• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

وفاقی آئینی عدالت نے طالبعلم کو اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے، عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی سے قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، ہائی کورٹس ہمدردی یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کر سکتیں۔

آئینی عدالت نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے، عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل میں ہے، ججز کو قانون کے مطابق بلاخوف و امتیاز انصاف کرنا ہوتا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے، ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیر جانبدار منصف ہوتے ہیں، ہمدردی کو قانونی ذمے داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں، پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا، ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں، ہائی کورٹس صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو۔

واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے، طالبعلم طبی وجوہات کی بناء پر سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے۔

طالبعلم نے وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، یونیورسٹی نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں، طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے طالبعلم کو اسپیشل/سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت دی تھی۔

قومی خبریں سے مزید