• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ کرم کرے، تعمیراتی سائٹس پر خوفناک حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ یہ شاید ہماری بے اعتدالیوں کے نتائج ہیں کہ بغیر مسابقتی عمل اور کھلی بولیوں (open biddings) کے کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹ کی نامزدگیوں کے رواج پا رہے ہیں۔ ابھی ہم ’’جی ٹو جی‘‘ پالیسی کے تحت تعینات کنٹریکٹر کمپنیوں کی مہنگی تعمیرات کا ادراک نہ کر پائے تھے کہ اب اسی ’’جی ٹو جی‘‘ کی پُرلطف پالیسی کے تحت مشاورتی فرموں کی نامزدگیوںکا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ شنید ہے کہ ایک صوبے میں تو کھربوں روپے مالیت کے عوامی سرکاری منصوبے براہِ راست چند ایک سرکاری کنسلٹنٹس کی نگرانی میں دے دیئےگئے ہیں۔ جب بڑے پراجیکٹس کیلئے نگرانوں کا انتخاب کسی تکنیکی مسابقت کے بغیر فروغ پا جائے، تب ناکافی مہارت کے ہاتھوں بھاٹی گیٹ جیسے المناک واقعات کی رونمائی کچھ عجب نہیں۔ ضوابط اور مقابلے کے عمل سے گزر کر منتخب ہونیوالے اپنے فرائض میں ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہرحال اب ہمیں ایسے لائحۂ عمل کو پیش نظر رکھنا ہو گا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ چنانچہ ایسی شہری تعمیرات جہاں عوامی آمد و رفت زیادہ ہو، اس علاقے کو آہنی باڑ (fence) سے مکمل طور پر بند کر دیا جائے تاکہ بھاری تعمیراتی مشینری کے استعمال کے دوران پیدل چلنے والے زد میں نہ آ جائیں یا تعمیراتی کھدائیوں میں نہ گر جائیں۔ زیرتعمیر عمارات یا بلند اسٹرکچرز کو عمودی جال کے ساتھ محیط کر دیا جائے تاکہ آہنی آلات اور تعمیراتی سامان بے قابو ہو کر عوامی گزرگاہوں کیلئے خطرہ نہ بنے۔ ایسی تعمیراتی حدود اور مقامات کو کام کے علاوہ عام اوقات کے دوران بھی سخت نگرانی میں رکھا جائے۔ انکی داخلی اور خارجی گزرگاہوں کو گارڈز کی نگرانی میں دے دیا جائے۔ غیرمتعلقہ افراد اور مسافروں کیلئے تعمیراتی حدود سے گزرنے اور قیام پر پابندی عائد کر دی جائے اور اس علاقے کو رات کے اندھیروں میں روشنی فراہم کی جائے۔ سائٹ سے ملحقہ بیرون میں چلنے والوںکیلئے راستے (walkways) تعمیر کئے جائیں تاکہ وہ کام کے دوران ملبہ وغیرہ کی زد میں نہ آ سکیں۔ اسی طرح مشینری یارڈ سے سائٹس روانگی اور واپسی کے راستوں کی تخصیص کی جائے تاکہ وہ پیدل چلنے والوں کو نہ کچل دیں۔ سائٹس کے اردگرد گزرنے والوں کو تحریری بورڈز، سائن بورڈز اور مناسب صوتی سسٹم کے ذریعے مسلسل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ اجنبی مسافر تعمیراتی سرگرمیوں سے بچاؤ اختیار کر سکیں۔ پڑوس کے رہائشیوں، تعلیمی اداروں کو مشینوں کی گھن گرج سے محفوظ رکھنے کیلئے صوتی رکاوٹوں اور آواز جام آلات کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔ تعمیرات اور بھاری مشینری کے ایسے نظام الاوقات کا انتخاب کیا جائے، جب کم سے کم افراد گھروں میں موجود ہوں۔ گنجان شہری علاقوں میں بلند بالا عمارات کی تعمیر، پڑوسی عمارات اور ان کی بنیادوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسی گہری کھدائیوں سے پہلے ملحقہ بلڈنگز پر الیکٹرونک مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کر دی جائے تاکہ کسی قسم کی دراڑ (collapse) سے قبل نشاندہی ہو سکے۔ پراجیکٹ کی تعمیر سے پہلے عوامی تجاویز حاصل کی جائیں اور پبلک اجلاس کا انعقاد کیا جائے جس میں پراجیکٹ کا ٹائم شیڈول، فوائد، ممکنہ منفی اثرات اور دیگر حفاظتی اقدامات بارے انہیں آگاہ کیا جائے اور ان کی صائب رائے حاصل کی جائے۔ ہنگامی حالات میں بروقت آگاہی کیلئے ایسے بورڈز آویزاں کئے جائیں جن پر رابطہ نمبر موجود ہوں۔ بڑے شہروں میں پانی، گیس، بجلی، ٹیلی فون وغیرہ کی زیرزمین تنصیبات کی کھدائیاں شہریوں اور تعمیراتی اداروں کیلئے دردِ سر بن جاتی ہیں۔ یہ مرحلہ بسا اوقات میگاپراجیکٹس کی تکمیل میں مہینوں کی تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔ رات کے اندھیروں اور شدید بارشوں کی صورت میں کھدائیاں سوہان روح بن جاتی ہیں۔ ان تنصیبات کی سرعت کے ساتھ تبدیلی ہی کامیابی ہے۔ ضروری ہے کہ پرانی آبی سپلائی لائنوں، سیوریج اور گیس کی لائنوں، بجلی اور نیٹ کیبلز کی منتقلی سے پہلے ان کا زیرزمین کھوج لگا لیا جائے اور پھر نئی ڈرائنگز کے مطابق انہیں فوراً منتقل کر دیا جائے۔یہ اَمر پیش نظر رہے کہ شہریوں کو فوری طور پر نئی تعمیرات کے بالمقابل اپنی سروسز اور زیرزمین تنصیبات کی بحالی سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ زیرزمین سروسز کی موجودگی کا ادراک نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں جدید ٹیکنالوجی یعنی ’’گراؤنڈ بورنگ راڈ‘‘ کی مدد سے ان سروسز کی پوزیشن کا پتہ لگایا جائے۔ ان کی درست منتقلی و تبدیلی کیلئے 4Dماڈل کا استعمال غلطیوں سے مبرا ہوتا ہے۔ بڑے پراجیکٹس کیلئے مناسب ہو گا کہ سرکاری و غیرسرکاری اداروں کی سروسز کی بحالی کیلئے تمام نمائندگان پر مشتمل رابطہ کار کمیٹی باقاعدگی سے اپنے اجلاس منعقد کرے تاکہ دیگر ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر سکیں اور بحالی کیلئے تکنیکی و مالیاتی نگرانی و معاونت فراہم کر سکیں۔ المختصر شہری اربن پراجیکٹس کے دوران انسانی اور حیواناتی حادثات سے مبرا تعمیر و تکمیل ہی اصل منزل ہوتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ کنٹریکٹرز، مشاورتی ادارے اور مہتمم ادارے (Proponents) فنی مہارت کی بصیرت رکھتے ہوں۔ پیشگی خطرات سے آگاہ ہوں اور ہر وقت تدارک کر سکیں۔ نیز وہ اپنے معاہداتی ذمہ داریوں سے کبھی غافل نہ ہوں۔ اس وقت تعمیراتی کلچر بدقسمتی سے جو اشکال اختیار کر رہا ہے اس میں مروتوں کا پاس زیادہ ہے۔ ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کم۔ یہی رویے تعمیراتی حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ سرکاری بجٹ کی مد میں سرکاری مشاورتی ادارے (Consultant) کے تحت سرکاری کنٹریکٹر کے ذریعے سرکاری اور عوامی پراجیکٹس کی تعمیر بعدازاں سرکاری ادارے کے ذریعے تھرڈ پارٹی تصدیق، یہ کوئی پسندیدہ طرزِعمل نہیں ہے، جبکہ پرائیویٹائزیشن کے ذریعے نجی کاروبار کو فروغ دینے کے سرکاری دعوے موجود ہیں۔ اسکے برعکس عوامی میگاپراجیکٹس کی تعمیرات کے بیشتر مراحل کی سرکاری اداروں کو سپردگی کھلا تضاد ہے جس سے ہزاروں پرائیویٹ انجینئرز اور تعمیراتی اداروں کی بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تازہ ترین