• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے ہر ملک میں برآمدات بڑھانے کے لئے حکومتوں کی طرف سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں اس شعبے کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ انرجی سیکٹر میں دیگر شعبوں کو دی جانے والی کراس سبسڈیز کا تمامتر بوجھ بھی ایکسپورٹ انڈسٹری پر ڈال دیا گیا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری شدید ترین بحران سے دوچار ہے اور انڈسٹری کا پہیہ مکمل جام ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت پاکستان میں شرح سود خطے میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لئے بھی اپنی کاروباری ضرورتوں کو پورا کرنے یا پیداوار بڑھانے کے لئے سرمائے کا حصول انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بجلی اور گیس کی بلند قیمتوں اور حد سے زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے انڈسٹری کا سروائیول ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت129 امریکی ڈالر فی کلو واٹ فی گھنٹہ ہے جبکہ بھارت میں بجلی کی قیمت9ڈالر، بنگلہ دیش میں10 ڈالر اور ویتنام میں8ڈالر ہے جو کہ پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اسی طرح پاکستان میں گیس کی قیمتیں10امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت میں گیس کی قیمت 6 ڈالر اور بنگلہ دیش میں 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش اور ویت نام میں لیبر کی کم از کم اجرت پاکستان کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہے۔

ان حالات کے باوجود حکومت نے گزشتہ مالی سال سے ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ٹیکس کو سو فیصد بڑھا کر دو گنا کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ سیکٹر سے سیکشن 154 اور سیکشن 147 کے تحت کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ بینک کم از کم ٹیکس کے طور پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کرتے ہیں اور سیکشن 147 کی ذیلی دفعہ (6C) کے تحت مزید ایک فیصد اضافی ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایکسپورٹرز سے ہونے والی موجودہ ٹیکس کٹوتی تقریبا 15 فیصد کے قریب پہنچ جاتی ہے لیکن اس کے بعد بھی ایکسپورٹرز کو ٹیکس حکام کی جانب سے ہراسمنٹ یا نوٹسز کا سامنا رہتا ہے۔ یوں ایکسپورٹرز کو بیرون ملک سے درآمدی آرڈرز حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ اندرون ملک 28 مختلف محکموں کی کمپلائنس بھی کرنا پڑتی ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری ترقی کرنے کی بجائے مسلسل تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کو درپیش مسائل یہیں ختم نہیں ہوتے ہیں بلکہ ریفنڈز کی ادائیگی میں بلاجواز تاخیر کے باعث بھی برآمد کنندگان کو ورکنگ کیپٹل کی قلت کا سامنا رہتا ہے اور بینکوں کو سود کی ادائیگی پر اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

اس لئے اگر حکومت برآمدات بڑھانے میں سنجیدہ ہے اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو مکمل طور پر بند ہونے سے بچانا چاہتی ہے تو شرح سود کو کم کرکے تین سے چار فیصد کرنے کے علاوہ ایکسپورٹ رجیم کو بحال کر کے ایکسپورٹرز پر عائد دو فیصد ٹیکس کو دوبارہ ایک فیصد کرنا ضروری ہے۔ اس طرح انڈسٹری کو خطے کے دیگر ممالک کے مساوی مسابقتی قیمتوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کیلئے ڈیفر ٹیکس کے ریفنڈز 60 دن اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی 30 دن میں کرنے کیلئے خودکار نظام کو فعال بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسز اور لیویز کے کم از کم پانچ فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک کو یقینی بنانے اور ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن اسکیم کے تحت درآمدات پر ادا کی جانے والی کسی بھی کسٹم ڈیوٹی کو مکمل طور پر ریفنڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن اسکیم کے تحت روئی، سوتی دھاگے اور فیبرک کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے نفاذ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ ایک مکمل ٹیکسٹائل سپلائی چین کا حامل ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی منڈیوں کیلئے ایک قابل اعتماد اور پائیدار سورسنگ کی منزل بننے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش سرمائے کی قلت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ مسابقتی انرجی ٹیرف اور ٹیکس سے متعلق مسائل فوری حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انڈسٹری کو پوری استعداد سے چلا کر زیادہ سے زیادہ درآمدی آرڈرز کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرنا اس لئے بھی ضروری ہیں کہ برآمدات میں مسلسل کمی سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اس لئے ہنگامی ریلیف کے طور پر ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ، پنجاب ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن کی ادائیگیوں کو دو سال کیلئے معطل کر دینا چاہیے تاکہ برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلند شرح سود، مسلسل بڑھتے ہوئے انرجی ٹیرف، ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کے موجودہ نظام اور ٹیکس کے فرسودہ ڈھانچے نے پاکستان کی برآمدی مصنوعات کی لاگت میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت تجویز کردہ اصلاحات پر عملدرآمد کرے تو پاکستان کی عالمی مسابقت بہتر بنا کر اگلے ایک سے دو سال میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 27 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف قومی معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

تازہ ترین