• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیپلزپارٹی چاہتی تو کام کرکے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے کام کے ذریعے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ گل پلازا کا سانحہ آخری سانحہ نہیں، وہ جوڈیشل کمیشن کی بات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ اگلے حادثات سے بچنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ہم اس نہج پر ایک دن میں نہیں 18 سال میں پہنچے ہیں، ہماری جو بھی کمی کوتاہی ہے، وہ جوڈیشل انکوائری سے پتہ چل جائے گی۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے کام کے ذریعے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی، کراچی کی پوری سڑکیں کھدی ہوئی ہیں، لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں اور سیکیورٹی کا کوئی نظام نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت میں ہیں، ہم نے لڑ کر وفاق سے کراچی کےلیے 15 ارب روپے کا پیکیج لیا، اس پیکیج پر کام شروع ہوگیا، وزیراعلیٰ سندھ نے خط لکھ کر کام بند کروادیا، وجہ صرف یہ تھی کہ پیسہ ایم کیو ایم کے ذریعے خرچ ہو رہا تھا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحے کے بعد کوئی ایک سڑک یا دکان بند نہیں ہوئی، ہم آئینی اور قانونی بات کر رہے ہیں جھگڑے کی بات نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ اپنے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو وفاق کو اختیار ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کرے، غلط یا صحیح ہمارے لوگوں نے 18ویں ترمیم پر دستخط کیے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی موجودہ حکومت میں شامل ہونے سے پہلے ہم نے 26ویں آئینی ترمیم کےلیے ایم او یو پر دستخط کیے، ہماری ترمیم تھی کہ جو اختیارات صوبوں سے ڈسٹرکٹ کو جانے ہیں وہ آئین میں لکھ دیے جائیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد پی ایف سی ایوارڈ آئین میں لکھ دیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے وقت ن لیگ مان گئی مگر پیپلز پارٹی نہیں مانی، ن لیگ نے کہا کہ 26ویں ترمیم ہونے دیں ہم آپ کی ترامیم 27ویں ترمیم میں شامل کرلیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے وقت وزیر اعظم نے بلوایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں مان رہی ہم انہیں منالیں گے، اسٹینڈنگ کمیٹی میں بحث ہوئی، پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر یہ شامل کی گئی تو وہ 27ویں ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور دیگر لوگوں سے کال آگئی کہ اپنی ترامیم کو واپس لے لیں پیپلز پارٹی نہیں مان رہی، اب ہمیں 28ویں ترمیم پر لگادیا گیا ہے کہ اس میں ہماری ترامیم شامل کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ اراکین نے ہماری آئینی ترامیم کی حمایت کی، ترمیم کے بعد اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوجاتے تو کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیوں کرتا؟

قومی خبریں سے مزید