• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لڑکپن سے ہمارے دماغ میں ایک ہی بات بٹھائی جاتی ہے کہ شادی کے بعد لڑکیاں پرائی ہوجاتی ہیں۔کوئی یہ نہیں بتاتا کہ لڑکے بھی پرائے ہوجاتے ہیں۔یہی سوچ ساری زندگی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ لڑکے کے ماں باپ کو ایسا ہی لگتاہے کہ جیسے ان کا بیٹا ان کی بہو نے چھین لیا ہے۔ ہم اپنی اولاد کی شادی تو خوشی خوشی کرتے ہیں لیکن انہیں زندگی پرانی ہی جینے پرمجبور کرتے ہیں۔ایک لڑکا، جسکی زندگی میں ایک لڑکی بیوی کی شکل میں آتی ہے کیا اسے تھوڑا تبدیل نہیں ہونا چاہیے؟یہاں تو بوائز کالج میں پڑھنے والے وہ لڑکے جو صبح منہ بھی نہیں دھو کر آتے، یونیورسٹی میں آتے ہی روز صبح نہاکرآنا شروع کردیتے ہیں۔ عورت کا ساتھ انسان میں بہت سی تبدیلیاں لاتاہے۔شادی کی صورت میں یہ تبدیلی اور بھی یقینی ہوجاتی ہے لیکن اکثر یہ تبدیلی عارضی ہوتی ہے۔ تین سے چار ماہ کا عرصہ گزرتے ہی ہر چیز پرانی روٹین پر بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔بیوی شروع شروع میں رات کو سوتی بھی میک اپ میں ہے لیکن تین ماہ بعدتیل لگے بالوں کے ساتھ اُسی شوہر کو کہہ رہی ہوتی ہے کہ ’’شکیل دودن سے کچرا اٹھانے والا نہیں آیا یہ دو شاپر بھرے ہوئے ہیں، آفس جاتے ہوئے کوڑے دان میں پھینکتے جائیے گا۔“شادی معمول سے مختلف عمل ہے لہٰذا میاں بیوی کو معمول کی زندگی پر آتے آتے کچھ وقت لگتاہے۔شروع شروع میں دونوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ویسے ہی لگیں جیسے شادی والے دن تھے لیکن ایسا ہونہیں پاتا۔ایک ہی گھرمیں رہتے ہوئے کوئی کب تک بہروپ بدلے۔دھیرے دھیرے سارے روپ کھلنے لگتے ہیں اور پتا چلتا ہے کہ دونوں طرف تھی ’بکواس‘ برابر لگی ہوئی۔احمد ندیم قاسمی کے مشہور زمانہ افسانے”گھر سے گھر تک“ کی طرح جب قلعی کھلتی ہے تو اندر سے دونوں ایک جیسے نکلتے ہیں۔ماں باپ عموماً پریشان ہوجاتے ہیں کہ شائد بیٹا ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ایسا نہیں ہوتا(ویسے ہوتاایسا ہی ہے)۔

٭ ٭ ٭

شوکت صاحب میرے پڑوسی ہیں، قبلہ کا ایک ہی شوق ہے پیسہ جمع کرنا ،نیا گھر بنوانا اور اسے کرائے پر چڑھا دینا۔چھ گھروں اور سروس اسٹیشن کے کرائے کی مد میں جناب کو لگ بھگ دس لاکھ روپے ماہانہ کرایہ موصول ہوتاہے لیکن حرام ہے جو اپنی ذات پر دس روپے بھی خرچ کرجائیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب اپنے بڑھاپے کیلئے جمع کر رہے ہیں۔آپ کی اہلیہ آپ سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں لہٰذا برے وقت کیلئے ہر گلی میں چھ چھ ہزار کی کمیٹی ڈال رکھی ہے۔ اچھے وقت کی گردن پر چھری پھیرنے والے ان دونوں میاں بیوی کو یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک نہ ایک دن برا وقت ضرور آئے گا۔شوکت صاحب کا ساتواں گھر زیر تکمیل ہے۔ ایک دو ماہ تک بن جائے گا۔ پھر وہ اس پر ’کرائےکیلئے خالی ہے‘ کا بینر لگائیں گے اور ایک دن کوئی ایسا شخص آئے گا جو مالی طور پر شوکت صاحب سے بہت کم ہوگا لیکن شوکت صاحب کے نئے گھر میں رہے گا۔خود شوکت صاحب اپنے تین مرلے کے اُسی گھر میں قیام پذیر رہیں گے جسکی سیمنٹ اکھڑی دیواروں پر اُداسی بال کھولے سو رہی ہے۔اِس گھر کی ڈور بیل خراب ہے، مین گیٹ کو زنگ لگ چکا ہے، کوئی ڈھنگ کا برتن موجود نہیں لیکن بینک اکاؤنٹ بھرا ہوا ہے، ہر مہینے بھرتاہے۔ شوکت صاحب 1980 ء ماڈل کے موٹر سائیکل پر جب کرایہ اکٹھا کرنے نکلتے ہیں تو ہر کرایہ دار کے گیراج میں گاڑی کھڑی نظر آتی ہے۔واپسی پر وہ یہ لاکھوں کے چیک بینک میں جمع کراتے ہیں گھر آتے ہیں اور مزید بے سکون ہوجاتے ہیں۔کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے میں خشوع و خضوع سے دعا کروں کہ یااللہ شوکت صاحب کا برا وقت فوراً شروع ہوجائے تاکہ وہ کچھ تو اپنی ذات پر بھی خرچ کریں لیکن پھر سوچتا ہوں کہ مجھے شوکت صاحب کے اچھے وقت کیلئے دعا کرنی چاہیے...برا وقت تو ان کا چل ہی رہا ہے۔

٭ ٭ ٭

کچھ لوگوں کو یہ بیماری ہوتی ہے کہ کام کرنے کے بعدپیسے دینے کی باری آئے تو آرام سے کہہ دیتے ہیں ’اپنی خوشی سے دے دیں‘۔ بندہ پوچھے کہ پیسے دیتے ہوئے کس کو خوشی ہوتی ہے؟۔ دوسرا جملہ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتاہے کہ’جو بنے گا دے دیجئے گا‘۔ یہ جملہ زیادہ تر رکشہ والے استعمال کرتے ہیں۔اس معاملے میں وہ لوگ زیادہ چالاک ہوتے ہیں جواپنے جملے میں معمولی سی تبدیلی کرکے آپ کو دو آپشنز دے دیتے ہیں کہ’پانچ سو‘ ہزارجو خوشی سے دینا چاہیں دے دیں‘۔پیسے نکلوانا ایک فن ہے اور جو اس فن سے آشنا ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔اس معاملے میں بیگمات کا جواب نہیں۔ یہ اچانک بتاتی ہیں کہ آٹا، گھی، سبزی اور چکن یکدم ختم ہوگیا تھا جو میں نے ذاتی پیسے ڈال کر دو ہزار کا منگوا لیا ہے لہٰذا اب مجھے میرے پیسے واپس دیدیں۔ ظاہری بات ہے کون مائی کا لعل ہے جو یہاں ’منی ٹریل‘ مانگ سکے۔تحقیق بتاتی ہے کہ دفتر جاتے وقت شوہر حضرات بیگم کے ہاتھ میں سو روپے پکڑائیں یاایک لاکھ‘ شام کو واپسی تک اُس میں سے 80 فیصد خرچ ہوچکے ہوتے ہیں۔بعض اوقات یہ پیسے بچوں کے ذریعے بلیک میل کرکے نکلوائے جاتے ہیں۔گھر میں دال، چکن، سبزی، ہر چیز پکی ہوئی ہے لیکن بچوں کو پسند نہیں آرہی۔ ایسے میں بچوں کی ماں سرگوشی میں بتا دیتی ہے کہ اصل میں یہ باہر سے کچھ منگوانا چاہ رہے ہیں۔ظاہری بات ہے آپ زیادہ سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں؟ دو ہزار دینے ہی پڑتے ہیں اور کیسا انوکھا اتفاق ہے کہ چیزیں بھی پور ے دوہزار کی آجاتی ہیں۔ یہ تو کبھی کوئی بچہ ماں سے ناراض ہو جائے تو باپ کو پتا چلتاہے کہ وہ جو اُس دن دو ہزار دیے تھے اُن میں سے بقایا تین سو بچ گئے تھے...لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب بیگم چُگ گئیں نوٹ!

تازہ ترین