کراچی ایک مرتبہ پھر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ شہر کے مرکز میں واقع ایک معروف اور خریداروں سے بھرا رہنے والا مرکزِ خریداری، گُل پلازا، نہ صرف خود جل کر راکھ ہوگیا بلکہ تادمِ تحریر موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سانحے میں اِکہتّر قیمتی جانیں بھی گئیں۔
حسبِ معمول ،اس سانحے کے آغاز سے اب تک طرح طرح کے الزامات، دعوے، خبریں، اعدادوشمار، نئی و پرانی تصاویر اور نہ جانے کیا کچھ سامنے آرہا ہے۔ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا دہائیوں پرانا کھیل زور و شور سے جاری وساری ہے۔ لیکن ایسے میں بہت سے وہ نکات پس منظر میں چلے گئے ہیں ،جن پر ماضی سے اب تک توجّہ نہ دینے کی وجہ سے ہم بار بار ایسے سانحات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
سانحے کے بعد سانحے
کراچی کئی دہائیوں سے ہر تھوڑے عرصے بعد کسی سانحے کا شکار ہوتا آرہا ہے جس کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ شہر بہت بے ہنگم انداز میں اورحد سے زیادہ پھیل چکا اور خطرات کی شرح پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی، مگر ہمارے روایتی طرزِ حکم رانی اور رویّوں میں تبدیلی آئی اور نہ حفاظتی سہولتوں کی تعداد اور معیار میں کوئی خاص اضافہ ہوا ہے۔
چند برس قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں کولڈ اسٹوریج میں سات قیمتی جانوں کے زیاں کے بعد وہاں آگ بجھانے کی کارروائی کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
کہیں سے آواز آرہی تھی کہ اس ضمن میں غفلت برتی گئی ہے۔ کوئی کہہ رہاتھا کہ بروقت امدادی کارروائیاں کی جاتیں تو سات قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔ کوئی فوم کی جگہ پانی کے استعمال پرسوال اٹھا رہا تھا۔ کوئی امدادی کارروائیوں کے لیے درکار ضروری آلات اور سازوسامان کی عدم موجودگی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مناسب اور موثر نظام نہ ہونے کا رونا روتا نظر آتا تھا۔
بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈّے کی حدود میں کسی بھی قسم کی آتش زدگی پر قابو پانے کی اوّلین ذمے داری سول ایوی ایشن اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے، لیکن وہ مذکورہ واقعے میں غیر موثر نظر آئی اور اس کی تیاری مکمل نہیں تھی۔
دوسری جانب بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کا حال بھی برا نظر آتا تھا۔ اگرچہ وہ مدد کو پہنچا تھا مگر اس کا حال یہ تھاکہ47میں سے کل 22 فائر ٹینڈر ز کام کے قابل تھا۔ ملازمین کو تن خواہیں وقت پر نہ ملنے کا مسئلہ بھی سامنے آیا تھا۔
یونیفارم الاؤنس کبھی ملنے اور کبھی بند ہو جانے کی خبریں آئی تھیں۔ اوورٹائم کی رقم کابھی کچھ یہی حال بتایا گیا تھا۔ اہل کاروں کو ناقص جوتے فراہم کیے جانے کی باتیں ہوئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ وہ زیادہ درجہ حرارت پر پگھلنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں کام کرنے والے ملازمین کو اپنی زندگی دائو پر لگانے کے عوض صرف 50روپے فائر الائونس کی مد میں ملنے کا تذکرہ ہوا تھا جو برطانوی عہد میں ملا کرتا تھا۔
محکمے کے تحت شہر بھر میں کل22فائر اسٹیشنزاور ان میں برسوں پرانی گاڑیاں ہونے کی باتیں سامنے آئی تھی۔ آلات اور مواصلات کا نظام اکیسویں صدی کے تقاضوں سے کوسوں دور نظراس وقت بھی نظر آتا تھا اور اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس وقت صرف دو فائر اسٹیشنز میں وائرلیس کی سہولت موجود ہونے اور ہرفائر ٹینڈر کو ماہانہ 60لیٹر ایندھن ملنے کا انکشاف ہوا تھا۔
حالاں کہ آٹھ گیئر والی پرانی گاڑیاں ایک لیٹر میں صرف چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شہر میں چودہ، پندرہ برسوں میں آتش زدگی کے جو چند بڑے واقعات ہوئے ان میں اس محکمے کی کارکردگی پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔
سوچیے کہ کیا آج بھی ایسا ہی کچھ نہیں ہو رہا ہے؟
گُل پلازا کے سانحے میں ٹیلی ویژن اور موبائل فونز کی اسکرین پر جن لوگوں نے امدادی سرگرمیوں کے مناظر دیکھے وہ گواہ ہیں کہ ان کی آنکھو ں نے کس ادارے کے کتنے فائر ٹینڈر دیکھے اور وہ آگ بجھانے کے لیے کیا استعمال کررہے تھے۔ عینی شاہدین کے جو بیانات نشر ہوئے وہ بھی صورت حال کی وضاحت کررہے تھے۔
فائر انجینئرنگ اور ہم
آج دنیا بھر میں آگ بجھانے کا عمل صرف شعلو ں کو سرد کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسے فائر انجینئرنگ کا درجہ مل چکاہے۔ اس شعبے میں کئی ممالک میں اعلیٰ ڈگریاں دی جاتی ہیں اور متعدد اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی ادارے وجود میں آچکے ہیں۔
یہ دراصل سائنس اور انجینئرنگ کا ایسا ملاپ ہے جس کا بنیادی مقصد آگ اور دھویں سے نہ صرف انسانی جانیں اور املاک کو بچانا، بلکہ ماحول کو بھی ان کے مضر اثرات سے محفوظ کرناہے۔ یہ دراصل فائر پروٹیکشن انجینئرنگ ہے جو آگ کا پتا لگانے، اسے روکنے، پھیلنے سے بچانے اور فائر سیفٹی انجینئرنگ کے اصولوں پر کام کرتی ہے۔
اس کا مرکزی نکتہ انسانی روّیوں پر توجہ دینا اور آتش زدگی کی صورت میں انسانوں کے انخلاء کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ فائر انجینئرنگ بنیادی طور پر فائر پروٹیکشن ،ایکٹیو فائر پروٹیکشن، پیسیو فائر پروٹیکشن، اسموک کنٹرول اینڈ منیجمنٹ، انخلا کی سہولتوں، بلڈنگ ڈیزائن، آتش زدگی سے تحفظ کے منصوبوں، آگ کی جہتوں، آتش زدگی کی صورت میں انسانی رویے، خطرات کے تجزیے اور جنگلات میں لگنے والی آگ کی انتظام کاری کے اصولوں پر کام آتی ہے۔
فائر پروٹیکشن انجینئر
فائر پروٹیکشن انجینئر آتش زدگی کا واقعہ رونما ہو نے سے پہلے اپنا کام شروع کرتا ہے۔ وہ کسی عمارت کے ڈیزائن اور اس میں موجود خطرات کی نشان دہی کرتا ہے، آتش زدگی سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر تجویز کرتا ہے اور ممکنہ آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حل بھی پیش کرتا ہے۔ چناں چہ اس کا کام کوئی عمارت بننے سے قبل ہی شروع ہو جاتا ہے۔
وہ عمارت کا ڈیزائن بنانے والے آرکی ٹیکٹ کی فائر انجینئرنگ کے پہلوئوں سے مدد کرتا ہے۔ عمارت کی زندگی کا اندازہ لگانے میں عمارتیں بنانے والوں اور عمارتوں کے مالکان کی مدد کرتا ہے۔ انہیں آتش زدگی کے واقعات کی تفتیش کرنے والوں کے طور پر بھی بعض اداروں میں ملازم رکھا جاتا ہے۔
امریکا میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد فائر انویسٹی گیٹرز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جنہوں نے وہاں لگنے والی آگ کے بارے میں بہت گہری اور مفصل رپورٹ تیار کی تھی۔ امریکی خلا ئی ادارہ، ناسا، بھی فائر پروٹیکشن انجینئرز کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے تمام پروگرامز کی حفاظت کو بہتر سے بہتر کرسکے۔
ان انجینئرز کو دوران تعلیم، ریاضی، طبعیات ، کیمیا، ٹیکنیکل رائٹنگ، پروفیشنل انجینئرنگ، مٹیریل سائنس، شماریات، ڈائنامکس اور تھرمو ڈائنامکس ، فلیوڈ ڈائنامکس، ہیٹ ٹرانسفر، انجینئرنگ اکنامکس، ایتھکس، سسٹم ان انجینئرنگ، انوائرنمنٹل سائیکالوجی، کمبسشن، ممکنہ خطرات کے تجزیے اور ان کی انتظام کاری، فائر سپنشن سسٹمز، بلڈنگ کوڈز وغیرہ جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
تاریخ میں پہلی منظم کوششوں کا سراغ
آتش زدگی پر قابو پانے کے لئے تاریخ میں پہلی منظم کوششوں کا سراغ قدیم روم میں ملتا ہے۔ اس زمانے میں کہیں آتش زدگی کا واقعہ رونما ہونے کی صورت میں لوگ اپنے طور پر غلاموں یا اپنے جان پہچان والوں کے ذریعے آگ پر پانی پھینکنے کا کام کرتے تھے۔ یورپ میں 1666ء سے پہلے اس ضمن میں کوئی مربوط اور منظم نظام نہیں تھا۔
تاہم لندن کی تباہ کن آگ کے بعد وہاں ابتدائی طور پر ایسی کوشش سامنے آئی تھی۔ اسی طرح امریکا میں بھی 1608ء سے پہلے ایسی کوششوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ جیمز ٹاؤن، ورجینیا میں بڑے پیمانے پر آگ لگی اور پھر بوسٹن، نیویارک اور فلاڈلفیا میں بھی آتش زدگی کے بڑے بڑے واقعات رونما ہونے پررضاکار ادارے قائم ہونا شروع ہوئے۔ بنجمن فرینکلن نے 1736ء میں فلاڈلفیا میں یونین فائر کمپنی قائم کی تھی جو بعد میں رضاکار فائر کمپنیز کے لیے معیار بن گئی تھی۔
پاکستان سے باہر کی دنیا
ترقی یافتہ ممالک میں آگ بجھانے والا عملہ صرف آگ بجھانے کی تربیت حاصل نہیں کرتا بلکہ اس دوران وہ کئی دیگر اہم خدمات بھی انجام دیتا ہے مثلاً ہنگامی طبی امداد دینا (ایک ٹیکنیشین یا لائسنس والے نیم طبی عملے کی مانند) ایمبولینسز کا انتظام کرتا ہے، گاڑیوں کو بچاتا ہے، خطرناک مواد کو آگ پکڑنے سے محفوظ کرتا ہے، لوگوں کو تباہی سے بچنے میں مدد دیتا ہے اور آتش زدگی کے خطرات کا اندازہ لگاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آگ بجھانے والا عملہ کسی بھی آتش زدگی کی صورت میں پہلی حفاظتی دیوار تصور کیاجاتا ہے۔ چناں چہ وہاں صرف فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ نہیں ہوتا، بلکہ اسے فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ کراچی میں بھی اگرچہ اس محکمے کو فائر اینڈ ریسکیو کا نام دے دیا گیا ہے مگر اسے اس کے آگے کچھ نہیں دیا گیا ہے۔
یہاں تو اس محکمے کے اہل کاروں کے پاس اپنی جان بچانے کےلیے درکار ضروری سازوسامان اور لباس وغیرہ تک نہیں ہے۔ کراچی کا فائر بریگیڈ ہر طرح کی آگ بجھانے کےلیے طلب کیا جاتا ہے اور وہ حتی المقدور جان ہتھیلی پر رکھ کر کام بھی کرتا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اس محکمے میں مہارت کے اعتبار سے مختلف شعبے ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے والوں کے لیے متعلقہ شعبوں میں کلاسیں لینا اور مخصوص تربیت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر شعبے کےلیےاس کی ضرورت کے مطابق گاڑیاں، آلات، سازوسامان اور لباس فراہم کیا جاتا ہے۔
آگ کی اقسام اور انہیں بجھانے کی تیکنیک
بعض اقسام کی آگ ایسی ہوتی ہیں جن پر صرف پانی کے ذریعے قابو نہیں پایا جاسکتا، بلکہ بعض صورتوں میں پانی کے استعمال سے آگ مزید بھڑکتی ہے۔ تیل، ربر، پلاسٹک اور کیمیکلز وغیرہ میں لگی ہوئی آگ پر قابو پانے کے لیےمتعدد اقسام کے فوم اور کیمیکلز استعمال کئے جاتے ہیں۔
کراچی ایئرپورٹ کے ویئر ہائوس اور کولڈ اسٹوریج میں بعض اطلاعات کے مطابق کیمیکلز، ادویات، موبائل فون وغیرہ کا کافی ذخیرہ تھا چناں چہ وہاں لگنے والی آگ تمام تر کوششوں کے باوجود کافی دیر تک بھڑکتی رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس آگ پر قابو پانے کے لیے اگر پانی کے بجائے فوم استعمال کیا جاتا تو شاید آگ اتنی دیر تک نہ بھڑکتی رہتی اور شاید سات انسانی جانیں بھی بچ جاتیں۔
آگ بجھانے والے فوم
آگ پر قابو پانے کے لیےاستعمال کیا جانے والا فوم دراصل کیمیائی مرکبات کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جو مائع شکل میں ہوتا ہے اور جب اسے پانی کی طرح آگ پر پھینکا جاتا ہے تو وہ آگ کے اوپر ایک تہہ یا غلاف بنا دیتا ہے، چناں چہ اسے آکسیجن نہیں مل پاتی اور وہ بجھ جاتی ہے یا اس کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ اس قسم کا پہلا فوم بنانے کا سہرا ایک روسی انجینئر، الیگزینڈر لورین کے سر ہے جس نے 1902ء میں اس کا پہلا باقاعدہ تجربہ کیا تھا۔
آگ بجھانے والے فوم بنیادی طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں، یعنی کلاس اے اور کلاس بی فوم۔ اے کلاس کے فوم 1980ء کی دہائی کے وسط میں جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ لیکن یہ آگ پکڑنے والے مائع کے دھماکا خیز بخارات پر قابو نہیں پاسکتے۔ کلاس بی فوم کی دو بڑی ذیلی اقسام ہیں، سنتھیٹک فوم اور ایکوس فلم فارمنگ فوم۔
سنتھیٹک فوم بہنے میں رواں ہوتا ہے اور شعلوں پر تیزی سے قابو پالیتا ہے۔ تاہم آتش زدگی کے بعد تحفظ دینے کے معاملے میں اس کا کردار محدود ہوتا ہے۔ دوسری قسم کی بنیاد پانی ہوتا ہے۔ یہ ہائیڈروکاربن (مثلاً پیٹرول ، ڈیزل وغیرہ) اور اس سے بنی اشیاء پر تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری قسم الکوحل ریزسٹنٹ ایکوس فلم فارمنگ فوم ہے۔ یہ الکوحل یا اس سے بنی اشیاء کی آگ پر تیزی سے قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروٹین فوم بھی آگ بجھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں قدرتی پروٹین استعمال کی جاتی ہے۔ یہ بایوڈی گریڈ ایبل یعنی ماحول میں مل جانے والا ہوتا ہے۔ یہ فوم سست روی سے پھیلتا ہے لیکن آگ پر ایک کمبل سا بنادیتا ہے جو حرارت کے خلاف زیادہ مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور زیادہ پائے دار ہوتا ہے۔
روبوٹ، چھوٹے طیارے، مخصوص گاڑیاں
ترقی یافتہ دنیا میں آتش زدگی کے واقعات میں جانی اور مالی نقصانات کم سے کم کرنے کے لیے ہر ممکن ذرایع استعمال کیے جاتے ہیں۔ وہاں فائر سائنس کے ماہرین نے برس ہا برس کی محنت کے بعد اس ضمن میں بہت سی قابل فخر کام یابیاں حاصل کی ہیں۔ چند برس قبل آسٹریلیا میں چار پہیوں والی موٹرسائیکل نما گاڑی تیار کی گئی جو دراصل جنگلات میں لگنے والی آگ کے خلاف لڑنے والی پہلی دفاعی لائن، یعنی لائٹ ٹینکر ہے۔
اس کے ٹائر ریس والی کاروں کی طرح بہت چوڑے ہیں جو گاڑی کو تیز رفتاری سے جنگلات کے اندر تک پہنچا دیتے ہیں اور یوں فوراً امدادی کارروائی شروع کردی جاتی ہے۔ بعض ممالک میں اس کام کے لیے روبوٹ تیار کیے جارہے ہیں۔
اس ضمن میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈیاگو، میں ایک روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو آگ کے قریب جاکر مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے وہاں کا تھرمل ڈیٹا ریکارڈ کرکے چھوٹے انفراریڈ کیمرے کے ذریعے تصاویر لیتا، تھری ڈی سین بناتا اور پورا نقشہ تیار کرکے متعلقہ گاڑی یا اسٹیشن کو بھیج دیتا ہے۔
بعض ممالک میں آگ پر قابو پانے کے لیے چھوٹے طیارے اور ہیلی کاپٹرز مخصوص ہیں۔ مذکورہ یونی ورسٹی ایسے روبوٹک اسکاؤٹس تیار کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے جو رہائشی اور تجارتی مقامات پر آگ لگنے کی صورت میں فائر فائٹرز کی ہر ممکن حد تک مدد کرسکے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ روبوٹ اسٹیریو ویژن استعمال کرکے آگ میں گھری ہوئی عمارت کے اندر کی حقیقت کے قریب تر اندرونی تصاویر اور متعلقہ معلومات اپنے اسٹیشن کو بھیجے گا۔ ان معلومات کے نتیجے میں فائر فائٹرز کو یہ پتا چل جائے گا کہ عمارت کے اندر درجہ حرارت کتنا ہے، اندر کون کون سی گیسیز ہیں، عمارت کا ڈھانچا کس حال میں ہے اور کتنے افراد وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
اندازہ کیجیے کہ ان معلومات کے ہوتے ہوئے امدادی کارروائیوں کا معیارا ور ان کی کام یابی کے امکانات کتنے ہوتے ہوں گے اور ایسی صورت میں کتنا جانی اور مالی نقصان ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ آگ بجھانے والے عام فائر ٹینڈرز تک مناسب تعداد اور حالات میں نہیں رکھتے۔ سازوسامان اور آلات تو دور کی بات ہے۔
وہ جو جلتی فضاؤں میں مارے گئے
کراچی کے فضائی مستقر پر دہشت گردوں کے خوف ناک حملے کے نتیجے میں کولڈ اسٹوریج میں پناہ لینے والے سات افراد کی الم ناک اموات نے پورے پاکستان کو مزید سوگ وار کردیا تھا۔ مذکورہ کولڈ اسٹوریج پرانے ہوائی اڈے یا حج ٹرمنل کے بالمقابل واقع تھا۔ دہشت گردوں نے داخل ہونے کے لیےجو راستے استعمال کیے ان میں سے ایک یہ راستہ بھی تھا۔
انہوں نے ہوائی اڈے کی حدود میں داخل ہونے کے بعد اطلاعات کے مطابق گھیرے میں آجانے پر خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا جس کے نتیجے میں کولڈ اسٹوریج میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ بجھانے پر مامور اہل کاروں نے کولڈ اسٹوریج میں بھڑکتی ہوئی آگ پر ابتدائی طور پر قابو پانے کے بعد کارروائی روک دی تھی۔
لیکن ویئر ہائوس اور کولڈ اسٹوریج میں اندر آگ سلگ رہی تھی۔ دہشت گردوں کی ابتدائی کارروائی کے بعد ان افراد نے جان بچانے کی غرض سے کولڈ اسٹوریج میں پنا ہ لی تھی، لیکن وہاں آگ نے ان کی زندگی کے چراغ گل کردیئے۔ اس ضمن میں جو غفلت ہوئی وہ علیحدہ بحث ہے۔
کراچی میں سرد خانے میں جان بچانے کی غرض سے پناہ لینے اور پھر وہیں انتقال کرجانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس شہر میں ایسا ہی ایک واقعہ مئی 2005ء میں بھی پیش آیا تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ وہ واقعہ مئی میں اور کراچی ایئر پورٹ والا واقعہ جون کے مہینے میں پیش آیا۔
مئی 2005ء میں نیپا چورنگی کے قریب مدینتہ العلم نامی امام بارگاہ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعدیہ اندوہ ناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دراصل تین دہشت گردوں نے مئی کے آخری ایام میں مذکورہ امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ اندر جاکر زیادہ جانی نقصان کرسکیں۔
پولیس کے اہل کاروں نے انہیں امام بارگاہ میں داخل ہونے سے روکا اور ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیا تھا۔ دو دہشت گردوں میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑالیا اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد وقوعہ کے ارد گرد اور شہر کے مختلف مقامات پر پُرتشدّد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان تمام واقعات میں مجموعی طور پر12افراد جان سے گئے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد بعض شرپسندوں نے وقوعہ کے ارد گرد جہاں دیگر پُرتشدّد کارروائیاں کیں، وہیں قریب واقع ایک ریستوران کو بھی آگ لگادی تھی۔ اس وقت ریستوران میں چھ ملازمین پھنس گئے تھے۔
چار ملازمین زمینی اور پہلی منزل پر آگ سے جھلس کر ہلاک ہوئے اور دو نے جان بچانے کی خاطر بیسمنٹ میں واقع سرد خانے میں پناہ لی تھی۔ تاہم وہ وہاں پھنس کر رہ گئے اور وہیں جان کی بازی ہار گئے۔
اب بیس برس بعد گُل پلازا میں واقع ایک دکان سے تیس افراد کی لاشیں ملی ہیں، جو یقیناٌ وہاں جان بچانے کی غرض سے جمع ہوئے ہوں گے، لیکن ان کے اجسام جل کر راکھ ہوگئے۔
سوچیے کہ ہم کل سے آگے بڑھے ہیں یا ہم نے ترقّیِ معکوس کی ہے؟
ورثاء کی شکایات، تردید اور جدید ٹیکنالوجی
کولڈ اسٹوریج میں جاں بہ حق ہونے والوں کے ورثا متعلقہ حکام پر سخت برہم نظر آتے تھے۔ نشریاتی اداروں کی بہ راہ راست کوریج کے دوران اور اخبارات کے ذریعے انہوں نے انتظامیہ پر غفلت کے سنگین الزامات عائد کیے۔ ان میں سے زیادہ تر کا اصرار تھا کہ ان کے پیارے پیر کی شام تک زندہ تھے۔
وہ اس بات کے حق میں دلیل کے طور پر یہ بتاتے تھے کہ کولڈ اسٹوریج میں پھنسے فلاں شخص نے اپنے پیاروں کو فلاں وقت پر کال کی اور فلاں وقت پر پیغام بھیجا تھا۔ دوسری جانب ایئرپورٹ کے متعلقہ ذمے داران اس بارے میں یک سر مختلف موقف اختیار کیے ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کولڈ اسٹوریج کی آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ورثا کا یہ کہنا غلط ہے کہ کولڈ اسٹوریج میں پھنسے ہوئے افراد اگلے روز شام تک زندہ اور اپنے پیاروں سے رابطے میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد اس قدر شدید آگ میں اتنی دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ آج بھی جاں بہ حق ہونے والوں کے ورثاکے حوالے سے اسی قسم کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔
گُل پلازا کے سانحے کی تحقیقات کے لیے بھی ماضی کے سانحات کی طرح کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ یہ کمیٹی جہاں دیگر پہلوئوں سے تحقیقات کرے گی وہاں اسے یہ بھی غور کرنا چاہیےکہ مرحومین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرکے کیا یہ معلوم کیا گیا کہ اموات کس وقت ہوئی تھیں۔
کمیٹی کو مرحومین کے سیل فون نمبرز حاصل کرکے یہ جانچ کرنی چاہیے کہ وہ کب تک کام کرتے رہے، ان میں سے کس نے آخری کال کب اور کس نمبر پر کی اور پیغام بھیجا۔ جن ورثا کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے پیارے آگ لگنے کے کافی دیر بعد تک ان سے رابطے میں تھے ان کے موبائل فون سیٹ حاصل کرکے ان کی فوریسنک جانچ کی جائے۔
کراچی فائربریگیڈ کے فائر ٹینڈرز کی لاگ بکس کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ وہ کب سے کب تک امدادی کارروائیوں میں کہاں مصروف رہیں۔ جیو فینسنگ کے ذریعے گُل پلازا کی حدود میں آگ لگنے کے وقت سے عمارت کے مکمل طورپر آگ کی لپیٹ میں آنے کے وقت تک ہونے والی لاسلکی سرگرمیوں (مثلاً سیل فون اور وائرلیس کے ذریعے کیے جانے والے رابطوں) کاپتا چلایا جائے تاکہ یہ بات سامنے آسکے کہ مرحومین، ورثا، سول ایڈمنسٹریشن کے حکام اوراور کراچی فائر بریگیڈ کے فائر ٹینڈرز اس عرصے میں کہاں تھے اور کس کا کس سے کب رابطہ ہوا تھا۔
لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ان قاعدوں اور قوانین پر عمل درآمد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے جو آتش زدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے پہلے سے موجود ہیں۔
علاوہ ازیں ماہرین کی ان سفارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے جو وہ ایسے سانحات کے بعد پیش کرتے چلے آئے ہیں، لیکن انہیں اب تک درخورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا ہے۔