• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں پیش آنے والے آتش زدگی کے حالیہ واقعے، یعنی سانحہ ٔ گُل پلازا کے بعد ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور ان واقعات میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے بعد لوگ طرح طرح کے سوالات کرتے نظر آتے ہیں۔

اس ضمن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم کتنے محفوظ ہیں اور اگر شہر پر کوئی بڑی قدرتی آفت ٹوٹ پڑی یا کوئی بہت بڑا ناگہانی حادثہ ہوگیا تو شہریوں کی جان اور مال کس حد تک محفوظ ہوں گے؟ ،لوگ پوچھ رہے ہیں کہ عمارتیں جل رہی ہیں یا ہمارا نظام؟

بلڈنگ کوڈ، آتش زدگی سے تحفّظ کے لیے قاعدے قوانین، ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اور فائر اینڈ ریسکیو سروس موجود ہے، لیکن سانحات بڑھتے جارہے ہیں، دوسری جانب اربابِ اختیار ہمیں سوالات کے جواب دینے کے بجائے ایک بار پھر بُھول بُھلیّوں کی سیر کرارہے ہیں۔

سیکھنے والوں نے سیکھا، مگر ہم؟

جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا بھر میں ہنگامی حالات میں امدادی کارروائیاں کرنے والے اداروں کے کردار، ان کے مقاصد اور تنظیم میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ زمانوں کی ضرورتوں کے مطابق یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا بھر میں شہری دفاع کے محکمے قائم ہوئے، تاکہ زمانۂ جنگ میں سویلین آبادی کو جنگ کی تباہ کاریوں سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ 

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بعد اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی تیاریاں کی گئیں اور ان ہتھیاروں سے تحفّظ کے لیے پناہ گاہیں تعمیرکی گئیں ۔ 1970ء کے بعدکے برسوں میں بہت سے ممالک میں ایسے بہت سے واقعات رُونما ہوئے جن میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کی ضرورت پڑی۔ 

چناں چہ ان اداروں کی کارکردگی کے بارے میں بہت سے نئے سوالات نے جنم لیا۔1980ء کے بعد کے برسوں میں سرد جنگ ختم ہونے سے دنیا کو لاحق جوہری خطرات میں کمی آئی، لیکن جدید طرزِ زندگی کے تیزی سے فروغ کے باعث بہت سے دیگر خطرات میں اضافہ ہونے لگا۔ 

اگرچہ پہلے کے مقابلے میں اب دنیا میں بڑی جنگوں کی تعداد کم ہے، لیکن قدرتی آفات‘ انسانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات اور دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں اور مؤخرالذّکر دو خطرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگئے ہیں۔

آگ پورے پورے شہر تباہ کرچکی

کہا جاتا ہے کہ تاریخ سے بڑا اُستاد کوئی نہیں ہوتا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آگ پورے پورے شہر تباہ کرچکی ہے۔ 8اکتوبر 1871ء کو شکاگو شہر کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ یہ آگ چوبیس گھنٹے سے زائد وقت تک بھڑکتی رہی اور اس کے خوف سے بہت سے افراد دریا میں کود گئے اور ہلاک ہوئے۔ اس واقعے میں تین سو افراد ہلاک اور نوّے ہزار بے گھر ہوئے اور دو سو ملین امریکی ڈالرکی مالیت کی جائیدادیں تباہ ہوگئی تھیں۔

اسی طرح 8 اپریل 1906ء کو علی الصباح امریکا کی تاریخ کی زبردست تباہی آئی۔ زبردست زلزلے کے باعث سان فرانسسکو کے مختلف حصّوں میں گیس کے اسٹوو اور لیمپ اُلٹ جانے‘ بجلی کے تار ٹُوٹ جانے اور گیس کی لائنیں پھٹنے سے آگ بھڑک اُٹھی۔ پانی کی مرکزی لائنیں ٹُوٹ پُھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے آگ بُجھانے والا عملہ مؤثر انداز میں آگ کے شعلوں پر قابو نہیں پاسکتا تھا، لہٰذا بلاکسی روک ٹوک کے تین یوم تک جگہ جگہ آگ بھڑکتی رہی۔ 

زلزلے اور آتش زدگی کے نتیجے میں 28 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہوگئیں‘ ڈھائی لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے اور تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے نتیجے میں شہرکا زیادہ تر حصّہ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور 500 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا نقصان ہوا۔

آتش زدگی کی تاریخ میں اتوار، 2ستمبر 1666ء کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس روز لندن کی تاریخ میں آتش زدگی کا سب سے بڑا واقعہ رونما ہوا، جسے ’’گریٹ فائر آف لندن‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ آگ پانچ یوم تک بھڑکتی رہی اور لندن کو تاراج کرتی رہی۔ تقریباً پُورا شہر راکھ تلے دب گیا تھا، کیوں کہ شہر میں زیادہ تر تعمیرات لکڑی سے کی گئی تھیں۔

اس واقعے میں سینٹ پال سمیت 87 گرجا گھر اور 13 ہزار دو سو مکانات تباہ ہوئے، تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے میں صرف چھ افراد یقینی طور پر ہلاک ہوئے۔ لیکن مؤرخّین کا خیال ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ رہی ہوگی۔ اس واقعے کے بعد لندن کی فائر سروس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے کام کا آغاز ہوا۔ 1865ء میں میٹروپولیٹن فائر بریگیڈ ایکٹ منظور کیا گیا۔

کراچی کے فائر بریگیڈ کی الم ناک کہانی

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ اس اعتبار سے فائر بریگیڈکی ذمّے داریاں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن کراچی فائربریگیڈ کی کہانی افسر شاہی کے نامناسب رویّوں‘ سرکاری محکموں کی بُھول بھلّیوں‘ تضادات اور بہت سی حیران کُن باتوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کے ساتھ ابتدا ہی سے سوتیلی ماں کا سا سلوک ہوتا آرہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ محکمہ میونسپل ایکٹ کے تحت کام کررہا تھا۔1951ء میں سرکاری حکام کو اچانک خیال آیا کہ زمانۂ جنگ میں شہروں کی حفاظت کے لیے کوئی محکمہ قائم ہونا چاہیے۔ 

چناںچہ محکمۂ شہری دفاع قائم کیا گیا اور زمانۂ جنگ میں آتش زدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اس محکمے نے اپنی فائر سروس کا آغاز کیا۔ پھر حکام کو یہ خیال آیا کہ یہ کام تو فائر بریگیڈ کا ہے، لہٰذا محکمۂ شہری دفاع کی فائر سروس 1960ء میں میونسپل فائر سروس میں ضم کردی گئی۔ 2001ء میں شہری حکومت کے قیام سے قبل یہ محکمہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت تھا پھر شہری حکومت کے تحت ہوااور اب پھر بلدیہ کے تحت ہے۔

محکمۂ شہری دفاع نے43برس قبل شہر میں آگ بُجھانے کی کُل ذمّے داری میونسپل فائر سروس پر ڈال دی تھی۔ چناںچہ ہونا یہ چاہیے کہ آتش زدگی کے امکانات، ان سے تحفّظ اور آگ لگنے کی صورت میں امدادی کارروائیاں کرنے کی تمام ذمّے داریاں میونسپل یا شہری حکومت کی سروس کے تحت ہونی چاہئیں، تاہم اس ضمن میں بھی کراچی فائر بریگیڈ کے ساتھ افسرِ شاہی نے ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘‘ والا پُرانا کھیل کھیلا اور بجائے اسے مستحکم کرنے کے محکمہ جاتی بُھول بھلّیوں میں اُلجھا دیا گیا۔ 

بتایا جاتا ہے کہ نئے نظریات سامنے آنے کے بعد دنیا میں شہری دفاع کے محکمے ختم کردیے گئے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ محکمہ نہ صرف موجود ہے بلکہ آتش زدگی کے امکانات اور ان سے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے اور ہر طرح کی عمارتوں اور حدود میں آتش زدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تیاری کو اطمینان بخش قرار دینے کے بارے میں این او سی (اعتراضات سے مبرّا ہونے کا اجازت نامہ) دینے کا ذمّے دار ہے۔ 

چناںچہ اس محکمے کے اہل کارآج بھی مختلف مقامات پرآگ سے تحفّظ کے لیے بالٹیاں اور آگ بُجھانے والا آلہ (فائر ایکس ٹنگشر) لگاتے نظر آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کام کے لیے محکمے کے لوگ معاوضہ لیتے ہیں۔ بعض افراد الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ بالٹیاں اور آلہ لگاکر وہاں اپنی تختیاں لگادیتے ہیں اور بس۔ 

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس محکمے کی ذمّے داری زمانۂ جنگ میں آگ سے تحفّظ اور آتش زدگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی تھی‘ لیکن طویل عرصے سے یہ محکمہ زمانۂ امن میں بھی اس کے لیے ذمّے دار تصوّر کیا جارہا ہے جو غلط بات ہے۔

دوسری جانب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر حکومت محکمۂ شہری دفاع کو قائم رکھنا چاہتی ہے تو اس محکمے کے اہل کاروں کو ان کا اصل کام یاد دلایا جائے اور آگ سے تحفّظ کے اقدامات کرنے اور کسی عمارت یا حدودکو آگ سے محفوظ قرار دینے کے لیے این او سی جاری کرنے کا اختیار واپس لے کر فوری طور پر سٹی فائر سروس کے حوالے کردینا چاہیے۔

اس محکمے کا اصل کام یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جنگ کی صورت میں آتش زدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے عوام کو مؤثر تربیت دے اور دس ہزار افرادکی آبادی پر ایک وارڈن پوسٹ قائم کرے، جن میں بیلچے‘ رسیّاں اور آگ بُجھانے کے لیے درکار بعض ضروری اور بنیادی نوعیت کی اشیاء موجود ہونی چاہئیں۔ تاہم یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ لوگوں کو تربیت دینے اور وارڈن پوسٹوں کے قیام کے معاملات صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔

محکمۂ شہری دفاع اور فائر بریگیڈ کے انتظام اور کارکردگی پر گہری نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمۂ شہری دفاع فوری طورپر ختم کردینا چاہیے اور اس پر صرف ہونے والا بجٹ سٹی فائر سروس کے حوالے کردینا چاہیے۔ اس طرح سٹی فائر سروس کو زیادہ بجٹ ملنے سے اس کی کارکردگی بہتر ہوسکے گی اور وہ آتش زدگی کے امکانات‘ آتش زدگی سے تحفّظ اور آگ لگنے کی صورت میں امدادی کارروائی کرنے والا واحد ادارہ بن جائے گا۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ آج محکمۂ شہری دفاع اوّل الذّکر دو معاملات کا ذمّے دار ہے اور وہ ہی این او سی جاری کرتا ہے۔ لیکن سٹی فائر سروس کو اس سے نہ توکوئی معلومات ملتی ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ یہ محکمہ جس ادارے، عمارت کو این او سی جاری کرتا ہے، اس میں جب آگ لگتی ہے تو اسے بجھانے کی ذمّے داری سٹی فائر سروس پر ڈال دی جاتی ہے۔ 

دوم یہ کہ جب ایسی کسی عمارت یا مقام پر آگ لگتی ہے تو حفاظتی اقدامات اور محفوظ راستوں کے بارے میں سٹی فائر سروس کو کچھ علم نہیں ہوتا، لہٰذا اسے آگ بجھانے کے دوران بہت سے خطرات اور مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

عالمی کیا، یہاں دیسی معیار بھی نہیں

عالمی معیارکے مطابق ایک لاکھ کی آبادی کے لیے ایک اسپتال، ایک پولیس اسٹیشن اور ایک مکمل فائر اسٹیشن مع چار معیاری فائر ٹینڈرز ہونا چاہیے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کراچی کی آبادی ً تین کروڑ نفوس سے زائد ہے۔ اس طرح اس شہر میں300مکمل فائر اسٹیشنز اور1200معیاری فائر ٹینڈرز ہونے چاہئیں۔ لیکن 1997ء تک شہر میں کُل دس فائر اسٹیشنز تھے۔ بعدازاں ان دس فائر اسٹیشنز کے سازوسامان اور عملے کو تقسیم کرکے اسٹیشنوں کی تعداد بیس کردی گئی تھی۔

ذمّے داری بہت، مگر سہولتیں؟

پاکستان کے سب سے بڑے رہائشی، تجارتی اور صنعتی شہرکے زیادہ تر نجی اور سرکاری اداروں میں آگ بُجھانے کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چناںچہ سٹی فائر سروس کو آتش زدگی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے میں لوگوں کی مددکے لیے پہنچنا ہوتا ہے۔

مگر اس کے ہیڈکوارٹر میں6 مرتبہ بجلی کی 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، پانی کی محدود فراہمی، 450ملازمین کی کمی اور ہیڈکوارٹر کنٹرول روم میں4فون اٹینڈ کرنے کے لیے صرف ایک آپریٹر ہے۔ 

فائر بریگیڈ کا مواصلاتی نظام 2011 میں خراب ہوا جو15سال سے بند ہے۔ ملازمین کی انشورنس، میڈیکل کوریج نہیں، علاج پر خود پیسے خرچ کرکےبعد میں بل وصول کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریسکیو 1122 میں1شفٹ میں 36آپریٹرز ہیں۔ 224 فائر فائٹرز ہیں مگر گاڑیاں صرف تین ہیں۔

مشکلیں کچھ کم نہیں

آج تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں صرف28فائر اسٹیشنز ہیں۔ آگ بجھانے کے لیے 43 فائر ٹینڈر، 8 اسنارکل، دو باؤذر ، ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی کا ہے جس میں تاخیر کی وجہ سے بڑے نقصانات ہو رہے ہیں۔ شدید ساختی نقصان اور ملبہ سرچ آپریشن کو مشکل بنا دیتا ہے۔

فائر فائٹنگ انفرا اسٹرکچر کی کمی، فائر ہائیڈرنٹس، پانی کی رسائی، بروقت فائر ٹینڈرز نہ پہنچنا ،لائف سپورٹ گاڑیوں کی کمی، ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکوں کے باعث فائر ٹینڈرز کا تاخیر سے پہنچنا بھی بہت سے واقعات میں ہونے والے نقصانات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ 2024میں شہر میں آتش زدگی کے 2 ہزار328اور2025میں 2 ہزار 524 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

شہر میں آتش زدگی کی عام وجوہات

کراچی میں آتش زدگی کے اکثر واقعات کے بارے میں تحقیق بتاتی ہے کہ ان میں سے بیش تر کی وجوہات میں الیکٹریکل شارٹ سرکٹ، ناقص برقی تنصیبات و آلات، عمارتوں میں آتش گیر سامان کا بے ترتیبی سے جمع ہونا (کپڑے، پلاسٹک، کارٹن وغیرہ) ،فائر سیفٹی آلات کی کمی یا ناقص حالت، شامل ہوتی ہیں۔

ہنگامی اخراج کے راستوں یاایمرجنسی ایگزٹس کا نہ ہونا، ناقص ہونا یا بند کردیا جانا، تنگ یابند راستے، ناقص ساختہ ڈیزائن، تنگ راہ داریاں یا بعداز تعمیر تبدیلیاں کسی بھی ہنگامی حالت میں میں خطرات کئی گنا بڑھادیتی ہیں۔

آگ لگنے کی صورت میں دھواں اور زہریلی گیس عمارت میں داخلے اور ریسکیو کو خطرناک بناتی ہیں۔ اس دوران سانس لینے کے خصوصی آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمارت کا جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہونا ریسکیو ٹیموں کے لیے نمایاں خطرناک ہوتا ہے۔

ریسپانس ٹائم

آتش زدگی کی صورت میں ریسپانس ٹائم کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف علاقوں اور تعمیرات کی نوعیت کے لحاظ سے آئیڈیل ریسپانس ٹائم3 تا 12 منٹ ہوتا ہے۔ صنعتی تنصیبات والے علاقے اے کلاس میں آتے ہیں، جن کے لیے آئیڈیل ریسپانس ٹائم تین منٹ ہوتا ہے۔ تجارتی علاقے بی کلاس میں آتے ہیں، جن کے لیے یہ وقت پانچ منٹ ہوتا ہے۔ 

تجارتی اور رہائشی علاقے سی کلاس میں آتے ہیں، جن کے لیے یہ وقت 5 تا 8 منٹ ہوتا ہے۔ صرف رہائشی علاقے ڈی کلاس میں آتے ہیں، جن کے لیے یہ وقت 8 تا 12 منٹ ہوتا ہے۔ کراچی میں سائٹ کا علاقہ اے کلاس میں، فیڈرل بی ایریا کا تجارتی علاقہ بی کلاس میں اور ناظم آباد کا رہائشی علاقہ سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔

اسی طرح شہر کے دیگر علاقوں کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اُن کے مطابق ریسپانس ٹائم کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ فائراسٹیشن ایسی جگہ قائم ہو، جہاں سے وہ چھ کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقوں کو کوَر کر سکے۔

دو دہائیوں کے دوران شہر میں بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات ، بدعنوانیوں اور ناقص انفرا اسٹرکچر نے شہر کی شناخت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ کیا جاتا ہے، لیکن یہاں ’’کسی اور قسم کا آڈٹ ‘‘کیا جاتا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات نے فائر ٹینڈرز کے لیے بر وقت کسی مقام پر پہنچنا مزید مشکل بنایا ہوا ہے۔

فائر بریگیڈ کی درجہ بندی کے لحاظ سے کراچی کے صنعتی علاقے، گلستان جوہر، آئی آئی چند ریگر روڈ، وغیرہ اے پلس ہیں یعنی ان علاقوں میں مختلف نوعیت کے خطرات ہیں۔ یہ شہر بہت وسعت اختیار کرگیا ہے۔

ٹریفک جام اور فائر بریگیڈ کی گاڑی اور اس کے کام کی اہمیت کے بارے میں شعور کی کمی کی وجہ سے بہت سے افراد راستہ نہیں دیتے، لیکن پھر بھی ہمارے فائر فائٹرز جان پر کھیل کر ہر ممکن تیز رفتاری سے جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اصولا ہر کثیر المنزلہ عمارت میں آگ بجھانے کا خود انحصار نظام ہونا چاہیے، جس میں فائر ایکس ٹنگشر، اسپرنکلر، ہوزریل، فائر ہائیڈرنٹ، اسموک ڈیٹیکٹر، الارم، آٹو میٹک فائر الارم وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور انہیں ایک کنٹرول روم سے منسلک ہونا چاہیے۔ فائر ہائیڈرنٹ میں پانی کا مناسب دباؤ ہونا اور ان پر تربیت یافتہ عملہ مامور ہونا چاہیے۔

کراچی کے فائر بریگیڈ کے ہوز پائپ دس گیارہ منزل پر پانی پھینکنے کے قابل نہیں ہوتے۔ پی این ایس سی بلڈنگ میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے انہیں گیارہویں اور اس سے اوپر کی منازل پر پانی پھینکنا پڑا۔ ان کے پائپس کے اندر سنتھیٹک لائننگ ہوتی ہیں جو ایک خاص حد تک دباؤ برداشت کرسکتی ہیں۔

پی این ایس سی بلڈنگ کے واقعے میں یہ پائپس بے تحاشا دباؤ اور کھڑکیوں کے ٹوٹنے والے شیشے کے ٹکڑے لگنے کی وجہ سے لیک ہوئے، لیکن آگ بجھانے والوں نے کسی بھی مرحلے پر اپنا کام نہیں چھوڑا اور دوسرے روز صبح تک امدادی کارروائی کرتے رہے۔

تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی

کراچی کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ یہاں تعمیراتی قوانین میں بہت سے سقم ہیں اور جو قوانین موجود ہیں، اُن پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کرایا جاتا۔ لہٰذا رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں آتش زدگی پر قابو پانے کے انتظامات اور اُن کے نقشوں کے بارے میں سٹی فائر سروس کی کوئی اطلاع نہیں ہوتی۔ 

کثیر المنزلہ عمارتوں میں کسی ہنگامی صورتِ حال میں لوگوں کے انخلا کے لیے راستے نہیں بنائے جاتے اور جہاں بنائے جاتے ہیں، انہیں قوانین کے برخلاف استعمال کیا جاتا ہے، چناں چہ ایسی صورت میں نہ صرف فائر بریگیڈ کے عملے کو امدادی کارروائیاں کرنے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں، بلکہ اُن کی جان کو لاحق خطرات میں کئی گُنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ 

بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز مجریہ2002ء میں آتش زدگی کے بارے میں دو ابواب شامل کیے گئےتھے۔ اس کا تیرہواں باب فائر ریزسٹنس اینڈ فائرپری کاشنز اور چَودہواں باب فائر ریسکیو اسٹرکچرل ریکوائرمنٹ کے عنوان سے ہے۔ اُن میں یہ کہاگیا ہے کہ اس حوالے سے فلاں فلاں اقدامات کیے جانے چاہئیں، لیکن یہ ذکر نہیں ہے کہ اُن پر کون سی اتھارٹی عمل درآمد کرائے گی اور اسے کیا کیا سہولتیں حاصل ہوں گی۔ صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ یہ کام شہری حکومت کی ذمّے داری ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شہر میں تعمیر ہونے والی ہر نئی عمارت کا نقشہ سٹی فائر سروس سے بھی منظور کرایا جائے۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 2002ء کے ضابطوں کے مطابق شہر کی کوئی بھی تین منزلہ یا اُس سے زائد بلندی والی عمارت آگ سے تحفّظ کے اطمینان بخش انتظامات کے بارے میں این او سی حاصل کرنے کے بعد ہی تعمیر کی جا سکتی ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ اس پابندی پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ 

دوسری خرابی یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کسی تخصیص کے بغیر رہائشی، تجارتی، صنعتی اور کم اور بہت زیادہ بلندی والی تعمیرات موجود ہیں، لہٰذا جب فائر بریگیڈ کو کہیں سے آتش زدگی کی اطلاع ملتی ہے، تو اُسے کم وقت میں بہت زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ 

اگر انہیں یہ معلوم ہوکہ جس علاقے میں آگ لگی ہے، وہاں کس قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تعمیرات کیسی ہیں، گلیوں اور سڑکوں کی چوڑائی کتنی ہے، جس عمارت میں آگ لگی ہے، اُس کا نقشہ کیسا ہے اور وہاں کس قسم کے امدادی سامان، کتنی گاڑیوں اور عملے کی ضرورت ہوگی اور وہاں پہنچنے کے لیے کن کن مقامات سے گزرنا ہوگا، وہاں ٹریفک کی کیا صورتِ حال ہوگی اور وہاں پہنچنے میں کتنا وقت صرف ہوگا، تو اُن کی بہت سی مشکلات کم ہوسکتی ہیں اور کارکردگی زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔

یہ معلومات اُسی وقت حاصل ہوسکتی ہیں، جب تمام متعلقہ ادارے فائر بریگیڈ کوایک مربوط نظام کے ذریعے مسلسل یہ معلومات اور نقشے فراہم کریں اور متعلقہ معاملات میں اُس سے اجازت نامہ حاصل کریں۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے شہر دہلی کی آبادی جب 94 لاکھ تھی تو وہاں37مکمل فائر اسٹیشن تھے اور وہاں کوئی بھی عمارت فائر بریگیڈ سے این او سی حاصل کیے بغیر تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ 

ترقی یافتہ ممالک میں فائر سروس کا عملہ اتنا بااختیار ہوتا ہے کہ اگر کسی مقام پرفائر سروس سے اجازت حاصل کیے بغیر تعمیراتی کام ہورہا ہو، تو وہ اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچ جاتا ہے اور سرخ ٹیپ لگا کر کام رُکوا دیتا ہے اور جرمانہ وصول کرسکتا ہے۔

خطرات بڑھتے جارہے ہیں

بتایا جاتا ہے کہ اچھی طرح تعمیر کی گئی عمارت میں اگر بارہ چودہ گھنٹے تک آگ لگی رہے، تب بھی وہ نہیں گرتی۔ جب تک آگ کی بنیاد (Seed of Fire) پر پہنچ کر پانی نہ ڈالا جائے وہ نہیں بجھتی۔ لہٰذا فائر فائٹر کو وہاں تک لازماً جانا پڑتا ہے۔ 

اگر کسی عمارت کا ڈھانچا ہی بیٹھ جائے تو ہیلمٹ یا حفاظتی سوٹ آگ بجھانے والے کو بچا نہیں سکتا اور اگر وہ کسی طرح بچ جائے تو لمحوں میں دھواں اس کی جان لے لیتا ہے۔ آگ کو سمجھنا اور اسے بجھانا سائنس ہے۔ آگ بجھانے والے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر امدادی کارروائی کرتے ہیں۔

اصولاً عمارتوں میں ایک سے زائد ہنگامی راستے ہونے چاہئیں جو مخالف سمت میں ہوں۔ کثیر المنزلہ عمارتوں میں ہیلی پیڈ بھی ہونے چاہئیں۔ داخلی راستے ایسے ہوں کہ ایمبولینس اور فائر ٹینڈر عمارت کی حدود میں داخل ہوسکیں۔ آج کل اکثر تجارتی اور رہائشی عمارتوں میں مختلف اقسام کے تار پھیلے ہوتے ہیں۔ 

ایک داخلی راستہ ہوتا ہے، جس پر عموماً بجلی کے میٹر نصب ہوتے ہیں لہٰذا اندر داخل ہونا اور سیڑھی لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ گرل حرکت نہیں کرسکتی، گیس کے کنکشن کے لیے ربر کے پائپ استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

بجلی کے تاروں اور آلات پر نظر نہیں رکھی جاتی، بجلی کی وائرنگ کے لیے ناقص میٹریل استعمال کیا جاتا ہے، بچّے موم بتی، اگر بتی اور ماچس سے کھیلتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو آگ بجھانے کا طریقہ معلوم نہیں، یہ تمام باتیں بہت خطرناک ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید