• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد سے ایک پراپرٹی ڈیلر دوست کا فون آیا کہ سنہری موقع ہے یہاں مکانوں کی قیمتیں بہت کم ہونیوالی ہیں، کوئی اچھا سا گھر خرید لو۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ دارالحکومت تبدیل ہونے جا رہا ہے؟ پرجوش ہوکر بولے ’نہیں، لیکن امید ہے عنقریب لوگ دھڑا دھڑ گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔‘ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ’بیوی کو گھورنے یا طلاق کی دھمکی دینے پر جیل جانے کا جو نیا قانون آیا ہے اس کا اطلاق صرف اسلام آباد پر ہے، آگے تم خود سمجھدار ہو۔‘ اس کی بات سن کر پہلے تو دل میں آئی کہ اسلام آباد میں کوئی سستا سا گھر سلیکٹ کرلوں، پھر سوچا کیا فائدہ، بالآخر تو مزید سستا بیچ کر نکلنا ہی پڑے گا۔ نیا قانون اچھا ہے لیکن اس میں توبہ کی کوئی شق نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کو گھورے یا خلع کی دھمکی دے تو شوہر فریاد لیکر کہاں جائے۔ فی زمانہ تو حال یہ ہے کہ شوہروں کی بقا کیلئے قانون لانے کی ضرورت ہے کیونکہ دھیرے دھیرے شوہر معدوم ہوتے جارہے ہیں اور غلامی جڑ پکڑ رہی ہے۔ جن یورپی ممالک کی اتباع میں یہ قانون لایا گیا ہے وہاں اسی ڈر سے لوگ شادیاں کرنا ہی چھوڑ رہے ہیں۔ بیویوں کو گھورنا نہیں چاہئے، لیکن اللّٰہ جانتا ہے بیویوں کو گھورنے سے اگر بیویوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے تو شوہر کو گھورنے سے تو شوہر پورے کا پورا مجروح ہو جاتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ ثابت کیسے کیا جائے گا کہ شوہر نے گھورا ہے یا طلاق کی دھمکی دی ہے۔ میرے خیال میں اسکے لئے بھی چار گواہوں کی شرط ہونی چاہئے۔ یاد رہے کہ پرچہ اسی صورت میں کٹے گا اگر شوہر بیوی کو طلاق کی دھمکی دے گا، باقاعدہ طلاق پر اس کا کوئی اطلاق نہیں۔

٭ ٭ ٭

بسنت منانے کی تیاریاں شروع ہیں۔ کوئی بھی کھیل اپنے اصل میں برا نہیں ہوتا۔ فٹبال کے کھیل میں اگر کھلاڑی ہاتھ میں چاقو لیکر کھیلنا شروع کر دیں تو اس میں فٹ بال کا کیا قصور یا ہاکی کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کے سر میں ہاکی مارنا معمول بن جائے تو اس سے ہاکی کا کھیل برا نہیں ہو جاتا۔ بسنت ایک تہوار تھا۔ لاہوراس کا مرکز تھا اور میں نے پورے لاہور کو بارہا بسنتی رنگ میں رنگا دیکھا ہے۔لیکن اس میں دھاتی ڈور کے استعمال نے اسے خونی بنا دیا۔آپ 1980ءکے عشرے کی بسنت دیکھ لیں، کیا اموات کی شرح یہی تھی؟۔جہاں تہوار نہیں ہوتے وہاں خونخوار ہوتے ہیں۔ عید قرباں کے موقع پر کئی وڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں قصائی زخمی ہوتے ہیں یا کوئی جانور رسہ تڑا کر شہریوں کو زخمی کر دیتاہے۔یہ سب لاپروائی اور کوتاہی سے ہوتاہے۔ پنجاب حکومت نے اپنے تئیں بہت سے حفاظتی اقدامات کے ساتھ پتنگ اڑانے کی اجازت دی ہے،عوام بھی دودھ پیتےبچے نہیں، انہیںبھی خود سے خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کیااحتیاطیں کرنی چاہئیں۔یہ الگ بات ہے کہ یہاں تو کرونا کے سخت لاک ڈاؤن میں بھی لوگ دوائیاں خریدنے کے بہانے باہر کا راؤنڈ لگا آتے تھے۔اللّٰہ کرے کہ بسنت کاتہوار خوشی خوشی گزر جائے۔ جو لوگ یہ تہوار نہیں منانا چاہتے انہیں چھٹی کا یہ دن گھر میں رہ کر انجوائے کرنا چاہئے اور جنہیں مجبوری میں باہر جانا پڑے وہ ایک دن کے لیے احتیاط کرلیں تو کوئی حرج نہیں۔

٭ ٭ ٭

کینیڈا کے ایک قصبے میں ’ناکامی کی نمائش‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں لوگوں کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنی ناکامی پر مشتمل چیزیں اس نمائش میں پیش کریں۔ لوگوں نے اس دلچسپ نمائش میں نوکری سے نکالنے کے نوٹس، جاب مسترد ہونے کے خطوط، عشق میں ناکامی کے خطوط حتیٰ کہ شادی میں ناکام ہونے والے اپنے جوڑے بھی لٹکائے۔ ناکامی اصل میں کامیابی کی ٹریننگ ہوتی ہے بہت سے لوگ اسے فائنل میچ سمجھ کر دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت ناکامی کے جواز دوسروں میں تلاش کرتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی بیماری ہے۔ لوگ یہ سننا ہی نہیں چاہتے کہ اپنی ناکامی کی وجہ وہ خود ہیں۔کبھی یہ الزام رشتے داروں پر دھرا جاتاہے، کبھی کولیگز پر اور کبھی حالات پر۔ آپ نے اکثر لوگوں سے یہ جملہ سنا ہوگا کہ میں اس لئے ناکام ہوگیا کہ مجھے خوشامدکرنا نہیں آتی۔ حالانکہ خوشامد یہ بھی کرتے ہیں لیکن کامیابی نہیں ہوتی۔عموماًایسے لوگ دوتین ناکامیوں کے بعد خوشامدمیں طاق ہوجاتے ہیں لیکن ناکامی پھربھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ناکام لوگ کسی مثال کا حصہ بھی نہیں بنتے۔ ہمیں جن لوگوں کی کہانیاں سنا کر متاثر کیا جاتا ہے وہ سب کے سب کامیاب لوگ ہوتے ہیں۔ گنتی کے کامیاب لوگوں کو منتخب کرکے لاکھوں ناکام لوگوں کو اگنور کردیا جاتا ہے اور کہانیوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے یوں کیا اور وہ کامیاب ہوگیا لہٰذا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ کامیاب اور ناکام لوگ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، ہاں کامیاب بندہ اپنی کامیابی کی بہترین وجوہات تراشنے لگتاہے جوسب کو اچھی بھی لگتی ہیں جیسے ڈیڑھ درجن پلاسٹک سرجریاں کروانے والی اداکاراؤں سے پوچھا جائے کہ آپکی خوبصورتی کا راز کیا ہے تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ میں تازہ پھلوں کا جوس پیتی ہوں۔ میرے جیسا بندہ یہ سنکر فوراً گاجر کا جوس پینے نکل پڑتا ہے کہ شاید کوئی چمتکار ہو جائے۔ ’ناکامیوں کی نمائش‘ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دوبارہ غلطیوں سے بچ جاتا ہے۔ بھیانک غلطیاں تو ہوتی ہی کامیابی کے بعد ہیں کہ انسان اسی زعم میں رہتاہے کہ مجھے سب آتا ہے۔ کینیڈا کے جن لوگوں نے کھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے اُنہیں کوئی سزا نہیں سنادی گئی، نہ ان پر کسی نے جملے کسے ہیں بلکہ سب نے اسکی تحسین کی ہے۔ ناکامیاں کس کی زندگی میں نہیں ہوتیں،ان کا اعتراف نہ صرف انسان کا اعتماد بڑھاتا ہے بلکہ ناکامیوں کے سوگ سے بھی بچاتاہے۔ جنہیں صرف کامیابیوں کا کریڈٹ لینے کا شوق ہے وہ ساری زندگی ناکامیوں کاملبہ دوسروں پرڈال کر ہرآئے گئے کو اپنی اسٹوریاں سناتے ہیں اور ناکامی والے پارٹ پر پہنچ کر بڑا معصومانہ سا سوال کرتے ہیں کہ’آپ ہی بتائیے میری کیا غلطی تھی‘۔

تازہ ترین