• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں سینٹ میں ایک بل منظورکیاگیا ہے جس کی رُو سے تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی دفعہ 297-A شامل کی گئی ہے۔اِس دفعہ کے مطابق جوشخص جادوٹونا کرے گایا اسکی تشہیر میں ملوث ہوگا اسے چھ سے سات ماہ تک قید اورد س لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجائے گا۔البتہ روحانی علاج کرنے و الوں کووزارت مذہبی امورسے لائسنس لیناہوگا۔آپ نے اکثرچوراہوں میں دیکھا ہوگا کہ ہاتھ میں کنگھیاں،تسبیح یابال پوائنٹ پین اٹھائے لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور بھیک مانگنے لگتے ہیں، شائد ہی کبھی اِن سے کسی نے کوئی چیز خریدی ہو۔یہ چالاک بھکاری ہیں۔انہیں پتا ہے کہ بھیک مانگنے پر شائد اِنہیں گرفتارکرلیا جائے لیکن کنگھیاں اورپین ہاتھ میں ہوں گے تو یہ آسانی سے کہہ دیں گے کہ ہم تو گھوم پھر کرسامان بیچ رہے ہیں۔ایسی ہی چالاکی جادوٹونے والوں کے پاس بھی ہوتی ہے۔یہ دعاکرانے کے نام پر گاہک گھیرتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے اسے جادو ٹونے کی افادیت بتاکر پیسے ڈیمانڈ کرنے لگتے ہیں۔پھریہ کچھ تاریخی روایات سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جادو واقعی اثرکرتاہے۔ اِن کے پاس جانے والے کبھی نہیں پوچھتے کہ حضور جادو ہوتاہے یا نہیں پہلے آپ تو ثابت کریں کہ آپکے پاس کون سی گیدڑسنگھی ہے۔لوگ پراسرارچیزوں کوبہت پسندکرتے ہیں،انہیں لگتاہے جنترمنتر سے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔یہ محبوب کوحاصل کرنے کے لیے جتنے پیسے عامل کو دیتے ہیں اتنے ڈائریکٹ محبوب کو دے دیں تو محبوب خودہی زیرہوجائے۔

٭ ٭ ٭

آپ میں سے اکثر نے کسی فلم یا ڈرامے کی شوٹنگ ضرور دیکھی ہوگی۔جنہوں نے نہیں دیکھی انہیں بہت شوق ہوتاہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ ایک دفعہ شوٹنگ دیکھنے کے بعد بہت کم لوگ دوبارہ یہ خواہش کرتے ہیں۔یہ ایک انتہائی تھکا دینے والا عمل ہوتاہے اور اسے دیکھنے والا سب سے غیر متعلقہ شخص ہوتاہے البتہ جولوگ ڈرامے یافلم کی میکنگ سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے ماحول کو بڑا انجوائے کرتے ہیں۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کس ٹائپ کی ریکارڈنگ میں زیادہ مزا آتاہوگاتو اکثریت کا جواب یہی ہوگا کہ مزاحیہ فلم۔لیکن جواب غلط ہے۔مضحکہ ترین اورقہقہہ بارصورتحال صرف ہارریعنی ڈراؤنی فلم کے وقت پیش آتی ہے۔جوبھی جن بھوت ڈرامے میں دکھائے جارہے ہوتے ہیں وہ فل گیٹ اپ کے ساتھ بریک میں چائے پیتے ہوئے موبائل فون پر بھی بزی ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوتاہے کہ بھوت صاحب کا شاٹ ریڈی ہوتاہے لیکن پتا چلتاہے کہ بھوت بھائی واش روم گئے ہوئے ہیں۔ایسی فلموں کی ریکارڈنگ میں اکثر ڈائریکٹر جنوںبھوتوں کوڈانٹتے بھی نظر آتے ہیں۔مار دھاڑوالی شوٹنگ بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔میرے ایک دوست کو ایک ڈرامے میں ایک سخت گیر ڈی آئی جی کا کردار بہت پسند تھا۔اُس نے مجھ سے فرمائش کی کہ مجھے اس ڈرامے کی شوٹنگ دیکھنی ہے۔ میں نے بڑا منع کیا کہ اپنے خواب تباہ مت کرو، جو کچھ تم ایڈیٹنگ کے بعد اسکرین پر چلتے ہوئے دیکھتے ہو وہ زیادہ رئیل ہوتاہے لیکن اس کی ضد تھی لہذا ایک شوٹنگ پر اسے بلا لیا۔ وہاں اس نے’ڈی آئی جی‘ صاحب کے ساتھ پرجوش ہوکرسیلفیاں بنوائیں۔ تھوڑی دیربعدچائے آگئی۔ میں دوسری طرف مصروف تھا اور میرا دوست ’ڈی آئی جی‘ کی بغل میں بیٹھا خوش خوش باتیں کررہاتھا۔ تھوڑی د یربعد میں نے دیکھا کہ میرا دوست انتہائی ناگواری سے اٹھ کھڑا ہوا ہے، کہنے لگا کب تک واپس چلنا ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ شوق اتر گیا؟ اُس نے اثبات میں سرہلادیا۔ پوچھنے پر پتاچلاکہ ’ڈی آئی جی‘ نے اس سے دو ہزاراُدھارمانگ لیے ہیں۔

٭ ٭ ٭

کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ بہت سی زندگیاں نگل گئی۔ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے دِل دہلاکے رکھ دیا لیکن میڈیا پراکثرتاجروں کی گفتگو سن کر حیرت ہوئی۔ ایک صاحب فرمارہے تھے کہ ہماراتو حکومت سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے۔ گویاآگ سندھ حکومت نے لگائی تھی۔ تاجرحضرات یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ آگ انہی میں سے کسی کی غفلت سے لگی ہے۔کہیں بھی کوئی سانحہ ہوجائے توسب سے پہلے ہم اپنا پلہ جھاڑ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کاکہناہے کہ گل پلازہ میں 179 دکانیں منظورشدہ نقشے سے زیادہ تعمیر ہوئیں۔توحضورآپ کہاں بھنگ کے سوئے ہوئے تھے؟آپ کے ادارے کی اتھارٹی چیلنج ہورہی تھی تو آپ نے کیا کیا؟ صرف نوٹس بھیجتے رہے؟اس مجرمانہ غفلت کاذمہ داریہی ادارہ ہے،تحقیقات یہیں سے ہونی چاہئیں۔کیسا ظالمانہ بیان دیاہے کہ ’1998میں گل پلازہ میں اضافی منزلیں تعمیر کی گئیں پارکنگ ایریامیں دکانیں بنائی گئیں اور چھت کو پارکنگ میں بدل دیا گیا‘۔ یہ بیان ہی اعتراف جرم ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی ڈاکٹرکہے کہ ہم نے تو لکھ کے لگا رکھا ہے کہ آپریشن روم میں کسی مریض کا جانا منع ہے لیکن ایک مریض خود ہی اندر آیا، مشینیں چالو کیں، ٹیبل پر لیٹ گیا اوراپناآپریشن خودکرنے کے دوران چل بسا۔یہی تاجرجوآج گل پلازہ کے سانحے پر حکومت کو لتاڑ رہے ہیں انہی میں وہ بھی شامل ہوں گے جنہوں نے غیر قانونی طور پر دکانیں بنائیں۔ اِن کی دکانیں گرائی جارہی ہوتیں تب بھی انہوں نے واویلاکرناتھاکہ حکومت ہمارا کاروبار تباہ کر رہی ہے۔یہ ہردوصورتوں میں مظلوم بن جاتے ہیں۔علاج ایک ہی ہے،کسی کے ڈرامے پرتوجہ نہ دی جائے۔کوئی چیختاہے توچیختا ر ہے،جو چیز غیر قانونی تعمیر ہوئی ہے اسے گرایا جائے ورنہ سب کو اجازت دی جائے کہ جہاں مرضی دکان بنا لیں بے شک وہ سڑک ہی کیوں نہ ہو۔اِدھرپنجاب میں یہ سختی ابھی تک نظرآرہی ہے۔ ایک قاری نے ای میل بھیجی ہے کہ اقبال ٹاؤن لاہور میں کریم بلاک کے پارک کی مسجدوالی سائیڈکا ا یک پورافٹ پاتھ ہوٹل والوں کے نرغے میں ہے جوپارک کے جنگلے کے ساتھ لمباساہوٹل بناکر دھڑلے سے اپناکام کیے جارہے ہیں لیکن یہاں کوئی اینٹی انکروچمنٹ والے نہیں آتے۔ حیرت ہے کہ اس ایریا میں گھروں کے باہر بنی گرین بیلٹس پرتوکرینیں چل گئیں لیکن یہ ہوٹل جوآدھے سے زیادہ راستہ روکے ہوئے ہیں ان پر کسی کی نظر نہیں پڑرہی۔

تازہ ترین