• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناسا کا خلائی جہاز 14 سال بعد واپسی کے قریب، ملبہ زمین پر گرے گا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

 امریکی خلائی ادارے ناسا کا تقریباً 1300 پاؤنڈ (600 کلوگرام) وزنی خلائی جہاز تقریباً 14 سال بعد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے والا ہے۔

امریکی اسپیس فورس کے مطابق وین ایلن پروب اے Van Allen Probe A نامی خلائی جہاز شام 7:45 بجے (ای ڈی ٹی) زمین کے ماحول میں داخل ہونے کی توقع ہے۔

کیا اس جہاز کا ملبہ نقصان پہنچا سکتا ہے؟

ناسا کے مطابق خلائی جہاز کا زیادہ تر حصہ زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت جل کر ختم ہو جائے گا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ملبے سے زمین پر کسی انسان کو نقصان پہنچانے کا امکان انتہائی کم ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 4200 میں سے 1 بتایا گیا ہے۔

ناسا نے یہ نہیں بتایا کہ سیٹلائٹ یا اس کا ملبہ زمین کے کس مقام پر گر سکتا ہے، تاہم امکان ہے کہ اس کا بیشتر حصہ سمندر میں گرے گا۔

خلائی جہاز کب لانچ کیا گیا تھا؟

وین ایلن پروب اے اور اس کے جڑواں خلائی جہاز وین ایلن پروب بی کو 30 اگست 2012ء کو زمین کے گرد موجود ریڈی ایشن بیلٹس کے مطالعے کے لیے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔

ناسا کے مطابق ان مشنز نے خلائی موسم کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مشن کب ختم ہوا؟

ناسا نے 2019ء میں دونوں خلائی جہازوں کو اس وقت غیر فعال کر دیا تھا جب ان کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ سورج کی روشنی حاصل کرنے کے لیے اپنے سولر پینلز کو مزید گھما نہیں سکتے تھے۔

دوسرا خلائی جہاز کب زمین پر آئے گا؟

ناسا کے مطابق وین ایلن پروب بی ابھی تک مدار میں موجود ہے اور اس کے 2030ء سے پہلے زمین کے ماحول میں داخل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید