• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض اوقات غلطیاں زندگی کا حسن دوبالا کردیتی ہیں۔صحافت میں رہتے ہوئے میں نے دیکھا کہ سب سے مزیدار غلطی کاتب حضرات کرتے تھے، اب ان کی جگہ کمپوزرز نے لے لی ہے۔کئی دفعہ تو کمپوزر کی غلطی ایسی فٹ بیٹھتی ہے کہ لگتا ہے کہ کمپوزر کالم نگار سے کہیں زیادہ ذہین ہے۔ ایک دفعہ میں نے کالم میں ایک معروف سینئر شاعر کے حوالے سے لکھا کہ ”یہ اعجازِ ہے حسن ِ آوارگی کا ....جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے“ کالم چھپ کر آیا تو دوسری لائن میں داستاں کی بجائے ’داشتہ‘ لکھا ہوا تھا۔ دفتروں میں کام کرنیوالے”آفس بوائے“بھی ایسی ایسی ہولناک غلطیاں کرتے ہیں کہ بعض اوقات بندہ مرتے مرتے بچتا ہے، میں نے آفس بوائے سے پوچھا ”لفٹ چل رہی ہے؟“ کہنے لگا ”جی سر! لیکن اسکی اندر کی لائٹ خراب ہے، بالکل اندھیرا ہے“۔ میں نے سوچا کوئی بات نہیں موبائل کی لائٹ آن کرلوں گا، آفس سے نکل کر لفٹ کے پاس پہنچا تو اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آفس بوائے نے تیزی سے کہا”سر جلدی کریں کہیں دروازہ بند نہ ہوجائے“۔

میں نے فوراً موبائل کی لائٹ جلائی اور ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ اچانک کوئی خیال آیا، میں نے ایک پاؤں تھوڑا سا آگے کرکے لفٹ کے فلور کو چیک کیا تو میرے ہوش اڑ گئے، نیچے فلور ہی نہیں تھا۔پیچھے سے آفس بوائے کی مزید بے چین آواز آئی”سر رک کیوں گئے ہیں اندر چلیں ناں“۔ میں نے گھوم کر اس کی طرف دیکھااور بے بسی سے پوچھا”اے تیرہ بخت انسان! کوئی دوسری نوکری مل گئی ہے تو چپ چاپ چلے جاؤ، مجھے کیوں دردناک عذاب سے دوچار کرنا چاہ رہے ہو“۔ اُس نے اپنی کنپٹی کھجائی”میں سمجھا نہیں سر! کوئی غلطی ہوگئی؟؟؟“ میں نے دانت پیس کر کہا”ذرا لفٹ کے اندر جھانک کر دیکھو“۔اُس نے چونک کرلفٹ کی طرف دیکھا‘ پھر نیچے جھانکا اور دانت نکال کر بولا”ویسے سر! اگر آپ ایسے ہی اندر داخل ہوجاتے تو ایک سیکنڈ میں گراؤنڈ فلور پر پہنچ سکتے تھے“۔

٭ ٭ ٭

ایسے کئی لوگ ہیں جن کے نام کا مخفف اگر انگریزی میں کیا جائے تو سارے لفظ جوڑ کر جو نام بنتا ہے وہ اُن کی شخصیت کے عین مطابق ہوتاہے۔مثلاًمیرے ایک ہمسائے کی بیوی آج تک اپنا پورا نام بتاتے ہوئے شوہر کا پورا نام بھی ساتھ بتاتی ہے، اُس کا پورا نام بنتا ہے”عالیہ زریں الطاف باجوہ“ یعنی Alia zareen altaf bajwa اُس کے شوہر کا کہنا ہے کہ بیگم صاحبہ اپنے نام کے مخفف کے اعتبار سے سو فی صد اسم بامسمٰی ہیں۔ ایک اور صاحب ہیں جنکی میں ڈیڑھ سال تک محض اس لیے عزت کرتا رہا کیونکہ انہوں نے اپنے گھرکی نیم پلیٹ پر ’ڈی ایس پی“ لکھوا رکھا تھا‘ بعد میں پتا چلا کہ وہ توپلمبر ہیں تاہم اُن کا نام”دلاورشاہ پروانہ“ ہے۔حیرت کی بات ہے کہ عموماً لڑکیاں اپنے نام کے ساتھ انگریزی کے حروفِ تہجی نہیں لگاتیں مثلاً آپ نے کبھی ’ایم شمائلہ، ایس نسرین، اے ڈی نتاشا نہیں سناہوگاالبتہ کچھ لڑکیوں میں یہ بیماری ذرا مختلف زاویے سے موجود ہے، یہ لڑکیاں اپنا نام ہی ایسا رکھ لیتی ہیں کہ کوئی کسی بھی صورت میں ساتھ ”باجی“ نہیں لگا سکتا‘ مثلاً ...جاناں‘پیاری‘ شہزادی‘ میٹھی‘ہنی‘ خوبصورت وغیرہ وغیرہ۔کئی لڑکیوں کوفلمی ہیروئینوں والے نام رکھنے کا بھی خبط ہوتاہے‘ اتنا زیادہ کہ محلے کے بچوں کو اکٹھاکرکے دس دس روپے دے کے کہتی ہیں‘ مجھے کرینہ کہو....!!!

٭ ٭ ٭

کچھ لوگ اتنے کھردرے ہوتے ہیں کہ سلام کا جواب بھی ایسے دیتے ہیں جیسے گالی دے رہے ہوں۔ میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہنسنے سے اتنا الرجک ہیں کہ بے خیالی میں اگرکبھی اِن کا قہقہہ ”خطا“ ہو جائے تو اِنکے سارے بدن پر ”پت“ نکل آتی ہے، یہ لوگ صرف سنجیدہ رہنا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں، یہ خوشی کا اظہار بھی ایسے کرتے ہیں گویا موت کی بشارت دے رہے ہوں۔ ہمارے بلوبھائی بھی اِنہی میں سے ایک ہیں۔بلو بھائی نہ کوئی بیوروکریٹ ہیں نہ ایم این اے ہیں نہ کوئی منسٹر ہیں لیکن اِن کے نخرے چیف سیکرٹری سے کم نہیں۔موصوف گاڑیوں کے مکینک ہیں، اپنی اکھڑ مزاجی کی بدولت پندرہ ورکشاپوں سے نکالے جا چکے ہیں لیکن شرمندہ ہونے کی بجائے آج بھی فخر سے گردن اکڑا کر کہتے ہیں ”بِلو کو بِلو نہ مارے تو بِلو نہیں مرتا“۔بلو بھائی نے اپنی پینتیس سالہ زندگی میں آج تک کسی کی بات نہیں مانی، اِن کا دل کرے تو سخت گرمیوں میں تپتی دھوپ میں بیٹھ جائیں اور دل کرے تو سخت سردی میں نیکر بنیان پہن کر ورکشاپ آ جائیں۔ بلو بھائی پر اللّٰہ کی خاص رحمت ہے اِسی لئے ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں، اُن کی شادی نہ ہونے کی وجہ بھی اُن کی اکھڑ مزاجی ہے۔‘ خود بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ یہ موقع آیا تھاکہ میری شادی طے ہوگئی تھی۔ نکاح کاموقع آیاتو نکاح خواں بار بار پوچھنے لگا ”قبول ہے...قبول ہے“ مجھے غصہ آگیا میں نے کہا ”ابے ایک بار پوچھ لے جو پوچھنا ہے.....جانہیں قبول....کرلےجوکرنا ہے“

٭ ٭ ٭

تازہ ترین