• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے اعلیٰ قانون ساز ادارے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے جسے وقت کی آواز قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایوان بالا میں گزشتہ جمعہ کو اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اس اہم نوعیت کے اجلاس کے دوران توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے ایک خاتون سینیٹر فلک ناز چترالی نے موقف اپنایا کہ ’’وطن عزیز میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد جن میں غالب اکثریت نوجوانوں کی ہے، وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بغیر کسی قانونی پابندی کے استعمال کر رہے ہیں جس سے ان بچوں کی ذہنی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔‘‘

اس حوالے سے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ’’اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے‘‘ تاہم یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ حکومت خود ہی کہے کہ فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے حکومت کو یہ معاملہ سینیٹ میں آنے سے پہلے ہی اس پر عملی اقدامات اٹھانے چاہئے تھے۔ ان کے بقول ’’یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کو قائمہ کمیٹی میں بھجوانا چاہیے۔‘‘ موصوف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب کسی اہم مسئلے یا کام سے جان چھڑانی ہو تو اسے کسی کمیٹی کے سپرد کردیا جاتا ہے جہاں زمیں ’’جنبد نہ جنبد‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے سالہا سال مسائل کمیٹیوں کے پاس فائلوں میں توجہ طلب رہتے ہیں۔

اس موقع پر موضوع کے حوالے سے سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ’’سوشل میڈیا والدین کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اس پر مل کر کام کرنا ہوگا اور تعلیمی اداروں میں اس پر کونسلنگ ہونی چاہیے‘‘ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ’’یہ مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اس حوالے سے اس ایوان کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے، صوبائی حکومتوں کا بھی عمل دخل ضروری ہے، ہمیں سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے‘‘ اس موقع پر سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ’’ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے ایک بل ایوان میں جمع کرا چکا ہوں، اس بل کو بھی شامل کیا جائے۔‘‘ باتیں تو اس حوالے سے بہت کی گئی ہیں جن کی طوالت کا یہ کالم متحمل نہیں ہوسکتا لیکن یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ایک پہلو کو ہی سینیٹرز نے دیکھا ہے اور وسعت قلبی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا پاکستان میں استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ جن باتوں کو منظر عام پر نہیں آنا چاہیے وہ بھی دھڑلے سے سامنے لائی جارہی ہیں۔ اخلاق باختگی کی حدیں عبور کرکے ایسی ایسی پوسٹیں اور ویڈیوز وائرل کی جارہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے بجائے اس کہ اس بے ہودگی کو روکا جائے سارا زور ایک پارٹی کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ پر صرف کیا جارہا ہے۔ ایسی تنقید کا راستہ روکا جارہا ہے جو سو فیصد منفی نہیں ہے، ہاں البتہ انداز بیاں پر بحث کی جاسکتی ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ روز اول سے پاکستان کے قانون سازوں اور اداروں نے اس کا ادراک نہیں کیا کہ سوشل میڈیا کس قدر موثر ہے جو حکومتوں تک کو چلتا کر دیتا ہے، جن کے پاس سوشل میڈیا کا ہتھیار ہے وہ نفسیاتی طور پر جنگیں جیت لیتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک افغانستان، بھارت اور ایران میں بھی سوشل میڈیا کی جنگ ارباب اقتدار کو متاثر کررہی ہے۔ بنگلہ دیش میں آنے والی تبدیلی ایک ویڈیو اور ایک تصویر کی مرہون منت تھی جہاں ایک نوجوان کے بہتے لہو نے ملک کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ بھارت نے جھوٹے پروپیگنڈے کا اس قدر سہارا لیا کہ اس کے غرور کا سیندور سب بہہ گیا۔ ایران میں اگرچہ سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہے اور انٹرنیٹ کی سروس بھی بند رکھی گئی ہے تاہم اس کے باوجود بھی لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے سرکاری و قومی املاک کا بے تحاشہ نقصان بھی کیا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانیں بھی گئیں تاہم اب قدرے سکوت ہے۔ ایران نے امریکی صدر کی جلتی پر تیل ڈالتی باتوں سے قطع نظر سائبر لیول پر امریکی پروپیگنڈے کا بھی سخت جواب دیا اور سائبر حملوں کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ بات اتنی سی ہے کہ اگر ہمارے ادارے چاہیں تو ان کے پاس ایسا مکینزم موجود ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ قومی شناختی کارڈ نمبر، لوکیشن، دو ضامنوں کی تصدیق جیسے اقدامات سے سوشل میڈیا اکائونٹس کو ذمہ دار بنایا جاسکتا ہے، علاوہ ازیں تعلیمی اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر اس موضوع پر بات کی جانی چاہیے۔ ہمارے استاذہ کرام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی اداروں اور اہم شخصیات کو بیرون ملک بیٹھ کر نشانہ بنانے والوں کا راستہ کیسے روکا جاسکتا ہے اس پر سب کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ اگرچہ سوشل میڈیا کا درست استعمال بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ کرتے ہیں تاہم متنازعہ پوسٹوں کی بابت ایسا میکنزم ضروری ہے کہ اسلامی حوالے سے آگ لگاتی پوسٹیں سوشل میڈیا کی زینت نہ بن سکیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دے کر لوٹنے والوں کے خلاف ایسا سخت ایکشن لیا جائے کہ وہ دوبارہ جرأت نہ کرسکیں۔ ان کے موبائل فونز کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے لاکھوں موبائل فون استعمال ہوتے ہیں لیکن کوئی گرفت میں نہیں آتا، نہ جانے کیوں ادارے صرف ایک اطلاع دے کر چپ سادھ لیتے ہیں۔کب حکمران اور ذمہ داران جاگیں گے اور اس پر سخت عمل درآمد کی کوئی سبیل بنے گی۔ عوام انتظار میں ہیں اور حکمران خواب غفلت میں۔

تازہ ترین