• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقام شکر ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو قدرت نے جغرافیائی لحاظ سے ان گنت نعمتوںسے نواز رکھا ہے لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ہم ان سے کس حد تک استفادہ کر سکے ہیں یا کر رہے ہیں ۔پاکستان کو وسیع تر سمندری نقل و حمل ، ماہی گیری اور آف شور توانائی جیسے اقتصادی ذرائع کے ساتھ ساتھ لگ بھگ 1046کلومیٹر طویل ساحلی پٹی بھی میسر ہے جسکو براہ راست بحیرہء عرب تک رسائی حاصل ہے ۔یہ ساحلی پٹی صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں لگ بھگ 2 لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر کانٹی نینٹل شیلف تک پھیلی ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ پاکستانی تجارت کی 90فیصد نقل وحرکت پانی کے ذریعے ہوتی ہے۔ چنانچہ سمندر کے پانیوں سے جڑی معیشت، جیسےبندر گاہیں ، شپنگ ، ماہی گیری ، آبی زراعت ، ساحلی سیاحت اور آف شور توانائی وغیرہ کے شعبہ جات،جنہیںمعاشی زبان میں’’ بلیو اکانومی‘‘کا نام دیا جاتا ہے،نے کئی ممالک کی تقدیر بدل کر رکھ دی ہے ۔اس ضمن میں سب سے پہلے سنگاپور کی مثال دی جا سکتی ہے جو صرف ایک بندرگاہ کے بل بوتے عالمی تجارتی مرکز بنا ہوا ہے ۔ چین ، جنوبی کوریا اور جاپان نے ماہی گیری اور بحری تجارت کو فروغ دے کر اپنی معیشت کومضبوط کیا۔ ڈنمارک نےآف شور ونڈ انرجی میں ترقی کر کے دنیا کو حیران کر دیا ۔ خلیجی خطے کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے ۔ ناروے نے جدید طرز کی ماہی گیری کو رواج دینے کے ساتھ ساتھ سمندر کی تہ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کر کے اپنی فی کس آمدنی میں ناقابل یقین ترقی حاصل کی ۔ مالدیپ وہ واحد ملک ہے جسکی معیشت وہاں کے سمندر کے گرد گھومتی ہے ۔ تاہم اگر بات وطن عزیزکی کی جائے تو 90 فیصد سمندری تجارت کے استعمال کے باوجود ملکی شپنگ فلیٹ کے استعمال کا حصہ صرف 10 فیصدہے جبکہ باقی 80 فیصد تجارت کیلئے غیر ملکی شپنگ ذرائع پر انحصار کے باعث فریٹ چارجز کی مد میں ہر سال اربوں ڈالر غیر ملکی کمپنیاں لے جاتی ہیں ۔

اگر ہم بلیو اکانومی کے شعبے کا موازنہ خطے کے دیگرممالک سے کریں تو ہمارے پڑوسی ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش بھی اس شعبے میں ہم سے بہت آگے ہیں ۔انڈیا نے تو بلیو اکانومی کو فروغ دینے کیلئے’’ساگر مالا ‘‘ نامی پندرہ سالہ اور بنگلہ دیش نے پانچ سالہ ماسٹر پلان بنا رکھے ہیں۔گزشتہ سال نومبر میں وزیر خزانہ پاکستان نے کراچی میں منعقدہ ’’ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئےبلیو اکانومی کومصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر اور معدنیات جیسے تیزی سے ابھرتے شعبوں کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ، ’’ یہ ملکی معیشت کے مستقبل کی سمت متعین کر سکتی ہے ’’۔ لیکن شاید جناب وزیر خزانہ یہ بات بھول گئے کہ بلیو اکانومی کا خواب ، ملکی بندرگاہوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ، جدید انتظامی نظام ، ماہی گیری اور ایکواکلچر کوجدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کی مالی معاونت کئے بغیر شرمندہءتعبیر نہیں ہو سکتا ، اور ظاہر ہے یہ کام حکومتوں کا ہوتا ہے ۔معاشی ماہرین بلیو اکانومی کی مجموعی مالیت کا اندازہ’’گراس میرین پراڈکٹ‘‘ (یعنی جی ایم پی ) سے لگاتے ہیں ،بالکل ایسے جیسے کسی ملک کی معیشت کا اندازہ’’ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ‘‘( جی ڈی پی ) سے لگایا جاتا ہے ۔ پاکستان کا حالیہ جی ڈی پی 400 ارب ڈالر بتایاجا رہا ہےجسے ہمارے اکابر ایک حوصلہ افزا فگرسے تعبیر کر رہے ہیں ۔ لیکن مقام حیرت ہے کہ شاندارمحل وقوع اور لاتعداد قدرتی وسائل کیساتھ ساتھ اتنی طویل ساحلی پٹی کے ہوتے ہوئے بھی ہماری قومی معیشت میں’’بلیو اکانومی‘‘کا حصہ صرف 0.5فیصد یعنی ایک ارب ڈالر سالانہ سے بھی کم ہے ۔جبکہ عالمی بینک کے مطابق بلیو اکانومی عالمی سطح پر سالانہ 2.5 ٹریلین ڈالر ( 2500ارب ڈالر )سے زائدکی معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بنتی ہے ۔

ان حقائق کی تصدیق وزیر خزانہ پاکستان کے ایک حالیہ بیان سے بھی ہو جاتی ہے جس میں انہوں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دس سال تک پاکستان بلیو اکانومی سے 100 ارب ڈالر سالانہ تک کی آمدن حاصل کرنے کےقابل ہو سکتا ہے ۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پاکستان کی حکومتوں نے ابھی تک بلیو اکانومی کو سنجیدگی سےلیا ہی نہیں ۔

کیا ہمارے اکابر اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ جب ہماری 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے مرہون منت ہے تو پھر ملکی شپنگ فلیٹ کی استعدادیا استعمال صرف 10 فیصد تک ہی محدود کیوں ہے ؟ ۔حکومت وقت کو بلیو اکانومی کی اہمیت اور افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اب اسکی تنظیم نوکرنا ہوگی کیونکہ اب تو’’ سی پیک ‘‘کے تناظر میں اسکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالمی منڈی میں سمندری غذا کی طلب دن بدن بڑھ رہی ہے اور پاکستان کی طویل ساحلی پٹی سمندری غذا سے بھری پڑی ہے ،جسکی سالانہ پیداوار سات لاکھ میٹرک ٹن کے لگ بھگ ہونے کے باوجود آج بھی روائتی طریقوں پر چل رہی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان ماہی گیری کے شعبے سے سالانہ 50 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ کما رہا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق جدید فش پروسیسنگ،کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے یہی شعبہ ایک ارب ڈالر سالانہ تک باآسانی کما سکتا ہے ۔ایسے ہی کچھ حالات آبی زراعت ، خصوصا’’ جھینگا فارمنگ ‘‘کے ہیں جس میں پاکستان خطے کے بیشتر ممالک سے کافی پیچھے ہے ، حالانکہ اس شعبے میں روزگار اور برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔سمندری غذا کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کر کے ہم نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ کر سکتے ہیںبلکہ ساحلی علاقوں کے باسیوں کیلئےروزگار کے مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں ۔پاکستان کے تین ساحل اوماڑہ ، گڈانی اوراستولہ خوبصورت جزیروں سے مالا مال ہیں جن پر تھوڑی سے توجہ دے کر انہیںعالمی معیار کے سیاحتی مقام میں بدلا جا سکتا ہےجو سیاحتی آمدن کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔اسکے ساتھ ساتھ آف شور ونڈانرجی اور سمندری لہروں سے توانائی کے حصول میں خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹی جا سکتی ہیں ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ سمندری معیشت سے خاطر خواہ نتائج سمیٹنے سے پہلےہمیںسمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے مربوط اور منظم پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہو گا ۔

تازہ ترین