کامن سینس ایک اوسط درجے کی سوجھ بوجھ کو کہتے ہیں یعنی کسی بھی حقیقت کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ علم اور مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے آگ حرارت دیتی ہے اور برف ٹھنڈک۔ یہ ایک آفاقی سچائی ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ۔ کامن سینس قدرتی اصولوں پر چیزوں کو پر کھنے کا نام ہے جس میں سب کے لیے ایک ہی پیمانہ ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی اس مہذّب اور ترقی یافتہ دنیا میں انسان اپنے خود ساختہ واہموں اور ایسے نام نہاد نظریات کے جال میں گرفتار ہے جو کامن سینس کے کسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ایسے ہی نظریات اور ایسے ہی نظریات کے حامل افراد روزِ اول سے آج تک انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ بنے رہے ہیں جنہوں نے ہر دور کو کسی نہ کسی بڑی تباہی سے دوچار کیا ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عام سوجھ بوجھ بہت زیادہ عام نہیں ہے(common sense is not very common) لیکن یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ عام سوجھ بوجھ عام تو ہے لیکن اس کا استعمال عام نہیں اور انسان جب بھی چاہے اسے بروئے کار لا کر بہت سے نان ایشوز اور واہموں سے نکل سکتا ہے اور اپنے بہت سے مسائل حل کر سکتا ہے۔ گویا کامن سینس وہ کسوٹی ہے جو ہر اوسط درجے کا دماغ رکھنے والے شخص کے پاس موجود ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ جھوٹ اور سچ، کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔
انسانی تاریخ میں آج تک ملک ، قوم ، مذہب ، نسل ، رنگ ، زبان اور برادری کے نام پر سب سے زیادہ خون بہایا گیا ہے اور اس کا جواز یہ رہا ہے کہ میری نسل ، میرا مذہب ، میری قوم، میری زبان ، اور میرا خاندان دوسروں سے بہتر ہے اور میرے لیے برتری اور فخر کا باعث ہے ۔ کیا کامن سینس اس نظریے سے اتفاق کرتا ہے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ کوئی ایسی چیز ہمارے لیے فخر یا شرمندگی کا باعث نہیں ہو سکتی جس میں ہماری کاوش یا خواہش کا عمل دخل نہیں ہوتا اور جو محض ایک اتفاق ہے۔ کیا کوئی انسان اپنی مرضی سے کسی خاندان ملک یا مذہب کا انتخاب کر کے اس دنیا میں آتا ہے ؟
یہ تو خدا کی منشا ہے کہ وہ اسے کس خطے خاندان یا مذہب میں بھیجتا ہے لیکن وہ اپنا کامن سینس استعمال کیے بغیر فخر و غرور یا شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے ان دونوں صورتوں میں وہ گویا اپنے خالق کو نا انصاف ٹھہرانے کے جرم کا مرتکب بھی ہوتا ہے جس کے نزدیک اس کے تمام بندے ایک جیسے ہیں۔ کیا انسان محض کسی مخصوص مذہب یا نظریے کو ماننے والوں کے ہاں پیدا ہونے کے اتفاقی ثواب کی وجہ سے بخشا جائے گا ؟ کامن سینس اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ پھر اچھا اور برا ہونے کا معیار کیا ہے ؟ صرف اور صرف عمل ۔۔ جو انسان کاخود اختیاری فعل ہے گویا ہمارے اچھا یا برا ہونے کا تعلق کسی مذہب یا قوم کے ساتھ اتفاقی وابستگی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے عمل کی وجہ سے ہے۔ جس طرح زبانِ خلق کو نقارہ ءِ خدا کہتے ہیں اس طرح کامن سینس بھی خدائی منشا کا پرتو ہوتا ہے ۔ لہذا جو بات کامن سینس تسلیم نہیں کرتاوہ ٹھیک نہیں ہو سکتی اور محض مفاد پرستی کے زمرے میں آتی ہے ۔ ایسی تمام صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرہ افراد یا اقوام پیغام ، نظریے اور عمل سے نکل کر ابہام ، بے عملی اور شخصیت پرستی کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ شخصیت پرستی بت پرستی کی ہی دوسری شکل ہے جس کے دوران انسان محبت یا نفرت میں اندھا ہو جاتا ہے۔ ہر شخصیت پرست جس شدت کے ساتھ کسی سے محبت کرتا ہے اسی شدت کے ساتھ اس کے کسی مد مقابل یا حریف کے ساتھ نفرت کرتا ہے ۔ جبکہ کسی اچھے انسان سے کسی بات پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور کسی برے انسان کی کسی اچھائی کو سراہا بھی جا سکتا ہے ۔
کامن سینس یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ایمان بالغیب کی طرح انسانوں کی پرستش کی جائے یا انہیں شیطان قرار دے دیا جائے۔ مثبت تنقید عالی ظرفی اور کشادہ دلی پیدا کرتی ہے اور گزشتہ غلطیوں سے بچاتے ہوئے ترقی کے سفر کو آسان کر دیتی ہے ۔ زندہ اور ترقی یافتہ معاشروں میں نہ تو اندھی عقیدت ہوتی ہے اور نہ اندھی نفرت ۔ اسلئے وہ معاشرے اپنی آنکھیں اور ذہن ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں جس طرح کامن سینس مذہب یا نظریے کے معاملے میں اتفاقات کو حتمی نہیں سمجھتااسی طرح زبان اور رنگ و نسل پر بھی یقین نہیں رکھتا ۔ زبان اظہار کا ایک ذریعہ ہے نہ وہ مقدس ہے نہ ہی ناپاک ۔ نہ وہ کسی سے برتر ہے نہ کمتر ۔ ایسے ہی نسلیں اور قبیلے بھی پہچان کے سوا اور کچھ نہیں لیکن مہذب بیسویں صدی میں ہٹلر نے نسل پرستی اور قوم پرستی کے باطل نظریات کے ذریعے پوری دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا اور اب اسرائیل بھی وہی کام کر رہا ہے۔ لہذا ملک ، قوم ، نسل ، رنگ مذہب اور زبان کے حوالے سے کامن سینس ایک ہی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہونی چاہئیں نہ کہ انہیں نقصان پہنچانے کیلئے۔ اسلئے کامن سینس کا استعمال ہی ہر مسئلے کا حقیقی حل ہے۔آج کے شعر
ضروری تو نہیں جو کچھ سنو اس پر یقیں کر لو
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
فقط سجدوں پہ جو نازاں ہیں کوئی ان کو سمجھائے
کہ عادت اور ہوتی ہے، عبادت اور ہوتی ہے
بظاہر دونوں میں یکسانیت لگتی ہے لیکن جان
شکایت اور ہوتی ہے عداوت اور ہوتی ہے