• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برآمدات میں اضافہ برسوں سےپاکستان کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف حکومتوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً اقدامات اور اعلانات توہوتے رہے ہیںلیکن تاحال کوئی واضح روڈ میپ تشکیل نہیں دیا جا سکا ۔ موجودہ حکومت نے اگرچہ ایکسپورٹرز کے مسلسل مطالبے پر برآمدات پر عائد0. 25 فیصد ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کر دیا ہے جس سے برآمدی صنعتوں کو درپیش سرمائے کی قلت میں کمی آنے کی امید ہے۔ تاہم جب تک عالمی منڈیوں میں برآمدی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دیرپا ادارہ جاتی، پیداواری اور نتائج پر مبنی اصلاحات نہیں کی جائیں گی برآمدات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ممکن نہ ہوگا۔ دنیا بھر کے ممالک کی ترقی برآمدات میں اضافے کی وجہ سے ممکن ہوئی ۔ اس لئے اگر ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو اچھا روزگار، بہتر صحت، اعلی تعلیم اور ایک بہتر مستقبل دینا ہے تو اس کیلئے برآمدات بڑھانے پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانےکیلئے بھی برآمدی صنعتوں کی ترقی میں حائل پالیسی رکاوٹوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر ہماری برآمدی اشیاء کی طلب میں کمی کی بڑی وجہ ہماری کاروباری لاگت میں اضافہ ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس کے علاوہ بلند شرح سود اور حد سے زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ برآمدی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان عوامل کی بنا پر ہمارے برآمدکنندگان خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں عالمی منڈیوں میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ برآمدات میں اضافے کیلئے کم از کم پانچ سے دس سال کیلئےواضح اور مستحکم پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہو گا کہ صنعت کار اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار رہنے کی بجائے طویل المدتی بنیادوں پر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت کے برابر لانا ناگزیر ہے۔ برآمدی صنعتوںکیلئے خصوصی توانائی پیکیج متعارف کروایا جا سکتا ہے تاکہ انکی پیداواری لاگت کم ہو سکے اور وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بحال کر سکیں۔ برآمدی صنعتوں سے اس وقت دو فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جسے دوبارہ ایک فیصد کرنے اور اسے ہی’’فل اینڈ فائنل لائبلٹی‘‘ قرار دینا لازم ہے۔ علاوہ ازیں برآمدکنندگان پر عائد مختلف طرح کے دیگر ٹیکس بھی ختم کرنے چاہئیں کیونکہ ٹیکس کے پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کیلئے ایکسپورٹرز کو اضافی وقت اور توانائی صرف کرنا پڑتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک سادہ اور شفاف ٹیکس نظام متعارف کروائے تاکہ ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کی ادائیگی میں آسانی ہواور ساتھ ہی ٹیکس حکام کی جانب سے بلاجواز نوٹسز کے اجراء اور ہراسمنٹ کے کلچر کا بھی خاتمہ ہو ۔ سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی ڈرا بیک ریفنڈز کے نظام میں موجود خامیوں کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریفنڈز کی ادئیگی میں ہونے والی طویل تاخیر کا خاتمہ ہو ۔ واضح رہے کہ ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر سے برآمدکنندگان کو سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسکی وجہ سے پیداواری عمل اور برآمدات میں اضافے کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس لئے خودکار اور ٹائم باؤنڈ ریفنڈ سسٹم کو مکمل طور پر فعال بنائے بغیر برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں ۔برآمدی صنعتوں کیلئےرعایتی شرحِ سود پر طویل المدتی فنانسنگ، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمز اور ورکنگ کیپیٹل تک آسان رسائی بھی ضروری ہے تاکہ برآمدکنندگان اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکیں۔ یہ مطالبہ بار بارکیا جاتا رہا ہے کہ شرح سود کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے تاکہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو بھی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے سرمائے تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں، کسٹمز کلیئرنس، ٹرانسپورٹ اور دستاویزات کے نظام کو ڈیجیٹل اور تیز بنانا ہوگا تاکہ برآمدات کی ترسیل پر آنے والی لاگت اور وقت کو کم کیا جا سکے۔ ان اقدامات سے بھی عالمی سطح پر پاکستان کی برآمدی مصنوعات کی مانگ بڑھانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کو بھی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی تیاری کیلئے جدید ڈیزائن، برانڈنگ اور نئی مارکیٹس تک رسائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ٹیکسٹائل، فرنیچر، آئی ٹی، انجینئرنگ گڈز اور زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تنوع ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں برآمدی صنعتوں کو خصوصی طور پر جدید مشینری، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلئے مراعات اور سستے قرضے فراہم کرنےکی ضرورت ہے تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار ممکن بنائی جا سکے۔ اسی طرح برآمدات بڑھانے کیلئے ہنر مند لیبر اور عالمی رجحانات و مانگ کو پورا کرنے کی صلاحیت کے حامل ماہرین کے بغیر بھی برآمدی مسابقت ممکن نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئےصنعت اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر سکل بیسڈ ٹریننگ پروگرامز شروع کرنا ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے سے موجود تکنیکی تربیت اور ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے علاوہ ان میں کروائے جانے والے کورسز پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ممکن بنائی جا سکے۔ان اقدامات سے ہم نہ صرف صنعتی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں بلکہ پاکستان کا بیرونی قرضوں پر انحصار بھی کم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے بنیادی ڈھانچے میں سنجیدہ اصلاحات ضروری ہیں کیونکہ محض وقتی اقدامات سے برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔

تازہ ترین