• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارضِ وطن کے سبھی شہر خوبصورت ہیں اورانکے باسیوں میں نمایاں خوبیاں موجود ہیں۔ اسی طرح ہماری جنم بھومی فیصل آباد (لائل پور) اپنی نوزائیدگی اور آبادی کی گوناگوں خوبیوں کے لحاظ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایک سو چالیس سال قبل چک نمبر212ر-ب کے چار ایکڑ سے شروع ہونے والا ننھامنا قصبہ اس وقت دنیا بھر کے ہزاروں سال پرانے سینکڑوں شہروں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اس لئے کہ اسکے منصوبہ ساز ذاتی منفعت سے بے نیاز تھے۔ انکے ذہن میں اس جنگل کی زرعی اور صنعتی ترقی کا نقشہ موجود تھا۔ انکے پیش نظر سونا اُگلتی ہاؤسنگ سوسائٹیوں، کمرشل حب یا ایونیو کے خواب نہ تھے۔ اس کا مختصر ڈیزائن اور ابتدائی نقشہ تیار کرنیوالے باصلاحیت انجینئر مسٹر ینگ نے اپنی فنی صلاحیتوں کو استعمال کیا اور کامیاب ہو گیا۔ ’’کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد‘‘ کے مصداق۔ہفتۂ رفتہ فیصل آباد میں والدۂ مرحومہ کی چھٹی برسی کا اجتماع تھا جسکے دوران علیل والد محترم، اعزۂ و اقربا اور مرحومہ کی علمی و دینی سرگرمیوں میں انکے معاونین سے ملاقاتیں رہیں۔ یوں میں اُداس بھی رہا۔ اتنی ہمت نہ تھی کہ اپنے قریبی خاندانی گھر کو جسے والدۂ مرحومہ کی وفات کے بعد مقفل کر دیا گیا تھا، کھول کر دیکھ سکوں۔ بچپن اور لڑکپن کی یادیں تازہ کر سکوں۔ وہ گھر جہاں والدۂ محترمہ ماہانہ ختم قرآن و میلادؐ کا باقاعدگی سے اہتمام کرتیں۔ جہاں سے 1970ء کی تحریک کے دوران خواتین کے طویل ریکارڈ جلوسوں کی شروعات ہوتی رہیں اور جہاں پرویز مشرف دور میں سخت پابندیوں کے باوجود خواتین کی کارنر میٹنگ کا اہتمام کیا گیا اور مرحوم بیگم کلثوم نواز کومدعو کر کے بھرپور اور بے خوف اعانت کا اظہار کیا گیا۔ تاہم اگلے روز فیصل آباد میں اپنے بچپن اور لڑکپن کے اکثر مقامات کو دیکھنے نکل پڑا تاکہ ڈپریشن کم ہو سکے۔ شام کو لاہور واپسی ہوئی تو اُداسیاں کافور ہو چکی تھیں۔

آیئے! میں آپ کو بھی اپنے شہر لائل پور کی ان یادوں سے مستفید کروں۔ یہ لیجیے ہمارے بسم اللّٰہ چوک جی ایم آباد والے آبائی گھر سے بمشکل ایک کلومیٹر فاصلہ پر تاریخی قادرآباد چوک موجود ہے جو ملحقہ فیکٹری ایریا کے چوراہےپر ہے۔ 1976ء کی دہائی یہاں بکثرت مزدوروں کے جلسےجلوس منعقد ہوتے۔ سرخ جھنڈے اور بینر لہراتے سوشلسٹ، ترقی پسند انقلابی لیڈر علاقائی اور عالمی سرمایہ داروں کے ظلم سے آگاہ کرتے رہے۔ ہر روز شام کے وقت یہاں چائے کے ڈھابوں پر مزدوروں کا جمگھٹا رہتا، جو ہوائی ڈاک سے آنے والے ’’جنگ‘‘ کراچی کا انتظار کرتے۔ بعدازاں مزدوروں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی خبریں لپک لپک کر سنائی جاتیں۔ اب یہ تاریخی چوک ویران ہو چکا ہے۔جس سڑک پر ہماری گاڑی ہچکولے کھا رہی ہےیہ جی ایم آباد کی بڑی شاہراہ ہے، جو زرعی یونیورسٹی کو قادرآباد چوک سے ملاتی ہے۔ اسے 1999ء N.L.C. نے تعمیر کیا تھا۔ گزشتہ 26برسوں کے دوران اس سے ملحقہ ذیلی سڑکیں کئی بار تعمیر ہو چکی ہیں، کیونکہ وہ متعلقہ کونسلرز کے ترقیاتی فنڈز سے مستفید ہوتی رہیں، لیکن افسوس یہ بڑی سڑک کارپوریشن یا شہری انتظامیہ کی کوتاہ نظری کا شکار رہی اور شہر کی تعمیرنو کے دعوؤں کا منہ چڑا رہی ہے۔ اب ہم آٹھ بازاروں کے مرکزی حصہ میں داخلہ کیلئے جھنگ بازار کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ شہر کا عوامی اور سستا ترین بازار ہے۔ لڑکپن میں ہماری یہاں توجہ کا مرکز ریگل سینما چوک اوریہاں موجود انقلاب فرانس دور کے سیاہ ڈبہ نما کیمرے رہے ہیں۔ یہاں فٹ پاتھ کی کرسیوں پر بیٹھ کر نہایت سستی اور تیز فوٹوگرافی کا مزہ لیتے تھے۔ جھنگ بازار سے ملحقہ ایک ہی اسٹریٹ پر معروف قوال نصرت فتح علی خاں مرحوم، معروف کالم نگار جناب حسن نثار کی آبائی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ یہاں معروف صوفی بزرگ بابا لسوڑی شاہ صاحب کا مزار مرجعٔ خلائق ہے۔ تھوڑا سا آگے حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمدؒ کا مزار،مدرسہ اور مسجد جامع رضویہ دینی رونقیں سمیٹ رہا ہے اور یہ رہا وہ لکڑی کا معروف بنچ جہاں معروف انقلابی لیڈر فضل حسین راہی مرحوم صبح و شام غریب ووٹروں کے جھرمٹ میں بیٹھے رہتے۔

آیئے! اب آپ کو شہر کے معروف کچہری بازار کی طرف لئے چلتے ہیں جسکی تزئین نوجاری ہے جو اگرچہ انتظامیہ کا احسن اقدام ہے، لیکن عین معروف بازار کے درمیان 10فٹ چوڑی گرین بیلٹ کی تعمیر سے تاریخی چوڑائی کم ہو رہی ہے۔ ہماری رائے ہے جہاں اسٹریٹس کی تاریخی اہمیت ہو، عوامی حساسیت بھی ہو، وہاں نئی آئٹمز اور اختراعات کا ایڈونچر نہیں کرنا چاہئے۔ گرین بیلٹ کا اضافہ کچہری بازار کی تاریخی اہمیت میں ہرگز اضافہ نہیں کرتا، بلکہ بھیڑبھاڑمیں اضافے کا باعث بنے گا۔ ایسے تاریخی بازار جیسے کچہری بازار یا دیگر سات بازار جو وقت گزرنے کے ساتھ (Dynamic Spaces) کی شکل اختیار کر لیں انکی پرانی تعمیرات اور وسعت کو صرف تاریخی اور عوامی ضروریات کے پیش نظر تبدیل کیا جائے۔ نہ کہ نباتاتی خوبصورتیوں میں ضائع کیا جائے۔اب شام ہونے کو ہے، آخر میں ہم آپ کو فیصل آباد کی تاریخی زرعی یونیورسٹی کی سیر کرواتے ہیں۔ اس کی تاریخی عمارات، درسی شعبہ جات اور کھیل کے میدانوں سے ہزاروں طالبعلم اور کھلاڑی اُفق عالم پر چھائے رہے۔ شام کے وقت ہاکی اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اس کی ہوادار فضاؤں اور لائبریریوں میں امتحانات کی تیاریاں، لڑکپن میں یہاں ہمارا معمول رہا اور خوب رہا۔ دیکھئے! شام ہو چکی ہے ان پرندوں اور کوؤں کے غول آسمان سے غائب ہیں۔ افسوس اکثر تاریخی شجر کاٹ دیئے گئے توپرندوں کی یہ پروازیں بھی بند ہو گئیں۔ جدیدیت کے نام پر انکی جگہ چھوٹے لیکن مہنگے سدا بہاردرخت لگا دیئے گئے ہیں جن پر نہ پھول آتے ہیںنہ پھل ہیں۔ یہ نام نہاد ’’سبزانقلاب‘‘ہے۔ یہاں پرندوں کا کیا کام؟ آخر میں لائل پور کی یاد میں حبیب جالب کی نظم کا ایک شعر ؎

لائل پور اک شہر ہے جس میں دل ہے مرا آباد

دھڑکن دھڑکن ساتھ رہے گی اس بستی کی یاد

تازہ ترین