• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رونا بھی ہنسنے کی طرح ایک قدرتی چیز ہے لیکن بعض لوگوں کے پاس رونے کا ایسا ہنر ہے کہ جیسے ہی وہ رونا شروع کرتے ہیں لوگوں کی بتیسیاں نکل آتی ہیں۔کچھ لوگ صرف روتے ہیں، کچھ ساتھ ساتھ بولتے بھی ہیں اور بولتے بھی ایسا ہیں کہ بعض اوقات خود دھیان نہیں رہتا کہ کیا بول گئے ہیں۔مرزا صاحب بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں،جب اِنکے95 سالہ دادا جان کا انتقال ہوا توفرطِ جذبات سے روتے جاتے تھے اور چلاتے جاتے تھے ”ہائے دادا جی!آپ کیوں چلے گئے‘ ابھی آپ کی عمر ہی کیا تھی؟“مرد کسی دوسرے مرد کو روتا ہوا دیکھتا ہے تو اُسے چپ کرواتا ہے،عورت کسی دوسری عورت کو روتا ہوا دیکھ لے تو خود بھی رونا شروع ہو جاتی ہے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر جنازے پر ”رونق“ عورتیں ہی لگاتی ہیں۔ بچہ روئے تو ماں چپ کراتی ہے،ماں روئے تو باپ چپ کراتا ہے، باپ روئے تو کوئی چپ نہیں کراتا کیونکہ اُس کے آنسو نہیں نکلتے۔ کچھ لو گ رونے سے پہلے گدھے کی طرح ایک لمبی سی ”آں“ کرتے ہیں اور پھر گردان شروع کر دیتے ہیں ”آں آں آں آں“۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ رونا انسان کی صحت کیلئے بڑا مفید ہے، اسی لئے بچے کی پیدا ئش پر اُسے زبردستی رلایا جاتاہے جو بچہ رونے سے انکار کر دے اُسے الٹا لٹکا دیا جاتاہے گویا دنیا میں آنے کی سزا دی جاتی ہے۔ میرے ایک دور پار کے رشتہ دار ہیں اُنکا رونے کا اپنا ہی اسٹائل ہے، وہ ہمیشہ خوشی کی بات پر روتے ہیں۔ اُنکی اسی خاصیت نے اُن کی شخصیت کو مشکوک بنا دیا ہے کیونکہ موصوف اپنی بیوی کی موت پر بہت روئے تھے۔

٭ ٭ ٭

 اں جہاں ’چھوٹے بھائی‘ پائے جاتے ہیں وہ اپنے بڑے بھائی سے بہت تنگ ہیں۔میں بھی چونکہ سب سے چھوٹا تھا اسلئے اندر کے سارے راز جانتا ہوں۔بڑے بھائی اکثر سنجیدہ رہنا پسند کرتے ہیں، تاہم انکی یہ سنجیدگی صرف چھوٹے بھائی کیلئے ہوتی ہے، باہر یہ دوستوں میں مراثی مشہور ہوتے ہیں۔یہ والدین کے سامنے بھی خود کو اعلیٰ و ارفع اور چھوٹے بھائی کو دنیا کا فضول ترین انسان ثابت کرتے رہتے ہیں اوررات کو اکثر ابا جی کے سامنے آہیں بھرتے ہیں ”ابا جی! پپو کا کیا بنے گا‘ نہ یہ پڑھتا ہے نہ کسی کی بات مانتا ہے، نہ ٹائم پہ سوتاہے“۔ ابا جی بھی اتنے بھولے ہوتے ہیں کہ وہ بھی اِن کی بات پر فوراً ایمان لے آتے ہیں اور پپو کو دیکھتے ہی جوتی اتار لیتے ہیں۔ چھوٹا بھائی صرف اُس وقت تک چھوٹا بھائی رہتا ہے جب تک اُسکی شادی نہیں ہوجاتی، شادی کے بعد وہ بھی بڑا بھائی بن جاتا ہے تاہم اُس وقت تک بڑ ے بھائی بزرگ بھائی بن چکے ہوتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے ایک ہی نصیحت کرتے ہیں کہ ”ہمیشہ اپنے سے چھوٹوں سے پیار کرنا چاہئے“۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ چھوٹاچھوٹے پن کا مظاہر ہ کرے اور بڑا بڑے پن کا، لیکن ہوتا عموماً اس کے اُلٹ ہے۔بڑے بھائیوں کے سارے شوق چھوٹوں والے ہوتے ہیں لیکن کبھی ظاہر نہیں ہونے دیتے، وہ تو کبھی کبھار چھوٹا بھائی دروازے کی درز سے جھانک کردیکھ لے تو پتا چلتا ہے کہ بڑے بھائی صاحب فارغ بیٹھے اپنے آپ سے ہی ”چڑی اُڈی، کاں اُڈا“ کھیل رہے ہیں۔ دُنیا میں ہر جگہ چھوٹے بھائی پائے جاتے ہیں اور اُن سے سلوک بھی لگ بھگ ایک جیسا ہی ہوتا ہے اگر آپ چھوٹے بھائی ہیں تو دل پر پتھر رکھ کر بڑے بھائیوں کی خدمت کیلئے کمربستہ ہوجائیں کیونکہ اب آپ ہزار کوشش کرلیں آپ بڑے بھائی نہیں بن سکتے...یہ ہوتا ہے لیٹ ہونے کانقصان...!!!

٭ ٭ ٭

میں جب بھی کسی لڑکے کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ موبائل پر گپیں لگاتا دیکھتا ہوں تو میرا دل چا ہتا ہے اُسکا منہ نوچ لوں۔وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ میرے زمانہ طالبعلمی میں موبائل نہیں ہوتا تھا۔ یقین کریں ”سگی کلاس فیلو“سے سلام لینے کیلئے چار چار گھنٹے روزانہ اکیلے پریکٹس کرنا پڑتی تھی۔

اُس دور میں زنانہ کلاس فیلوز صرف اُس لڑکے کو لفٹ کراتی تھیں جو بہت ذہین اور نوٹس بنانے میں ماہر ہوتا تھا۔ ذہین تو میں بہت تھا البتہ یہ نوٹس والا کام مجھے عذاب لگتا تھا۔تاہم میرے ایک ہمدرد دوست نے مجھے اس کا طریقہ بھی سمجھا دیا اور میں فوٹو کاپی والے کی دکان سے کسی معروف پروفیسر صاحب کے نوٹس کاپی کروا کے اُن پر اپنا نام لکھ دیتا، یوں لڑکیوں میں میری ذہانت کی دھوم مچ گئی تاہم لڑکیاں حیران تھیں کہ جو لڑکا ان کو روز اتنے زبردست نوٹس فراہم کرتا ہے وہ خود کسی ٹیسٹ میں پاس کیوں نہیں ہوپاتا، ایک دو دفعہ یہ سوال مجھ سے کیا گیا تو میں نے بڑے مسکین اور متانت بھرے لہجے میں اُنہیں بتایا کہ مجھے اپنے سے زیادہ آپ کا مستقبل عزیز ہے۔آج کل تو ایسا کوئی چکر ہی نہیں رہا۔ ڈائریکٹ اظہار ِ محبت کریں،دوسری طرف سے حوصلہ افزا جواب مل جائے تو ٹھیک ورنہ بائے بائے۔اوپر سے ”یومِ عشق“بھی وجود میں آگیا ہے۔ ویلنٹائن صاحب کو اللہ جو بھی نصیب کرے لیکن آنجہانی پوری دنیا کو نئی راہ پر لگا گئے ہیں۔پچھلی دفعہ میں نے بھی زمانے کے ساتھ چلنے کی کوشش کی اور ایک پھولوں والی دکان پر جاکر ایک خوبصورت پھول کی قیمت پوچھی...جواب ملا”آٹھ سوروپے“ میں نے فوراً وضاحت کی”بھائی جی پوری دکان نہیں‘ صرف ایک پھول چاہیے“۔اُس نے گھورکر میری طرف دیکھا اور بولا ”میں بھی ایک پھول کی قیمت ہی بتا رہا ہوں“یہ سنتے ہی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔میں نے سوچا جسے آٹھ سو کا پھول پیش کرنا ہے اُسے آٹھ سو روپے کیش پیش کردوں تو شائد وہ زیادہ خوشی محسوس کرے...اور میرا اندازہ سو فی صد درست نکلا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ویلنٹائنزڈے صرف لڑکیوں کو پھول دینے کیلئے ہی نہیں ہوتا بلکہ اِس دن اپنے کسی بھی پیارے کو پھول دیئے جاسکتے ہیں۔ بھائی جی آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبھی اپنے بھی پیارے ہوئے ہیں؟

تازہ ترین