• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا: ترجمان دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی—فائل فوٹو
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی—فائل فوٹو 

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب فوجی دستے بھیجنا نہیں، بورڈ آف پیس میں شمولیت حکومتی قواعد کے تحت مشاورت سے طے پائی ہے، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے، پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔

ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران  طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس میں شمولیت کامقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو میں معاونت ہے جبکہ تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔

طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اکیلا نہیں، 7 دیگر مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اجتماعی کوشش کے تحت ہوا، بورڈ آف پیس غزہ اور مسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے، 2 برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوامِ متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد میں اضافے کا حامی ہے، پاکستان دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا، 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست پاکستان کا مؤقف ہے، القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جاتا ہے، بورڈ آف پیس کی رکنیت 3 سالہ مدت پر مشتمل ہے، بورڈ آف پیس میں مستقل اور غیر مستقل رکنیت کی کوئی درجہ بندی نہیں، غزہ امن منصوبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

پاکستانیوں پر ویزا پابندی

ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسلام آباد میں ویزا پابندیوں سے متعلق مشاورت جاری ہے، پاکستان اس عمل کو اس کی اہمیت کے مطابق سنجیدگی سے فالو کر رہا ہے، امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت اسلام آباد اور واشنگٹن میں جاری ہے، پاکستان کو امید ہے جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جاری سفری ہدایت نامہ ڈاؤن اسکیل نہیں بلکہ اپڈیٹ ہے، نئی ٹریول ایڈوائزری میں بعض سابقہ سیکیورٹی نکات نکال دیے گئے ہیں، اپڈیٹ کے بعد امریکی شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مزید آسان ہو گیا ہے، پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے محفوظ اور کھلا ملک ہے، پاکستان اور امریکا اس معاملے پر سفارتی ذرائع سے رابطے میں ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، پاکستان خطے میں امن و امان کے لیے کوشاں ہے، پاکستان طاقت کے استعمال اور جنگی جارحیت کی سخت مخالفت کرتا ہے، پاکستان ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے، ایران پاکستان کا برادر اور اہم ہمسایہ ملک ہے، پاکستان امن اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری معاملے پر جے سی پی او اے کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا حامی ہے، پاکستان ایران پر نئی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایران سے متعلق کسی بھی کشیدگی پر امن اور سفارت کاری کا حامی ہے، پاکستان نے پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے، وزیرِ خارجہ کے ایرانی ہم منصب سے حالیہ دنوں میں دو ٹیلیفونک رابطے ہوئے، ڈیووس میں امریکی حکام سے بھی علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی، پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطہ کسی نئی جنگ یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

’پاکستان کے یو اے ای کے ساتھ برادرانہ اور مضبوط تعلقات ہیں‘

ان کا کہنا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے مابین دفاعی معاہدے سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لیا گیا ہے، پاکستان دو خود مختار ریاستوں کے معاہدوں پر تبصرہ نہیں کرتا، پاکستان کے یو اے ای کے ساتھ برادرانہ اور مضبوط تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے مجوزہ تجارتی معاہدے سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات طویل المدت اور باہمی مفاد پر مبنی ہیں، جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان اور یورپی یونین دونوں کے لیےفائدہ مند ثابت ہوئی، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زائد ہے، جی ایس پی پلس کے مستقبل پر اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے۔

’قازقستان سے پاکستان ریلوے منصوبہ زیر غور ہے‘

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ قازقستان کے صدر کے دورۂ پاکستان سے متعلق جلد اعلامیہ جاری کیا جائے گا، صدر قازقستان کے دورے کی تاریخیں اور ایجنڈا پریس ریلیز میں بتایا جائے گا، دورے کے دوران معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، قازقستان سے پاکستان ریلوے منصوبہ زیرِ غور ہے، ریلوے منصوبہ ترکمانستان اور افغانستان کے راستے متوقع ہے، ریلوے منصوبے پر مذاکرات کس سطح پر ہیں، اس کی تفصیلات فوری دستیاب نہیں، منصوبہ اگر ایجنڈے میں شامل ہوا تو پریس ریلیز میں وضاحت کر دی جائے گی۔

 ڈی آئی خان واقعے سے متعلق بریفنگ

ان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی خان واقعے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، دہشت گرد عبدالرشید افغان شہری تھا، حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، افغان سر زمین سے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، دہشت گردی کو صرف ٹی ٹی پی تک محدود قرار دینا درست نہیں، افغان شہریوں کے ذریعے دہشت گرد کارروائیاں پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کرتی ہیں، پاکستان نے یہ معاملہ افغانستان کےساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا ہے۔

صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کی مصروفیت

ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیرِاعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کی، غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں وزیرِ اعظم نے نمائندگی کی، ورلڈ اکنامک فورم میں وزیرِ اعظم نے اہم ملاقاتیں کیں، ورلڈ اکنام فورم کے موقع پر 7 مسلم ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی۔

انہوں نے بتایا کہ صدرِ مملکت آصف زرداری متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں، صدر آصف زرداری نے شیخ محمد زاید النہیان سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال ہوا ہے اور اقتصادی اور تزویراتی تعاون کی نمایاں صلاحیتوں پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق صدرِ مملکت نے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی امید کا اظہار کیا ہے، اسی طرح نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ورلڈ اکنامک فورم میں پاتھ فائنڈر پاکستان پویلین کا افتتاح کیا ہے، وزیرِ اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، وزیرِ اعظم نے عالمی اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کی ہے، ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید