• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرچہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا، مگر انتہائی افسوس ناک اَمر ہے کہ ہمارے حُکم راں اورعوام دونوں ہی اسلامی تعلیمات پرکار بند نظرنہیں آتے۔ دینِ اسلام میں بھیک مانگنے کو نہایت ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کسی کے پاس کھانے تک کے لیے پیسے نہ ہوں یا وہ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور ہو، تو اُسے استثنیٰ حاصل ہے۔

نیز، دُنیا کے تقریباً تمام ہی معاشروں میں گداگری کو معیوب سمجھا جاتا اور محنت کرکے روزی کمانے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن وطنِ عزیزبالخصوص شہرِ کراچی میں جاری بعض سرگرمیاں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری حکومت اور بعض رفاہی ادارے لوگوں کومحنت ومشقت سے کمانے کی ترغیب و تحریک دینے کی بجائے مانگ تانگ کر یا دوسروں کے سہارے زندگی گزارنا سکھا رہے ہیں۔

خصوصاً کراچی میں متعدّد مقامات پر لوگوں کو مُفت کھانا کھلایا جاتا ہے، جب کہ ان ’’مستحقین‘‘ میں اکثر صحت مند اور ہٹّے کٹّے مَرد و خواتین شامل ہوتے ہیں، جب کہ اس سے بھی زیادہ حیران کُن اَمر یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-2025ء کے بجٹ میں بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے 598.71ارب روپے، جب کہ شعبۂ تعلیم کے لیے 215ارب روپے مختص کیے تھے۔ 

یعنی بی آئی ایس پی کی مجموعی رقم کا 35فی صد ایجوکیشن سیکٹر کے لیے مختص کیا گیا۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم تعلیم جیسے اہم شعبے سے کتنے مخلص ہیں اور لوگوں کو کاہل، نکما اور منگتا بنانے کے لیے کیا کردارادا کررہے ہیں۔ واضح رہے، مذکورہ پروگرام میں اکثر و بیش تر رقوم کی خورد بُرد اور غلط استعمال کے واقعات بھی منظرِعام پر آتے رہتے ہیں۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے رزق کمانے اور خود داری کی تعلیم دیتے تھے۔ نیز، سیرتِ نبویؐ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی سے بھی ہمیں یہی درس ملتا ہے۔ ایک چینی فلسفی، لاؤزی کا مشہورِ زمانہ قول ہے کہ ’’بُھوکے کو مچھلی دینےسے بہتر ہے کہ اُسے مچھلی پکڑنا سکھائیں، تاکہ وہ آئندہ کبھی بُھوکا نہ رہے۔‘‘

یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم گرا کر سب کچھ تہس نہس کردیا، تو اس موقعے پر بھی جاپانی رہنماؤں نے اپنی قوم کا عزم و حوصلہ کم زور نہیں پڑنے دیا اور پھر اقوامِ عالم نے دیکھا کہ جاپانی قوم نے اَن تھک محنت، لگن اور جوش و جذبے کی بدولت چند ہی دہائیوں میں اپنے وطن کو ترقّی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔ 

یاد رہے، جاپان میں گداگری پر پابندی عائد ہے اور بھیک مانگنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جب کہ اِس کے برعکس ہمارے مُلک میں عوام کو خُوددار اور محنت ومشقّت کا عادی بنانے پر کبھی توجّہ ہی نہیں دی گئی، یہی وجہ ہے، آج شہرِ قائد کی ہر گلی، محلّے اور بازاروں میں گداگر ہی گداگردکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب دانستہ یا نادانستہ طور پر گداگری کی حوصلہ افزائی کے باعث آج اچّھے خاصے صحت مند مَردوخواتین نے بھی بھیک مانگنے کو پیشہ بنالیا ہے۔ شہر میں بھکاریوں کی بھرمار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اور آپ کے آس پاس بھکاریوں کا جمگھٹا لگ جاتا ہے۔

تقریباً ہر ٹریفک سگنل پرگداگروں کے جتّھوں کے جتھے موجود ہوتےہیں، جو ٹریفک کی روانی میں بھی رُکاوٹ کا باعت بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہ گداگر اپنے بچّوں کو بچپن ہی سے بھیک مانگ کر روزی کمانےکی ٹریننگ دیتے ہوئےبھی دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب ہرسال ماہِ رمضان شروع ہونے سے قبل لاکھوں بھکاری اندرونِ مُلک سے کراچی کا رُخ کرتے ہیں اور ان میں سے بیش تر ’’سیزن‘‘ لگانے کے بعد بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جاتے اور مستقل طور پر کراچی ہی کو اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں دن بدن بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

واضح رہے، کراچی جیسے بڑے اور غریب پرور شہر میں ضرورت مند خواتین بھی گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز میں صفائی سُتھرائی کا کام کر کے باعزّت طریقے سے روزی کما سکتی ہیں، لیکن چوں کہ ہمارے معاشرے میں ’’لقمۂ تر‘‘ کھانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، نتیجتاً گداگروں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، کیوں کہ اس کام کے لیے کسی قسم کی مشقّت اُٹھانی پڑتی ہے اورنہ ہی وقت کی پابندی کی ضرورت ہے۔

اگر ہم اپنے مُلک سے گداگری اور غُربت کا خاتمہ چاہتے ہیں، تو اس ضمن میں ’’گرامین بینک‘‘ کی مثال سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر یونس نے، جو موجودہ بنگلا دیشی حکومت کے چیف ایڈوائزر ہیں، آج سے چند دہائیاں قبل گرامین بینک کے ذریعے ضرورت مند افراد، خاص طور پر خواتین کو چھوٹے قرضے (جو اُس وقت پچاس سے ایک سو ڈالرز تک ہوتے تھے) آسان اقساط پر اور بغیر کسی ضمانت کے دینا شروع کیے اور اس کےساتھ ہی اُنہیں دُکان داری، تجارت، زراعت اور مختلف خدمات کی تربیت بھی فراہم کی اور پھردیکھتے ہی دیکھتے ڈاکٹر یونس کی اس کاوش کے نتیجے میں 54فی صد ضرورت مند بنگلادیشی باشندے خطِ غُربت سے اوپر نکل گئے۔

تاہم، خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ہمارے مُلک بالخصوص شہرِ کراچی میں بھی بعض ایسے رفاہی ادارے قائم ہوچُکے ہیں، جو ضرورت مند افراد کو اپناچھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے بِلا سود قرضے فراہم کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مستحق خواتین کو ہُنر مند بنانے کے لیے مختلف ٹریننگ سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان اداروں میں ’’سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ اور ’’اخوّت فاؤنڈیشن‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔

انہی صفحات پر شایع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد میں قائم ایک ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ایک ہزار ہُنرمند خواتین کی ضرورت تھی اورایک رفاہی ادارے نے خواتین کو تربیت فراہم کرکے وہاں ملازمت دلوائی، جب کہ وہاں اب تک دو لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کی ٹریننگ بھی دی جا چُکی ہے۔ 

لہٰذا، ہماری حکومت کو چاہیے، بی آئی ایس پی کے لیے ہر سال مختص کیے جانے والے اربوں روپے، مالی مدد کے نام پر تقسیم کرنےکی بجائے خُوددار اور ضرورت مند افراد کو چھوٹے قرضے (پچاس ہزار روپے تک) آسان اقساط اور بغیر ضمانت (یا شخصی ضمانت) پر فراہم کیے جائیں اور رفاہی اداروں کے تعاون سے ایسےضرورت مند افراد کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں انہیں اُن کے طبعی میلان کے مطابق مختلف ہُنر سکھائے جائیں، تاکہ ذاتی کاروبار یا ہُنر کے ذریعے باوقارانداز میں روزی کما کر اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کاپیٹ پال سکیں اور گداگری جیسی لعنت پرکسی حد تک قابو پایا جاسکے۔ 

یاد رہے، بھکاریوں کی بھرمار کے سبب پاکستان بیرونِ مُلک بھی اس قدر بدنام ہوچُکا ہے کہ دو برس قبل سعودی حکومت نے پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کو ایک خط بھیجا، جس میں یہ تنبیہ کی گئی کہ اگر عُمرے اور حج کی آڑ میں بھکاریوں کو سعودی عرب آنے سے نہ روکا گیا، تو پاکستانی عُمرہ زائرین اور حجّاجِ کرام پر اس کا اثر پڑسکتا ہے۔

یعنی وہ پاکستانی عُمرہ زائرین اور حجّاجِ کرام کے ضمن میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق نے بھی زائرین کے رُوپ میں آنے والے 4ہزار پاکستانی بھکاریوں کی نشان دہی کی ہے۔ لہٰذا، حکومت کو چاہیے،وہ مُلک سے گداگری جیسے سنگین مسئلے کےخاتمے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے کہ جو دُنیا بَھر میں ہماری بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ (مضمون نگار، کے ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید