن اور آبادی کنٹرول کی مہمّات بھی چلائی گئیں۔2025ء پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے ضمن میں انتہائی تشویش ناک سال رہا کہ نہ صرف نئے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، بلکہ مرض کا دائرہ عام آبادی اور بچّوں تک پھیل گیا۔ نئے کیسز کی تعداد تقریباً14,000تک پہنچ گئی، جن میں14سال تک کے تقریباً 1,800بچّے بھی شامل تھے۔

مُلک میں ایچ آئی وی کے شکار افراد کی مجموعی تعداد کا تخمینہ 350,000 لگایا گیا اور اُن میں سے تقریباً80فی صد اپنی بیماری سے ناواقف ہیں، جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔ IBBS Round 6کے مطابق ہائی رسک گروپس میں ایچ آئی وی کی شرح قابلِ ذکر رہی۔ خواجہ سراؤں میں تقریباً10 فی صد، ایم ایس ایم میں7فی صد،خواتین سیکس ورکرز میں3.8فی صد اور منشیات کے عادی افراد میں سے 27فی صد متاثر پائے گئے، جب کہ پہلی بار شامل کیے گئے گروپ، جیل کے قیدیوں میں تقریباً4.7 فی صد شرح ریکارڈ ہوئی۔

ماضی کے مقابلے میں ایچ آئی وی صرف’’ہائی رسک گروپس‘‘ تک محدود نہیں، بلکہ عام آبادی، ازدواجی شراکت داروں اور بچّوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس پھیلاؤ کی بڑی وجوہ میں غیر محفوظ خون کی منتقلی، انجیکشن کے غیر معیاری استعمال، طبّی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے مسائل، محدود ایچ آئی وی اسکریننگ، سماجی بدنامی اور علاج تک محدود رسائی شامل ہیں۔ 

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق، ستمبر2025 ء تک کُل رجسٹرڈ ایچ آئی وی کیسز81847تھے، جن میں سے تقریباً53,635افراد علاج کروا رہے تھے۔ اگرچہ مُلک میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی مراکز کی تعداد95 تک پہنچ گئی اور علاج کی سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا، مگر تشخیص اور علاج تک رسائی کی کمی کے سبب صرف محدود تعداد ہی مکمل علاج کروا پا رہی ہے۔Global Hunger Index کے مطابق، پاکستان کی درجہ بندی127ممالک میں 109ویں مقام پر رہی اور اس کا GHI اسکور27.9رہا۔ 

اس اسکور کی روشنی میں تقریباً 20.7فی صد آبادی انڈر نیوٹریشن، بچّوں میں Stunting 33.2فی صد، 10فی صد Wasting اور پانچ سال سے کم عُمر بچّوں کی اموات کی شرح 6.1فی صد رپورٹ ہوئی۔ ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ اموات کی شرح فی100,000افراد91.1ہے، جو جنوبی ایشیا کے اوسط(78.1) اور عالمی اوسط (72.6) سے بھی زیادہ ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں70لاکھ سے زیادہ افراد نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ ان میں کیمیکلز والے نشے کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں ہیروئن، کوکین اور آئس کا نشہ شامل ہے۔ گزشتہ برس خواتین کی صحت کے ضمن میں ماں کی صحت، زچگی کے پیچیدگیاں، غذائی قلّت اور غیر متعدّی امراض، جنسی و تولیدی صحت کے مسائل، جیسے Unsafe abortions, Reproductive tract infections، قابلِ ذکر رہے۔ 

جب کہ نوجوانوں کی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے مسائل میں ذہنی صحت، منشیات کا بڑھتا استعمال، طرزِ زندگی سے متعلقہ امراض، جنسی و تولیدی صحت، حادثات اور ماحولیاتی خطرات وغیرہ شامل تھے۔ تقریباً 105,000نوجوان انجیکٹنگ ڈرگ یوزرز ہیں، جس سے ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا، جب کہ ڈیپریشن کے کیسز تعلیم، روزگار اور سماجی دباؤ کی وجہ سے بڑھے۔

2025 ء پاکستان کے لیے صحت کے شعبے میں ایک غیر معمولی اور کثیرالجہتی چیلنجز کا حامل سال ثابت ہوا۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں کے دَوران کورونا وائرس کی وبا کے بعد عالمی سطح پر صحت کا نظام مضبوط بنانے کی کوششیں جاری تھیں، لیکن پاکستان جیسے ترقّی پذیر ممالک میں صحت کا ڈھانچا معاشی، ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی دباؤ کا شکار رہا۔ 

ایک طرف بڑھتی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں کے جھٹکوں، سیلاب، ڈینگی، ملیریا، پولیو اور دیگر متعدّی امراض نے صورتِ حال پیچیدہ بنائے رکھی، تو دوسری جانب صحت کا ناکافی بجٹ، بنیادی سہولتوں کی کمی، اسپتالوں پر بڑھتا بوجھ، ادویہ کی قلّت، منہگائی، غذائی قلّت، ویکسی نیشن میں سُست روی اور پبلک ہیلتھ کے کم زور نظام نے عوام اور حکومت، دونوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ سال کے آغاز ہی سے واضح تھا کہ پاکستان کا صحت کا نظام ایک نہایت مشکل سال کے لیے تیار نہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ چیلنجز میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

سال کے وسط تک صحت کی مجموعی تصویر اس حقیقت کو ظاہر کر رہی تھی کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں، تو کئی بیماریوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔بڑے شہروں میں صحت کی سہولتیں کسی حد تک موجود ہیں، لیکن دُور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی بدترین صُورتِ حال برقرار رہی۔ ان علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت اکثر غیر فعال، آلات ناکارہ، لیبارٹریز غیر موجود، ویکسین چین ٹوٹی ہوئی اور تربیت یافتہ عملہ کم تھا۔

دوسری جانب بڑے شہروں میں آبادی کا دباؤ، منہگائی، وائرسز کی نئی اقسام، ناقص صفائی کے نظام، موسمی بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی نے بیماریوں کا پھیلاؤ تیز کیا۔ گزشتہ برس پاکستان کو سب سے بڑے چیلنج کے طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر معمولی بارشوں، سیلابی صُورتِ حال، گرم و سرد موسم کی شدّت اور پانی کے بحران نے صحت پر براہِ راست اثرات مرتّب کیے۔ سیلاب نے مُلک کے کئی حصّوں میں تباہی مچائی، جس سے ملیریا، ڈینگی، اسہال، ٹائیفائیڈ اور دیگر پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہوا۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے کئی اضلاع میں پانی کے ذخائر آلودہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد دست، الٹی، ہیضے، نمونیا اور جِلدی امراض میں مبتلا ہوئے۔ 

سیلابی پانی کے دیر تک کھڑے رہنے سے مچھروں کی افزائش میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس نے ڈینگی اور ملیریا کی وبا شدید تر کر دی۔ پاکستان میں ڈینگی کیسز نے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ پیدا کیا۔ متعدّد بڑے شہروں میں ڈینگی وارڈز بَھر گئے اور کئی اسپتالوں کو خصوصی ڈینگی یونٹس قائم کرنے پڑے۔ نیز، شہروں میں نکاسیٔ آب کا ناقص نظام، کچرے کے ڈھیر، کُھلے نالے اور غیر منصوبہ بند آبادیوں نے ڈینگی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔

مچھر مار اسپرے مہمّات غیر مؤثر ثابت ہوئیں، جب کہ لوکل گورنمنٹ کی کم زوری نے بیماری پر کنٹرول میں کئی مشکلات پیدا کیں۔رپورٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں جنوری سے نومبر تک18,728کیسز اور22اموات درج ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں بلوچستان میں6,831 کیسز سامنے آئے، لیکن کوئی موت رپورٹ نہ ہوئی، جب کہ پنجاب میں4,390سے زائد کیسز اور8اموات سامنے آئیں۔ خیبر پختون خوا میں کیسز کی تعداد1,853سے بڑھ کر مقامی رپورٹس کے مطابق 3,939تک ریکارڈ کی گئی، جب کہ2اموات بھی ہوئیں۔ 

اِسی طرح اسلام آباد میں2,714کیسز کے باوجود کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں ڈینگی کا بوجھ صوبہ وار متنوّع رہا اور سندھ میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ صوبوں کے درمیان تقابلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ سندھ میں زیادہ کیسز رپورٹ ہونا ’’بہتر تشخیص‘‘ اور’’فعال سرویلنس‘‘ کا نتیجہ بھی ہے، نہ کہ صرف بیماری کے زیادہ پھیلاؤ کا۔ 

اس کے برعکس، وہ صوبے جہاں رپورٹ شدہ کیسز کم دِکھائی دے رہے ہیں، جیسے پنجاب میں، یہ کمی حقیقتاً کم واقعات کی نہیں، بلکہ کم زور رپورٹنگ، محدود لیبارٹری ٹیسٹنگ، غیر فعال فیلڈ ریسپانس اور پرائیویٹ سیکٹر ڈیٹا کے غائب ہونے کی وجہ سے ہے۔

اِسی طرح ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان، تھرپارکر، کشمور، گھوٹکی، سجاول، بدین، اندرونِ خیبر پختون خوا اور جنوبی پنجاب میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں ٹی بی کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور2025 ء میں بھی اِس شرح میں خاطر خواہ کمی نہ آسکی۔

مُلک میں ٹی بی کے سیکڑوں مراکز کام کر رہے تھے، مگر آبادی کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی ثابت ہوئی۔ دیہی علاقوں میں تشخیص میں تاخیر، خواتین کی علاج تک عدم رسائی، ناکافی غذائیت، ایچ آئی وی کے ساتھ Co-infection اور MDR-TB جیسے پیچیدہ کیسز نے بیماری پر کنٹرول مشکل کر دیا۔

گزشتہ برس پاکستان کے نظامِ صحت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج غیر معیاری اسپتال، جعلی ڈاکٹرز، اتائی اور غیر رجسٹرڈ لیبارٹریز بھی رہا۔ ان جعلی مراکز نے نہ صرف عوام کی مجموعی صحت کو نقصان پہنچایا، بلکہ کئی بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ غیر رجسٹرڈ لیبارٹریز، غیر محفوظ سرنجز، ڈسپوزایبل آلات کا دوبارہ استعمال اور صاف پانی کی عدم دست یابی نے امراض کی شرح میں اضافہ کیا۔

ہیپاٹائٹس کے لاکھوں مریض، علاج کے بغیر نظامِ صحت پر بوجھ بنتے رہے،تو منہگی ادویہ کے باعث غریب افراد کے لیے علاج تقریباً ناممکن رہا۔ درآمدات میں مشکلات، خام مال کی قیمت میں اضافہ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک نے ادویہ کی دست یابی کو بُری طرح متاثر کیا۔ مُلک میں عام اینٹی بائیوٹکس سے لے کر سرطان تک کی ادویہ، انسولین، کارڈیو میڈیسن اور neonatal ادویہ کی قلّت نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار رکھا۔

سال 2025 کے اختتام تک شعبۂ صحت واضح طور پر اِس حقیقت کی نشان دہی کر رہا تھا کہ اِسے انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ مضبوط صحت کا نظام، جدید اسپتال، تربیت یافتہ عملہ، ادویہ کی دست یابی، ویکسی نیشن کا فروغ، موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفّظ، بیماریوں کی بروقت تشخیص، عوامی شعور اور صحت کے شعبے میں منظّم حکمتِ عملی کے بغیر پاکستان بیماریوں پر قابو پا سکتا ہے اور نہ ہی عالمی صحت کے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

مالی سال 2024-25 کا وفاقی صحت بجٹ، صحت کے بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کا ملا جُلا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف کرنٹ بجٹ میں اضافہ قابلِ تعریف رہا، جو28,171ملین روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچا اور اسپتالوں کے آپریشنل اخراجات، ادویہ اور تن خواہیں جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوا۔ اِسی طرح ترقیاتی بجٹ میں بھی میں واضح بہتری نظر آئی، جس نے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نظامِ صحت کی طویل مدّتی مضبوطی کے لیے ایک Strategic Shift ظاہر کیا۔

تاہم، منہگائی، بڑھتی آبادی اور انتظامی کم زوریوں کے باعث یہ اضافہ صرف نظام چلانے تک محدود رہا اور ترقّی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ ترقیاتی فنڈز کے تاخیر سے اجرا نے اسپتالوں کے توسیعی منصوبے متاثر کیے اور کئی اہداف سال بھر ادھورے رہے۔ اس کے ساتھ ہی صحت کا بجٹ مجموعی قومی بجٹ میں نہایت کم حصّہ رکھتا ہے۔ کرنٹ بجٹ صرف 0.2فی صد اور ترقیاتی بجٹ تقریباً 1.7فی صد،جو عالمی معیار، خصوصاً عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات سے بہت کم رہا۔ یہ اِس امر کا ثبوت ہے کہ شعبۂ صحت اب بھی قومی ترجیح نہیں بن سکا۔

شعبہ وار تقسیم میں اگرچہ ترقیاتی بجٹ کا 52فی صد اسپتالوں اور 42فی صد عوامی صحت پر رکھنا ایک متوازن سوچ کا اشارہ تھا، مگر کرنٹ بجٹ میں 77فی صد(21,683 ملین روپے) صرف طبّی آلات کی خریداری پر خرچ ہونا شدید عدم توازن ظاہر کرتا ہے۔ اس بھاری تخصیص کے باعث اسپتالوں کی خدمات کے لیے صرف 19فی صد اور عوامی صحت کے لیے محض 4فی صد (1,110 ملین روپے) بچ سکے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ2025میں ادویہ کی فراہمی، عملے کی تربیت، انتظامی اخراجات اور ویکسی نیشن پروگرام شدید متاثر ہوئے۔

مجموعی طور پر وفاقی صحت بجٹ اچھے ارادوں، مگر کم زور عمل درآمد کا عکّاس رہا۔ اس نے نظامِ صحت کو سہارا تو دیا، مگر مضبوط بنانے میں ناکام رہا، کیوں کہ بنیادیں کم زور اور ترجیحات غیر متوازن رہیں۔ سو، سال 2025ء کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جب تک قومی بجٹ میں صحت کا حصّہ کم از کم 5فی صد تک نہیں بڑھایا جاتا، پرائمری ہیلتھ کیئر اور عوامی صحت کے پروگرامز کو ترجیح نہیں دی جاتی، پاکستان کا نظامِ صحت2026 ء میں بھی اِنہی کم زوریوں اور بحرانوں کا شکار رہے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید