• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار چیمہ، پیشہ ور سپاہی اور صاحب طرز لکھاری

برصغیر کی علمی و ادبی تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وردی کی سختی اور قلم کی نرمی کو اس خوبصورتی سے یکجا کرتی ہیں کہ وہ معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ ایک ایسا ریٹائرڈ پولیس افسر، جو اپنے پیشہ ورانہ دور میں جرات، دیانت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا استعارہ رہا اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی علمی فکری بصیرت سے ادبی افق پر چھا گیا، درحقیقت ایک "ہمہ جہت عبقری" (Versatile Genius) کہلانے کا مستحق ہے۔

بطور پولیس افسر، ان کی خدمات محض جرائم کے خاتمے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے پولیسنگ کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی شخصیت میں درج ذیل اوصاف نمایاں رہے: انہوں نے ہمیشہ سفارش اور دباؤ سے بالاتر ہو کر میرٹ کو مقدم رکھا۔ پیچیدہ کیسز کی گتھیوں کو سلجھانے میں ان کی ذہنی رسائی اور تجزیاتی صلاحیتیں ضرب المثل رہیں۔اپنے ماتحت عملے کے لیے وہ ایک سخت گیر کمانڈر بھی تھے اور ایک شفیق استاد بھی، جنہوں نے فورس کے مورال کو ہمیشہ بلند رکھا۔ایک اعلیٰ درجے کے پولیس افسر کی اصل پہچان اس کا "عجز" اور "انصاف پسندی" ہوتی ہے۔ انہوں نے طاقت کے نشے کو کبھی اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیا۔ ان کی زندگی دیانت و امانت کے ساتھ ساتھ مالی اور اخلاقی شفافیت کے فضائل کی بنیاد رہی۔ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی شخصیت کا وہ پہلو نمایاں ہوا جس نے انہیں "پولیس افسر" سے "دانشور" کے منصب پر فائز کر دیا۔ ان کی تحریروں میں وہی گہرائی اور مشاہدہ نظر آتا ہے جو انہوں نے برسوں میدانِ عمل میں حاصل کیاان کی خود نوشت محض ایک سوانح عمری نہیں، بلکہ پولیس کلچر کی اصلاح اور معاشرتی نشیب و فراز کی ایک تاریخی دستاویز ہےآج وہ ادبی حلقوں میں ایک صاحبِ طرز ادیب اور موقر کالم نگار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی تصانیف نہ صرف معلومات کا خزانہ ہیں بلکہ اردو ادب کے ذخیرے میں ایک گراں قدر اضافہ بھی ہیں۔مختصر یہ کہ ایسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک پولیس افسر کے سینے میں بھی ایک حساس ادیب کا دل دھڑک سکتا ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی "ممتاز" رہے اور علم و ادب کی وادی میں بھی "مستند" ٹھہرے۔ ان کی زندگی نئی نسل کے پولیس افسران اور لکھاریوں کے لیے ایک مکمل نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔"جہد مسلسل" کے نام سے یہ تصنیف ایک غیر معمولی شخصیت کی خود نوشت ہے۔ اس کے مصنف سابق آئی جی پولیس ذوالفقارچیمہ ملک کی ایک معروف اور مقبول شخصیت ہیں، وہ پولیس سروس کے سپر سٹار رہے ہیں، آج بھی نوجوان افسروں کی اکثریت اگر کسی کو آئیڈیلائز کرتی ہے یا رول ماڈل مانتی ہے تو وہ ذوالفقار چیمہ ہیں۔ کتاب کے ابتدائی حصے میں مصنف نے اپنے خاندان اور والدین کے اس نقشِ قدم کا ذکر کیا ہے جس نے انہیں "ذوالفقار چیمہ" بنایا۔ ان کے والد اصولوں کے اتنے پکے تھے کہ بیٹے کے خلاف ووٹ دے دیا، جبکہ ماں کی دعا تھی کہ اگر بیٹے کی کمائی میں حرام شامل ہو تو اللہ اسے اٹھا لے۔ تعلیمی سفر کے حوالے سے انہوں نے گاؤں، کیڈٹ کالج حسن ابدال، گورنمنٹ کالج لاہور اور لاء کالج کے دلچسپ واقعات قلمبند کیے ہیں۔ انہوں نے قانون کی ڈگری لینے کے بعد وکالت کے بجائے پولیس سروس کا انتخاب کیا اور سی ایس ایس کے بعد مختلف مراحل سے گزر کر عملی میدان میں قدم رکھا۔مصنف کی پہلی تعیناتی بلوچستان کے شہر سبی میں ہوئی، جہاں انہوں نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی اور بگٹی و مری قبائل کے گڑھ میں جا کر حقائق بے نقاب کیے۔ اس کے بعد وہ اوگی اور پاکپتن میں تعینات رہے۔ پاکپتن میں ان کی نظریاتی تربیت اور اصول پسندی کا ٹکراؤ مفاد پرست "مجاوروں" سے ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ ماہ میں ہی ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔مظفر گڑھ میں انہوں نے تھانے میں تشدد سے ہلاکت کے بعد بپھرے ہوئے عوام کو بڑی مہارت سے ہینڈل کیا۔ سیاسی مداخلت اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے بااثر افراد کے خلاف ڈٹ جانے پر انہیں یہاں سے بھی رخصت ہونا پڑا کا۔بھلوال میں تعیناتی کے دوران ایک سکول ٹیچر کی فریاد پر انہوں نے جس طرح ایک بااثر چوہدری کے اوباش بیٹے کو گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا، وہ پولیس کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔

"جہدِ مسلسل" محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ عزم، ہمت اور ایمان کی داستان ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے قاری یہ دعا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کاش ریاست کے اختیارات ایسے ہی لوگوں کے پاس ہوں جن کے سینے میں انسانیت کا درد ہو۔ بے شک، ذوالفقار احمد چیمہ جیسے افسران ہی کسی بھی محکمے کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔

تازہ ترین