سِول اسپتال، کراچی کے مُردہ خانے کے باہر، سیمنٹ کے بنے بینچ پر ایک بوڑھا شخص نہایت کسمپرسی کی حالت میں، گم صم بیٹھا تھا۔ یہ وہ مقام تھا، جہاں سانحۂ گُل پلازا میں جاں بحق ہونے والوں کے اعضا لائے جا رہے تھے اور اُن کے لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے وہاں پہنچ رہے تھے تاکہ اپنے پیاروں کی باقیات حاصل کرسکیں۔ یہ شخص بھی اُن ہی افراد میں شامل تھا۔
ہمارے پوچھنے پر بزرگ نے بتایا۔’’میرا نام محمّد ابراہیم ہے اور مَیں کمیلا اسٹاپ، آگرہ تاج کالونی کا رہائشی ہوں۔‘‘’’ کیا آپ کا بھی کوئی رشتے دار گُل پلازا میں تھا؟‘‘ اِس سوال پر اُن کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولے۔’’میرے پانچ بیٹے کم عُمری میں اللہ کے پاس چلے گئے تھے، پھر عمران پیدا ہوا اور وہ گُل پلازا میں زندہ جل گیا۔
وہ وہاں برتنوں کی دُکان پر کام کرتا تھا۔ ہفتے کی رات میری فون پر بات ہوئی، تو کہا۔’’ ابّا! آج اوور ٹائم لگاؤں گا۔‘‘ پچھلے ہفتے بھی وہ دُکان سے رات دو بجے گھر آیا تھا۔ جب وہ نہیں آیا، تو میرے دوسرے بیٹے نے اُسے فون کیا، مگر اُس نے کال نہیں اُٹھائی۔ اِتنی دیر میں ہمیں آگ لگنے کا بھی پتا چل گیا۔‘‘ اِتنا کہہ کے وہ بزرگ زارو قطار رونے لگے۔
گُل پلازا، کراچی کا تجارتی آئیکون
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع، بیسمینٹ اور چار منازل پر مشتمل، گُل پلازا شاپنگ مال، شہر کا اِس لحاظ سے ایک اہم تجارتی مرکز تھا کہ یہاں درآمدی سامان کے خواہش مند افراد کے لیے بے شمار ورائیٹز دست یاب تھیں اور اِسی لیے اِس کا شمار شہر کے منہگے شاپنگ مالز میں کیا جاتا تھا۔
لوکیشن کے حساب سے بھی یہ تقریباً مرکزِ شہر میں واقع تھا۔ سامنے صدر کا کاروباری علاقہ تھا، تو کچھ آگے جا کر جامع کلاتھ مارکیٹ سے دوسرے کاروباری علاقوں سے منسلک ہوجاتا تھا۔ پھر مرکزی شاہ راہ پر واقع ہونے کے سبب بھی یہاں تک رسائی آسان تھی۔
جب آگ کے شعلے بلند ہوئے
17 جنوری، ہفتے کی رات، تقریباً 10بج کر سات منٹ پر گُل پلازا شاپنگ مال میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اِس آگ پر دو روز میں قابو پایا گیا۔ ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے وہاں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے۔
جب آگ کا شور بلند ہوا، تو اِن افراد کی ایک بڑی تعداد عمارت سے باہر نکلنے میں کام یاب ہوگئی، لیکن88 افراد(واقعے کے چَھٹے روز جاری کردہ لاپتا افراد کی فہرست کے مطابق) اندر پھنس گئے، جو پھر جلے، کٹے اعضا ہی کی صُورت باہر لائے گئے۔ اِن میں خواتین، بچّے، گاہک، دُکان دار اور سیلز مین، سب ہی شامل تھے۔
آگ کیسے لگی؟
اِس ضمن میں ہماری مختلف دُکان داروں سے بات ہوئی، عمارت سے نکلنے والے افراد، پلازا یونین کے صدر اور ضلعی انتظامی افسران کے بیانات بھی سامنے آتے رہے، جن میں آگ لگنے کی مختلف وجوہ بیان کی گئیں۔
دراصل، مختلف افراد نے اپنے سامنے مختلف مقامات پر آگ بھڑکتے دیکھی، اِس لیے اُنھوں نے اُسی مقام سے آگ کے آغاز کا ذکر کیا، یوں اِس معاملے میں خاصا کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ تاہم، زیادہ تر آراء کے مطابق، یہ آگ مصنوعی پھولوں کی دُکان سے بھڑکی اور پھر سینٹرل ایئر کنڈیشنڈ نظام اور بجلی کی وائرنگ کے ذریعے پھیلتی چلی گئی۔
تالے، تالے اور تالے؟؟
سانحۂ گُل پلازا پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے کہ آخر لوگ باہر نکلنے میں کام یاب کیوں نہ ہوسکے۔ واقعے کی کئی فوٹیجز میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ آگ لگنے کے بعد جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے، ایک خاتون، دُکان دار سے دروازوں سے متعلق پوچھ رہی تھیں، ایک شخص گود میں بچّہ اُٹھائے ایک سے دوسرے مقام کی طرف دوڑ رہا تھا، مگر کسی کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل پایا۔
آخر شاپنگ مال کے دروازے کہاں غائب ہوگئے تھے، جو عام افراد کے علاوہ، خُود دُکان داروں کو بھی نہ مل سکے؟ اِس ضمن میں ڈی آئی جی ساؤتھ نے میڈیا کو بتایا کہ’’گُل پلازا کے16 دروازے ہیں، مگر جس وقت آگ لگی،13 دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ چوں کہ مال بند ہونے کا وقت ہوگیا تھا، اِس لیے دس بجے دروازے بند ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔‘‘بعض افراد کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ رات کو مال کے صرف تین دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔
بعض دُکان داروں نے ہمیں بتایا کہ دروازے ساڑھے نو بجے بند ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ شاپنگ مال کے دروازے رات ساڑھے نو یا دس بجے بند ہونا شروع ہوئے اور سوا دس بجے کے آس پاس پوری عمارت آگ کے شعلوں میں گِھر گئی، اُس وقت دروازے بند کرنے والے کہاں چلے گئے تھے؟ کیا اِن حالات میں، جب اندر چیخ و پکار مچی ہوئی تھی، دروازوں کے تالے باہر سے کھولے نہیں جاسکتے تھے؟
یونین صدر، تنویر پاستا کے ایک ٹی وی انٹرویو کے مطابق، جب پلازا میں آگ لگی، تو وہ بیسمینٹ میں موجود اپنے آفس میں تھے اور اُنھوں نے کے-الیکٹرک کو فون کرکے عمارت کی بجلی بند کروائی تاکہ نقصان نہ ہو۔ تو کیا یہ اُن کی اور دیگر کمیٹی ارکان کی ذمّے داری نہیں تھی کہ فوری طور پر پلازا کے بند دروازے کُھلوا کر اندر پھنسے افراد کو باہر نکلواتے۔ اور اگر دروازے کُھلے تھے، تو اُنھیں اِس کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔
دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ اِس معاملے کا دوسرا پہلو بھی مدِّنظر رہے اور وہ یہ کہ جب پلازا میں آگ لگی، تو مختلف اندازوں کے مطابق، اُس وقت عمارت میں دُکان داروں، عملے اور گاہکوں سمیت چار، پانچ ہزار افراد موجود تھے، جن کی اکثریت باہر نکلنے میں کام یاب ہوگئی۔
سوال یہ ہے کہ باقی ایک سو کے قریب افراد کیوں باہر نہ نکل سکے؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ اِسی بنیاد پر کوتاہیوں، انتظامی خامیوں اور غیر ذمّے داری کا تعیّن کیا جاسکے گا اور پھر مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے اقدامات تجویز کرنے میں بھی آسانی رہے گی۔
آگ تو بُجھی، مگر کوئی فرد زندہ کیوں نہ نکالا جاسکا؟
گُل پلازا سے صدر فائر اسٹیشن کا فاصلہ محض پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر ہے، حکومتی وضاحتیں اپنی جگہ، مگر عمومی رائے کے مطابق یہ فاصلہ کوئی آدھ گھنٹے میں طے ہوا۔ پھر جو فائر فائٹرز آئے بھی، اُن کے پاس ایسے لباس یا آلات نہیں تھے، جن کے ذریعے دھویں سے بَھرے مال میں داخل ہوکر وہاں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جاتا۔
اِسی طرح آگ بُجھانے کے لیے بھی صرف پانی ہی پر انحصار کیا گیا، حالاں کہ آگ کی نوعیت کے مطابق، بھڑکتے شعلوں پر قابو پانے کے لیے عالمی طور پر مؤثر دیگر طریقے بھی اختیار کیے جاسکتے تھے۔ اور عمارت پر جو پانی پھینکا جا رہا تھا، اُس سے متعلق بھی ہماری جن افراد سے بات ہوئی یا متاثرین کے جو بیانات میڈیا میں رپورٹ ہوئے، وہ پانی ابتدائی لمحات میں ناکافی رہا۔
پھر یہ کہ ایسے سانحات سے نمٹنے کے لیے عملے کی تربیت بھی ناکافی تو کیا، سِرے سے تھی ہی نہیں۔ یوں اِس سانحے نے ایک بار پھر تین کروڑ آبادی کے شہر کو تشویش میں مبتلا کردیا کہ جب شہر کے مرکز میں واقع عمارت کی آگ دو دن تک نہ بُجھائی جاسکے اور وہاں پھنسنے والوں میں کوئی زندہ نہ بچ پایا، تو اللہ نہ کرے، اگر کبھی کوئی زلزلے جیسا امتحان درپیش آگیا، تو شہریوں کا کیا بنے گا؟
اِس ضمن میں چیف فائر آفیسر، محمّد ہمایوں خان نے اعداد و شمار پیش کیے کہ کراچی میں صرف28فائر اسٹیشنز ہیں، جب کہ طے کردہ عالمی معیارات کے مطابق یہاں ڈھائی ہزار فائر اسٹیشنز ہونے چاہئیں۔ اِن28 فائر اسٹیشنز میں45فائر ٹینڈرز اور6 اسنارکلز ہیں۔
26 سالہ انس کی والدہ ہوں یا اپنی والدہ، خالہ اور بھابھی کی تلاش میں سرگرداں گیارہویں کلاس کا طالبِ علم رمیز، سیلز مین عارف کے ضعیف العمر چچا، عبدالسلام ہوں یا پھر نیا گولیمار کا عبدالجبار، جو بھائی اور اُس کے دوست کو ڈھونڈ رہا ہے، سب ایک ہی سوال پوچھتے ہیں۔’’آخر لوگوں کو زندہ کیوں نہیں نکالا جاسکا؟‘‘ اور یہ سوال حُکم رانوں کے ضمیروں پر کسی بھاری بَھر کم ہتھوڑے کی زوردار ضربوں سے کم نہیں۔
اگر وہ محسوس کریں تو…تمام تر شواہد کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور صوبائی حکومت کے تحت ہونے والا آپریشن مکمل طور پر ناکام ہی رہا کہ نہ تو کسی شخص کو زندہ بچایا جاسکا(جو افراد عمارت سے زندہ نکلے، وہ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی نکل گئے تھے) اور نہ ہی عمارت بچ پائی کہ اُس کے کئی حصّے گر گئے اور جو بچے ہیں، اُنھیں بھی گرانا پڑے گا۔
ہاں، یہ کریڈٹ ضرور دیا جاسکتا ہے کہ آگ دیگر عمارتوں تک نہیں پہنچنے دی گئی۔ صوبے پر پندرہ برسوں سے مسلسل حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کو سانحۂ گُل پلازا پر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کی بجائے وہ اعدادو شمار شہریوں کے ساتھ شیئر کرنے چاہئیں، جن سے پتا چلے کہ حکومت اِس میڑو پولیٹن شہر کو حادثات و سانحات سے بچانے کے لیے ریسکیو اداروں میں کیا بہتری لائی، شہر میں کتنے فائر اسٹیشن قائم کیے گئے، عملے کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا، اُنھیں کون کون سی سہولتیں فراہم کی گئیں اور سب سے بڑھ کر عملے کی تعلیم و تربیت کا کیا انتظام کیا گیا؟
قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور…؟
سانحۂ گُل پلازا میں ایک ہزار سے زاید دُکانیں، کروڑوں روپے کے سامان سمیت جل کر راکھ ہوگئیں۔ اگر کسی نے اِن دُکانوں سے کما کر اچھی خاصی رقم پس انداز کر رکھی ہو یا جائیدادیں بنالی ہوں،(جیسا کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں)، تب بھی نقصان، بہرحال نقصان ہی ہوتا ہے۔ سندھ حکومت نے متاثرہ دُکان داروں کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت نقصانات کے ازالے اور بحالی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
ماضی میں جوڑیا بازار اور کوآپریٹیو مارکیٹ وغیرہ کے متاثرہ دُکان داروں نے حکومتی مدد سے دوبارہ اپنے کاروبار کھڑے کرلیے تھے، اب بھی ایسا ممکن ہے۔ نیز، کئی سماجی تنظیموں نے بھی دُکان داروں کی مدد کے اعلانات کیے ہیں۔ اِس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سیکڑوں افراد اِن دُکانوں پر ملازمتیں کرتے تھے، جو اب بے روزگار ہوگئے ہیں، جن کے لیے کوئی امدادی پیکیج سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ہر سیٹھ کشادہ دل ہوتا ہے۔
سانحۂ گُل پلازا کے متاثرین میں وہ خواتین، معصوم بچّے اور مَرد بھی شامل ہیں، جن کی آنکھیں امدادی کارکنان کو تلاش کرتی رہیں اور جو اپنے سامنے، نہایت بے بسی سے ایک دوسرے کو آگ کا ایندھن بنتے دیکھتے رہے۔ اگر ہم صرف اُن ماؤں ہی کو اپنے تصّور میں لائیں، جن کے سامنے اُن کے جگر گوشے آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آگئے۔
وہ اُنھیں بچانے کے لیے کس طرح آہ و بکا کر رہی ہوں گی، تو ایک یہی منظر خون کے آنسو رُلانے کو کافی ہے۔ ایک دُکان سے تقریباً تیس افراد کی جلی، ٹوٹی ہڈیوں کی صُورت باقیات ملی ہیں، جو جان بچانے کے لیے وہاں اکٹھے ہوگئے تھے۔ ذرا تصوّر کریں، جب آگ کے شعلے، دھویں کے بادل اُنھیں اپنی لپیٹ میں لے رہے ہوں گے، تو وہاں کیسے دل خراش مناظر ہوں گے۔
ہم نے جن ماؤں، بہنوں، بیویوں، باپوں، بھائیوں کو باہر اپنے بچّوں، پیاروں کا انتظار کرتے دیکھا، تو یہی دیکھا کہ بس اِک قیامت تھی، جو اُن پر بار بار گزر رہی تھی۔ اِس رپورٹ کی تیاری کے دَوران ہمارا چار بار متاثرہ مقام پر جانا ہوا، جہاں ہر بار ایک ماں کو اپنے26سالہ بیٹے، انس کے لیے موجود پایا۔
ہم نے دیکھا کہ اُس خاتون کی نظریں مسلسل گُل پلازا پر مرکوز تھیں، جیسے کسی اَن ہونی کی منتظر ہوں۔ بلوچ کالونی کے رہائشی، انس کی کھلونوں کی دُکان تھی اور وہ دو بچّوں کا باپ تھا۔ اُس کا ہفتے کی رات ساڑھے گیارہ بجے آخری بار گھر والوں سے فون پر رابطہ ہوا تھا۔ ہم نے خاتون کے برابر کھڑے اُن کے ایک رشتے دار سے کوئی بات کی، تو اُس ماں نے بے چین ہوکر، نہایت جذباتی انداز میں ہم سے پوچھا۔’’ بیٹا…بیٹا…!! اندر سے کوئی خبر آئی ہے کیا۔‘‘ ہم کیا بتاتے کہ اب تو سب’’خبر‘‘،بلکہ’’قبر‘‘ بن چُکے ہیں۔
میٹروول، سائٹ کا رمیز الحسن اپنی والدہ، خالہ اور بھابھی کے غم میں نڈھال تھا۔ اُس کے بھائی، رافع کی شادی دو ماہ قبل ہی ہوئی تھی۔ یہ تینوں خواتین ایسے گُل پلازا آئیں کہ بَھرے پُرے گھر کو سُونا کر گئیں۔ نیو کراچی کے علاقے، گودھرا کے رہائشی 25سالہ حافظ محمّد عارف کی کہانی بھی بہت دُکھ بَھری ہے۔ وہ کراکری کی ایک شاپ پر ملازم تھا۔
اُس کے دو بچّے ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال کی بیٹی اور دوسرا20دن کا بیٹا۔ اُس کے چچا، عبدالسلام نے بتایا۔’’عارف بہت ہنس مُکھ تھا۔ اپنے والدین اور بیوی کا بہت خیال رکھتا تھا۔ دُکان سے گھر آتا، تو دیر تک بچّوں کے ساتھ کھیلتا، بیوی اور والدین سے خُوب باتیں کرتا۔ اُس سے رات ساڑھے دس بجے کے قریب آخری بار فون پر بات ہوئی، جس میں اُس نے کہا۔’’ہر طرف آگ جل رہی ہے۔‘‘
محمّد سلیم نے بتایا۔’’ ہم شیریں جناح کالونی کے رہائشی ہیں۔ میرے چھوٹے بھائی فضل مالک کی 35سالہ اہلیہ، جس کے تین بیٹے ہیں، ایک22سالہ بھتیجی، جس کی چند ماہ قبل شادی ہوئی اور بھابھی کی40 سالہ بہن کا بھی کچھ پتا نہیں چل رہا۔ جمعے، ہفتے کی درمیانی شب، شبِ معراج تھی، جس میں اُنھوں نے عبادت کی اور ہفتے کے دن تینوں نے روزہ رکھا۔
پھر افطار کے بعد تینوں کچھ خریداری کے لیے گُل پلازا گئی تھیں، جہاں سے واپسی نہ ہوئی۔‘‘ ہماری نیو گولیمار کے عبدالجبار سے سِول اسپتال کے مُردہ خانے کے باہر ملاقات ہوئی، جہاں وہ ڈی این اے ٹیسٹ کے سلسلے میں آئے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی، 26سالہ عبدالحمید ایک شو پیس کی دُکان پر ملازمت کرتے تھے، جب کہ اُسی علاقے کا16سالہ، فیضان ولد عبدالرشید بھی اُس کے ساتھ کام کرتا تھا۔ عبدالجبار بھی گریہ کُناں تھے کہ اگر حکومت چاہتی تو نہ صرف اُن کے بھائی، بلکہ تمام افراد کو گُل پلازا سے زندہ نکال سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔‘‘
شاہد علی خان معاشی اُمور کے ماہر اور ایک استاد ہیں۔ ہمارا اُن سے کئی برسوں کا تعلق ہے، بہت ہنس مُکھ اور زندہ دل، محفل میں کسی کو بور نہیں ہونے دیتے، مگر اُن کے ہونٹ اب مسکرانا بھول چُکے ہیں۔ اُن کا بیٹا عُمر نبیل، اپنی بیوی ڈاکٹر عائشہ اور بیٹے علی کے ساتھ گُل پلازا گیا تھا اور پھر اُن میں سے کوئی بھی واپس نہیں لَوٹا۔
عُمر نبیل کے ہاں چند روز بعد نئے مہمان کی آمد متوقّع تھی، جس کے لیے یہ خاندان خوشی خوشی مختلف اشیاء کی خریداری کے لیے گُل پلازہ گیا تھا۔ آگے کی اَلم ناک داستان شاہد علی خان کی زبانی سنیے۔’’ بیٹا شاہ راہِ فیصل میں اپنے آفس میں تھا، وہیں سے بیوی کے ساتھ گُل پلازا جانے کا پروگرام بن گیا تاکہ آنے والے بچّے کے لیے کچھ خریداری کی جاسکے۔
پھر اپنے بیٹے، علی کو ٹیوشن سے لے کر وہ تینوں گُل پلازا چلے گئے۔ ابھی وہ وہاں پہنچے ہی تھے کہ پلازے میں آگ بھڑک اُٹھی، اِسی دوران بجلی غائب ہوگئی اور عمارت میں دھواں بَھر گیا۔ یوں وہ تینوں وہاں پھنس گئے۔ میرے بیٹے نے اپنے ہم زلف، مزمّل کو فون کیا، جو قریب ہی رہتا ہے، اُسے بتایا کہ’’ ہم فرسٹ فلور پر ہیں اور یہاں آگ اور دھویں میں گِھر گئے ہیں، تم ہمیں یہاں سے نکلواؤ۔‘‘
مزمّل نے میرے بیٹے کو کال ہی پر رکھا اور اپنی گاڑی لے کر گُل پلازا کی طرف روانہ ہوگیا۔ اُس نے وہاں پہنچ کر ریسکیو والوں کو بتایا کہ فرسٹ فلور پر ایک فیملی پھنسی ہوئی ہے، اُسے باہر نکالیں۔ جس پر اُنھوں نے کہا۔’’ ہمیں لوکیشن بتائیں، کیوں کہ فرسٹ فلور تو خاصا بڑا ہے۔‘‘ مزمّل نے دوبارہ میرے بیٹے، عُمر کو فون کیا اور اُس سے کہا کہ اپنی لوکیشن بتاؤ۔
اُس نے جواب دیا۔’’بھائی! یہاں بہت اندھیرا اور دھواں ہے، کچھ نظر نہیں آرہا۔ سانس تک نہیں لیا جارہا۔‘‘ اِس دوران اُس کی بیوی، ڈاکٹر عائشہ کی آوازیں بھی آرہی تھیں، جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی وہیں موجود تھی۔ مزمّل باہر مسلسل چیختا رہا کہ کم ازکم دروازے تو کھولو، کچھ تو کرو۔ مگر ریسکیو والے یا جو لوگ بھی وہاں موجود تھے، یہی کہتے رہے کہ’’ ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘‘مزمّل نے دس، پندرہ منٹ بعد دوبار میرے بیٹے کو کال کی، تو وہ ریسیو نہیں ہوئی۔‘‘ اِن کے فون کی آخری لوکیشن دُبئی کراکری شاپ کی آئی تھی، جہاں سے چوتھے روز لگ بھگ تیس افراد کی باقیات ملیں۔
مدد ضرور کیجیے، مگر…!!
حکومتِ سندھ نے سانحۂ گُل پلازا میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا، جب کہ دُکان داروں کی بحالی کا حکومتی پیکیج بھی سامنے آیا۔ یقیناً یہ ایک اچھا قدم ہے کہ متاثرین کی کچھ تو اشک شوئی ہو گی، گرچہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔
تاہم، یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ حکومت کا کام صرف امداد تقسیم کرنا نہیں ہوتا کہ جب بھی کوئی سانحہ ہو، مالی مدد کے اعلانات ہونے لگیں۔ حکومت کا اصل کام ایسے اقدامات ہیں، جن کی مدد سے گُل پلازا جیسے سانحات کی روک تھام ہوسکے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی، جو اِس سانحے پر رپورٹ تیار کرے گی۔
کمشنر کراچی، حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ’’گل پلازا واقعے میں کسی ایک ادارے پر ذمّے داری نہیں ڈالی جاسکتی۔ ہماری کوشش ہوگی کہ حکومت کو ایسے مشورے دیں، جن سے آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔‘‘ اِس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اِس کمیٹی کی رپورٹ ماضی کی رپورٹس جیسی ہی ہوگی کہ اُن میں بھی حکومت کو مشورے دئیے جاتے رہے ہیں۔
اِسی حکومت نے 2024ء میں فائر سیفٹی آڈٹ بھی کروایا تھا، جس کے تحت145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔یعنی، ایسا نہیں ہے کہ حکومت کو مسائل کا علم نہ ہو، کیوں کہ اُس کے پاس رپورٹس اور سرویز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اصل بات عمل درآمد کی ہے، جس کا صوبے میں سخت فقدان ہے۔
صوبائی حکومت امداد و بحالی کے کاموں کے ساتھ، سانحۂ گُل پلازا سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے جامع اقدامات کرے، جن کے ذریعے ذمّے داروں کے رسمی تعیّن کی بجائے، نہایت باریک بینی سے تحقیق و تفتیش کے بعد، اصل ذمّے داروں کو سامنے لا کر نشانِ عبرت بنایا جائے۔
نیز، مختلف کمیٹیز کی رپورٹس میں دئیے گئے مشوروں پر عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ کاروباری مراکز، بڑے رہائشی کمپلیکسز، تعلیمی اداروں، عوامی مقامات اور دفاتر وغیرہ میں سیفٹی آلات کی تنصیب قانونی طور پر تو ضروری ہے ہی، مگر اب یہ تمام مقامات پر نظر بھی آنے چاہئیں۔
اِسی طرح ریسکیو ادارے بھی حکومتی توجّہ کے منتظر ہیں کہ سانحات کے وقت تو اِن کے کردار پر بہت بات ہوتی ہے، مگر چند دن بعد کوئی پلٹ کر بھی اُن کی طرف نہیں دیکھتا۔ سانحۂ گُل پلازا سے اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ میں ریسکیو نظام مکمل طور پر تباہ ہوچُکا ہے، لہٰذا اسے نئے سرے سے کھڑا کرنا ہوگا۔
شہر کی وسعت اور آبادی کے پیشِ نظر فائر اسٹیشنز قائم کرنے ہوں گے، اہل کاروں کی تعداد میں اضافہ بھی ناگزیر ہے، تو جدید آلات کی فراہمی کے بغیر سب بے سود ہے، جب کہ عملے کے ساتھ، شہریوں کو بھی تربیتی مراحل سے گزارنا ہوگا۔ حکومت اِس ضمن میں مختلف سماجی تنظیموں سے بھی تعاون حاصل کرسکتی ہے تاکہ حفاظتی انتظامات کی تربیت میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت ممکن بنائی جاسکے۔
صرف اظہارِ یک جہتی کافی نہیں
تاجروں نے سانحۂ گل پلازا کے متاثرین سے اظہارِ یک جہتی کے لیے اپنا کاروبار بند رکھا، جب کہ کئی تاجر تنظیموں نے متاثرین کی امداد کا بھی اعلان کیا، جو ایک اچھی بات ہے۔ مگر اُنھیں یہ بھی نہیں بُھولنا چاہیے کہ سانحۂ گُل پلازا نے تاجروں کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کروڑوں کا بزنس کرنے والے، چند ہزار کے حفاظتی انتظامات سے چشم پوشی کیوں کرتے رہے؟
یہ درست ہے کہ پانچ ہزار مینٹینینس فیس کی باتیں تو جھوٹ ہیں، مگر 1200روپے ماہانہ تو لیے جاتے رہے ہیں۔ یہ بھی تسلیم کہ یہ پیسے چوکیداروں، صفائی عملے کی تن خواہوں اور بجلی کے بلز وغیرہ ہی میں خرچ ہوجاتے ہوں گے، لیکن کیا1200دُکانوں کے مالکان، جن کی دُکانوں میں کروڑوں روپے کا سامان تھا، چند ہزار کا چندہ کرکے سیفٹی آلات نصب نہیں کرسکتے تھے اور یہ آلات اگر تھے، تو استعمال کیوں نہیں ہوسکے؟
کیا دُکان داروں کو اِن کا پتا ہی نہیں تھا یا اُنھیں اِن آلات کی موجودگی کا تو پتا تھا، لیکن اِن کا ستعمال نہیں جانتے تھے؟ آخر دُکان داروں سے کہیں تو کوتاہی ہوئی ہے، جس کی سزا اِس قدر بڑی تباہی کی صُورت سامنے آئی۔ حکومت اور اس کے اداروں کی کوتاہی اور غفلت ناقابلِ معافی ہے، تو کیا تاجروں کو اپنی کوتاہیوں پر غور نہیں کرنا چاہیے؟
اگر سیفٹی نہ کرنے، غیر قانونی تعمیرات اور راستوں پر قبضوں وغیرہ جیسے معاملات پر حکومتی ادارے، دُکان داروں، اُن کی تنظیموں یا یونینز سے رشوت لیتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ایسا کام کرتے ہی کیوں ہیں، جس کے لیے یوں رشوت دینی پڑی؟ اپنی مارکیٹس میں سیفٹی آلات لگائیں، قانون کے مطابق تعمیرات کریں، راستوں میں سامان نہ رکھیں، دُکان کے آگے پتھارے نہ لگوائیں، تو پھر کیوں کسی کی مٹّھی گرم کرنی پڑے گی؟
حکومت کی اِس بات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر تاجروں کو کسی ضابطے میں لانے کی کوشش کریں، تو وہ ہڑتالوں پر اُتر آتے ہیں۔گو کہ حکومت کچھ کرنا چاہے، تو وہ احتجاج کے باوجود بھی کرلیتی ہے، جیسے اجرک والی نمبر پلیٹ یا-ای چالان سسٹم کا نفاذ، مگر تاجروں کے رویّے سے متعلق بات پھر بھی درست ہے۔ زیادہ نہیں، خُود تاجر تنظیمیں ہی اپنا ریکارڈ دیکھ لیں کہ اُنھوں نے اپنی رُکن مارکیٹس میں کب کب سیفٹی آلات سے متعلق اجلاس کیے اور فیصلوں پر عمل درآمد کروایا؟
فراڈ الرٹ…!!
صرف کراچی ہی نہیں، دُور دراز علاقوں کے لوگ بھی سانحۂ گُل پلازا کا درد محسوس کر رہے ہیں، واقعات کی تفصیلات سُن کر سخت سے سخت دل نرم پڑ گئے اور آنکھیں نم ہیں، مگر دوسری طرف، سفاکیت و بے رحمی کے ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ انسانیت ہی سے اعتماد اُٹھ جائے۔
حکومت اور مختلف اداروں کی جانب سے امداد کے اعلانات ہوئے، تو کچھ افراد نے متاثرین کا لبادہ اوڑھ لیا، حالاں کہ اُن کا اس سانحے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ یعنی وہ دُکان دار تھے اور نہ ہی اُن کا وہاں پھنسے کسی فرد سے کوئی تعلق تھا۔ چار، پانچ کیس سوشل میڈیا پر نمایاں ہوئے، جن میں اِن افراد کو متاثرین میں شامل کیا جا رہا تھا، مگر پھر ان میں سے بعض افراد کے ویڈیو کی صُورت معافی نامے بھی سامنے آگئے۔
ویوز کا گندا دھندا
سوشل میڈیا جہاں سانحۂ گُل پلازا سے متعلق بہت سے حقائق سامنے لایا اور عوام کو مسلسل باخبر رکھا، وہیں اِس کے غیرمحتاط استعمال نے افواہوں کا بازار بھی گرم کیے رکھا، جس سے عام شہریوں کے ساتھ، متاثرین کو بھی شدید ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا۔ مثال کے طور پر ایک موقعے پر سوشل میڈیا نے یہ بے بنیاد بات اُڑائی کہ پلازا کی مسجد میں 40افراد موجود ہیں، جو زندہ ہیں۔
یہ خوش کُن خبر لمحوں میں پھیل گئی اور اسے سُن کر متاثرین کے جو جذبات ہوں گے، اُس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مگر بعد میں پتا چلا کہ خبر سو فی صد جھوٹی تھی۔ اِسی طرح سوشل میڈیا پر دوسرے، تیسرے روز چند افراد کے زندہ نکلنے کی خبر دی گئی، جس پر متاثرین اسپتالوں کو دوڑے، مگر یہ بھی بے بنیاد بات تھی۔
بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بلاوجہ کئی معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی، جس سے اداروں کا فوکس متاثر ہوا۔ سانحۂ گُل پلازا سے ذمّے دارانہ صحافت کی ضرورت و اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی اور یہ بھی کہ سوشل میڈیا کو کسی ضابطے میں لانا کیوں ضروری ہے۔
سازشی تھیوریز…آگ لگی نہیں، لگائی گئی؟
گُل پلازا کے کئی دُکان داروں اور دیگر متاثرین نے اِس خدشے کا اظہار کیا کہ آتش زدگی کا واقعہ، کسی تخریبی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ ایاز نامی ایک دُکان دار نے دعویٰ کیا کہ چھے ماہ قبل بھی یہاں ایک کپڑے کو آگ لگا کر بجلی کے میٹرز پر پھینکا گیا تھا، مگر چوکیداروں نے بروقت آگ پر قابو پالیا، مگر اُن کی اِس بات کی کسی اور ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ، فیصل ایدھی اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر، رضوان عرفان نے بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ بالخصوص، گُل پلازہ کے مقام پر ہائی رائیز عمارت کی تعمیر کے منصوبے کو ممکنہ تخریبی کارروائی سے جوڑا جارا ہے۔
اِس ضمن میں یہ سوالات بھی اُٹھائے گئے کہ آخر عمارت کے دروازے کیوں بند کیے گئے؟ اور آگ اُن ہی دروازوں پر کیوں لگی، جو کُھلے ہوئے تھے۔ بعض افراد یہ بھی کہتے سُنے گئے کہ آخر آگ اِتنی تیزی سے کیسے پھیل سکتی ہے، ضرور کسی نے بیک وقت مختلف مقامات پر آگ لگائی ہوگی۔
تاحال یہ ساری باتیں، محض باتیں ہی ہیں۔ تاہم، پھر بھی تحقیقی رپورٹ میں اِس طرح کے تمام سوالات اور پہلوؤں کا جائزہ ضرور لینا چاہیے تاکہ متاثرین مطمئن ہوسکیں۔ نیز، یونین کو بھی اِس معاملے میں جامع جواب جاری کرنا چاہیے۔
کراچی، پھر کراچی ہے
مُلک میں زلزلہ ہو یا سیلاب کی تباہ کاریاں، امدادی کاموں میں کراچی والے سب سے آگے ہوتے ہیں۔ پھر خُود اِس شہر میں ایسے اداروں کی کمی نہیں، جو یہاں کے شہریوں کی معاونت سے غریبوں، ناداروں کی خدمت کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ سانحۂ گُل پلازا کے موقعے پر بھی کراچی والوں کا جذبۂ خدمت نمایاں رہا۔
مختلف کمیونیٹز اور تنظیموں کی جانب سے امدادی کاموں میں مصروف رضاکاروں کی کھانے پینے کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا رہا۔ اِس سلسلے میں کئی تنظیموں نے متاثرہ مقام پر باقاعدہ کیمپس بھی لگائے۔ اِس ضمن میں مرکزی مسلم لیگ، جماعتِ اسلامی کی الخدمت، اُمّہ ویلفئیر ٹرسٹ، کالعدم ٹی ایل پی اور تحریکِ انصاف کے کیمپس نظر آئے، جب کہ سیلانی ٹرسٹ کے رضاکار بھی وہاں ملے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دو سیاسی جماعتوں، یعنی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے وہاں نہ تو امدادی کیمپ تھے اور نہ ہی اُن کے کارکنان کسی امدادی سرگرمی میں نظر آئے، حالاں کہ یہ دونوں جماعتیں کراچی کی نمایندگی کی دعوے دار ہیں۔
اب کیا ہونا چاہیے…؟؟
سانحۂ گُل پلازا، قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں کہ اِس میں جہاں اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا، وہیں کئی اَن مول، قیمتی جانیں بھی اس آگ کا ایندھن بن گئیں۔ یہ سانحہ مدّتوں یاد رکھا جائے گا اور مختلف مواقع پر اِس کے حوالے دیئے جاتے رہیں گے۔
دوسری طرف، اِس طرح کے واقعات ہمیں خُود احتسابی کی بھی دعوت دیتے ہیں اور زندہ قومیں اِن حادثات و سانحات سے سبق سیکھ کر مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرتی ہیں۔ حکومت، تاجروں اور عوامی سطح پر ہمیں بھی ایسے قلیل اور طویل مدّتی اقدامات کرنے ہوں گے، جن کے ذریعے گُل پلازا جیسے سانحات سے بچا جاسکے۔
٭ حکومتِ سندھ نے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے، جو سانحۂ گُل پلازا کے اسباب اور ذمّے داران کا تعیّن کرنے کے ساتھ، مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔
اِس کمیٹی کو ماضی کی طرح روایتی یا ’’مٹّی پاؤ‘‘ انداز میں کام کرنے کی بجائے، واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمّے داران کا تعیّن ضرور کرنا چاہیے اور عوام کو بتایا بھی جائے کہ کمیٹی نے کسے ذمّے دار ٹھہرایا ہے۔ پھر حکومت ذمّے دار افراد اور اداروں کو نشانِ عبرت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑے تاکہ آئندہ کوئی قانون سے کھلواڑ کی جرأت نہ کرسکے۔
٭ تمام متعلقہ اداروں اور حکومت کو پہلے ہی علم تھا کہ تجارتی مراکز، دفاتر اور تعلیمی اداروں وغیرہ میں حفاظتی انتظامات پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا، مگر اِس ضمن میں موجود قوانین پر عمل درآمد کروانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
حکومت کو اب ڈنڈا اُٹھانا ہوگا اور خواہ کچھ بھی ہوجائے، تمام مقامات پر سیفٹی لاز کی پاس داری یقینی بنانی ہوگی۔ بالخصوص، ایس بی سی اے میں بڑا آپریشن ناگزیر ہے۔
٭سانحۂ گُل پلازا نے کراچی میں فائر اسٹیشنز، وہاں دست یاب سہولتوں، عملے اور اُن کی تربیت سے متعلق ایک بار پھر سنگین سوالات اُٹھائے ہیں۔ حکومتِ سندھ، کراچی کی وسعت اور آبادی کے لحاظ سے نہ صرف یہاں، بلکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو نظام پر توجّہ مرکوز کرے۔ اِس ضمن میں ترقّی یافتہ ممالک کا لائحۂ عمل اپنانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ سندھ حکومت تو پوری دنیا کو اپنی نقل کرنے کے مشورے دیتی رہتی ہے۔
٭ فوری طور پر ہنگامی صُورتِ حال سے نمٹنے کی مشقوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اِس ضمن میں غیر سرکاری تنظیموں اور مختلف اداروں کی معاونت سے زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شمولیت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
گزشتہ برس کراچی کے علاقے، لیاری میں ایک رہائشی عمارت گرنے کے بعد( جس میں لگ بھگ دو درجن افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق سنگین نوعیت کے سوالات سامنے آئے۔ عوامی اور میڈیا دباؤ کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے اِس محکمے کے کچھ افسران کا بطور’’سزا‘‘ تبادلہ کیا، جب کہ شہر بَھر میں مخدوش عمارتوں کے سروے اور اُنھیں سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو کسی سانحے سے بچایا جاسکے۔
اِس فیصلے کی روشنی میں کئی مخدوش عمارتیں سیل کی گئیں، جن کی خبریں میڈیا کی رونق بھی بنیں، لیکن جیسے ہی لیاری واقعہ پرانا ہوا، سیل شدہ عمارتیں دوبارہ کُھل گئیں۔ کوئی بھی شخص اولڈ ایریا میں ایسی عمارتوں اور اُن میں جاری سرگرمیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ سانحۂ گُل پلازا کے بعد ایک بار پھر ایس بی سی اے کے کالے کرتوت رپورٹ ہو رہے ہیں۔
اِس شاپنگ مال کی تعمیرات میں بھی کئی طرح کی بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ اگر کرپٹ اور غیر ذمّے دار اداروں کی کوئی فہرست تیار کی جائے، تو اُس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سرِفہرست ہوگی۔ پھر یہ کہ اِس ادارے کی کرپشن اور مجرمانہ غفلت اِس لحاظ سے بھی سنگین ہے کہ یہ عمارتوں سے متعلق حادثات کا سبب بنتی ہے۔ جب تک ایس بی سی اے کو’’تیزابی غسل‘‘سے نہیں گزارا جاتا، اِس ادارے کی لُوٹ مار کراچی اور اُس کے شہریوں کے لیے بربادی کا سامان کرتی رہے گی۔
شہرِ سوختہ نصیب
رحمان فارس
آگ کب دیکھتی ہے کون ہے کس کا پیارا
آگ اندھی ہے، کوئی چیز کہاں دیکھتی ہے
نَو شگفتہ کوئی غنچہ ہو کہ صد سالہ شجر
آگ تو آگ ہے، کب پیر و جواں دیکھتی ہے
کتنا بدبخت ہُوں مَیں، سوختہ لاشیں ڈھو کر
محوِ آرام ہُوں یُوں جیسے ہُوا کچھ بھی نہیں
اِک خبر سی تو سُنی ہے کہ کہیں آگ لگی
مجھے کیا اِس سے لگے، میرا جلا کچھ بھی نہیں
یہ الگ بات کہ رہ رہ کے خیال آتا ہے
جانے اُن لوگوں نے کس کس کو پکارا ہوگا
جلتی آنکھوں میں کہیں ہوگی عزیزوں کی شبیہ
کیسے جسموں میں ہر اِک شُعلہ اُتارا ہوگا
اِس لیے بھی نہ کوئی اُن کی مدد کو پہنچا
عام انسان جو تھے، لائقِ تعزیر جو تھے
بھسم ہونا ہے یہاں کیڑوں مکوڑوں کا نصیب
جل کے سب راکھ ہوئے، سوختہ تقدیر جو تھے
بخش دینا اُنہیں اے آگ کے خالق ! مرے رب !
جیتے جی سوختہ جانوں نے مُصیبت سہہ لی
اور کیا اِن کے لیے ہوگا بھلا روزِ حساب؟
اِن شہیدوں نے یہیں ساری اذیّت سہہ لی