اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدام قتل اور دہشت گردی کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جسٹس محمد اعظم خان نے 10ہزار کے مچلکوں پر دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 2 دن میں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔
وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون نے رات احاطہ عدالت میں گزاری ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ ایسا میری وجہ سے ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں پٹیشن آگئی، ضمانت مل گئی تو نئی ایف آئی آر لا کر گرفتاری کی کوشش کی گئی، 27 جولائی واقعے پر پرانی ایف آئی آر ہے جس کے بعد وہ درجنوں بار عدالتوں میں آئیں۔
وکیل کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ایمان مزاری کو گرفتار کرنا تھا تو پراسیکیوشن پہلے گرفتار کر لیتی، ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے جبکہ وکیل نے پستول کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر اقدام قتل اور دہشت گردی دفعات کا مقدمہ درج ہے۔