ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرنا چاہتے تھے۔
ایرانی انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن گروپ نیشنل یونین فار ڈیموکریسی کے ریسرچ ڈائریکٹر خسرو اصفہانی نے نیو یارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے اپنی وصیت میں واضح طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو جانشین نامزد نہ کرنے کو کہا تھا۔
اُنہوں نے بتایا کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا خیال تھا کہ ملک چلانے کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس تجربے کی کمی ہے۔
خسرو اصفہانی نے مزید کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ مجلسِ خبرگان رہبری نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا، لیکن پاسدارنِ انقلاب نے اُنہیں اس انتخاب کے لیے مجبور کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مجلسِ خبرگان رہبری کے کچھ اراکین کی نئے سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق مختلف آراء ہیں، لیکن اختلافِ رائے مخلصانہ ہے، کوئی سیاسی مقاصد نہیں۔