• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علامہ اقبال نے اہلِ کشمیر کے ذوقِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا ؎

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

لیکن بد قسمتی سے یارواغیار کی کشمکش میں پھنس کر مسئلہ کشمیر تقریباً آٹھ عشروں سے گھسٹتا چلا آرہاہے۔اس طویل مدت میںمسئلہ کشمیر نشیب و فراز کی ایک بڑی جاںگسل کیفیت سے دوچار رہا ہے۔کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم اس مسئلے کو بھول چکے ہیں اوردنیا نے بھی اس کو بھلا دیا ہے۔پھر یوں ہوتا ہے کہ یہ چشمِ زدن میں ابھر آتا ہے۔

اس نشیب و فراز میں نہ نشیب کو مستقل حیثیت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی فراز کو کسی دائمی سرفرازی سے ہمکنار ہونے کا موقع ملتا ہے۔تعطل(کے طویل دورانیے آتے ہیں، پھرایک نقطۂ اشتعال نظر آتا ہے، دونوں ملکوں، پاکستان اور ہندوستان کی فوجیں آمنے سامنے آجاتی ہیں، جنوبی ایشیا پر ایک نئی جنگ کے سائے منڈلانے لگتے ہیں، کبھی کبھی یہ جنگ حقیقت کا روپ بھی دھار لیتی ہے، دونوں ملکوں کے زرائع ابلاغ کی رگوں میں تازہ لہو دوڑ جاتا ہے، سفارتی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں، دوسرے ملکوں کے دارالحکومت جنوبی ایشیا اور بالخصوص کشمیر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیںلیکن اس سارے ابال کے بعد پھر ایک تعطل آجاتا ہے۔

اپریل -مئی2025میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ لڑائی کے بعد پھر سوال پیدا ہوا کہ یہ سرگرمی مسئلۂ کشمیر کوکسی بڑے اور مستقل حل کی طرف لے کر جائے گی یاحالات ایک مرتبہ پھر اسی مقام پر آجائیں گے جہاں 22اپریل 2025 سے پہلے تھے؟ اس تاریخ کو مقبوضہ کشمیر میںپہلگام کے مقام پر ایک دہشت گرد حملے میں کم از کم 26سیاح ہلاک ہوئے جو ایک انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک واقعہ تھا۔

اس واقعے پر کوئی تحقیق کرنے اور اس میں ملوث دہشت گردوں تک پہنچنے کے بجائے ہندوستان نے پاکستان پر الزام لگانے میں دیر نہیں لگائی اور اس کو بنیاد بناکر پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا جس کو’ آپریشن سندور ‘کا نام دیا گیا،جس کے تحت پنجاب اور آزاد کشمیر میںمختلف مقامات پر حملے کرکے کم از کم 31افراد کو شہید کردیا گیا۔

یہاں سے اُن دو طرفہ کاروائیوں کا آغاز ہوا جو بالآخر ایک چھوٹی سطح کی جنگ پر منتج ہوئیں۔10مئی کوامریکہ کی مداخلت سے جنگ بندی عمل میں آئی۔اس کے ساتھ ہی جنگ کے حوالے سے اور اس کے دوررس نتائج کے بارے میں لامتناہی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کیا اب کسی حل کی طرف بڑھ پائے گا یا ایک مرتبہ پھر کسی سرد خانے کی نذر ہوجائے گا؟

کشمیر کا تنازعہ تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میںسب سے زیادہ طوالت حاصل کرنے والا اور مشکل ترین مسئلہ ثابت ہوا ہے۔مسئلۂ کشمیر کی یہ استعماری اساس تو ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن گذشتہ آٹھ عشروں میں یہ کن نشیب و فراز سے گزراہے، اس کا مختصر جائزہ بھی اس کی مستقل طور پر بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں اور اس کی راہ میں حائل دشواریوں کے ادراک کے لیے بہت ضروری ہے۔

3جون 1947کو جب وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کی تقسیم اور دو ڈومینین ریاستوں، پاکستان اور ہندوستان کے قیام کا اعلان کیا، اس وقت ہندوستان کی ساڑھے پانچ سوسے زیادہ نوابی ریاستوں (Princely States)کا فیصلہ ان ریاستوں پر چھوڑ دیا گیاتھا جو ان کو بعد ازاں اپنے محل وقوع اور اپنی آبادیوں کی نوعیت کے اعتبار سے کرنا تھا۔ کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق پر آمادہ نہیں تھے، بلکہ ان کا خیال تھا کہ کشمیر کو آزاد یا الگ ریاست کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

14 اور 15 اگست کو تقسیم ہند کے وقت کشمیر نے پاکستان کے ساتھ معاملات کو جوں کا توں رکھنے کا معاہدہ(standstill agreement)کیا۔ہندوستان نے ایسے کسی معاہدے کے لیے مزید وقت طلب کر لیا۔اس دوران کشمیر کے مختلف علاقوں میں مہاراجہ کے خلاف بغاوت بھی شروع ہو چکی تھی، ہندو مسلم فسادات بھی کشمیر تک پہنچ گئے تھے۔

25 اکتوبر 1947کو دہلی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سر براہی میں اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ مہاراجہ نے ہندوستان سے فوجی امداد طلب کی ہے۔ اجلاس میں ریاستوں سے متعلق سیکرٹری دی پی مینن کو کشمیر بھیجا گیا تاکہ وہاں کی صورت حال دیکھ کر آئیں۔مینن نے اگلے دن واپس آکر رپورٹ دی کہ مہاراجہ غیر مشروط طور پر ہندوستان سے الحاق پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ان کی صرف ایک شرط ہے کہ بعد ازاں اس الحاق کی عوام سے منظوری لی جائے۔ 26،27 اکتوبر کو مہاراجہ نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے اور ہندوستان کی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں۔ 

بعض تاریخ نویسوں نے اس وقت کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات کا جائزہ لے کر یہ بات لکھی ہے کہ الحاق کی دستاویز پردستخط ہونے سے قبل ہی ہندوستان کی فو جیں کشمیر میں داخل ہو چکی تھیں۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا دروازہ کٹھکھٹانا ضروری ہو چکا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کا خیال تھا کہ اقوام متحدہ میں اس مسئلے کوئی حل نکل آئے گا۔ ماؤنٹ بیٹن ہی کے ایماء پر نہرومسئلۂ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے جانے پر رضامند ہوئے۔31 دسمبر کو ہندوستان نے با ضابطہ طور پر سیکیورٹی کونسل میں یہ مسئلہ بھجوایا۔

یکم جنوری 1948 کو سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر ابتدائی غور و خوض کیا۔ 15 جنوری کوہندوستان اور پاکستان نے کونسل میں اپنا موقف پیش کیا۔ 17جنوری کو سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد نمبر 38 منظور کی جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں کو حالات کو مزیدبگاڑنے سے بچانے کے لیے کہا گیا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی کہ اگر حالات میں کوئی بھی بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس کی رپورٹ سلامتی کونسل کو دی جائے۔ 

20 جنوری کو سلامتی کونسل نے ایک اور قرار داد( قرار داد نمبر 39) منظور کی جس کے تحت مسئلہ کشمیر کا جائزہ لینے کے لیے ایک تین رکنی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس کا نام یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان (UNCIP) رکھا گیا۔ 5جنوری 1949کو UNCIP نے اعلان کیا کہ جموں اور کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ ایک آزاد اور غیر جا نبدار استصواب رائے (plebiscite) کے ذریعے کیا جائیگا۔

1950 کے عشرے میں مسئلہ کشمیر ایک طرف اقوام متحدہ کی راہداریوں میں بھٹکتا رہا، جبکہ دوسری طرف خود اس خطے میںہندوستان کی وہ پالیسیاں ایک بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آگے بڑھتی رہیں جن کا مقصد تدریج کے ساتھ کشمیر پر اپنی عملداری کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا تھا۔

1951 کے ستمبر اور اکتوبر میں مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے انتخا بات ہوئے ۔ ہندوستان نے اس انتخاب کو استصواب رائے کے متبادل کے طور پر پیش کیا۔ تب سے اب تک ہندوستان ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات یہ بتاتے ہیں کہ وہاں کے لوگ اب مزید کسی استصواب رائے کے حق میں نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ نے ہندوستان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ اس نے اپنی قرارداد نمبر 91 میں واضح کر دیا کہ اس طرح کے انتخابات استصواب رائے کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔

1950کے عشرے کے اوا خراور 1960 کے عشرے میں مسئلہ کشمیر میں مزید جہتوں کا اضافہ ہوا۔ 1949 میں چین اور ہندوستان کے اختلافات ابھرے۔ مارچ 1963 میں چین اورپا کستان کے درمیان شمالی علاقہ جات اور سنکیانگ صوبے کے حوالے سے سرحد ی معاہدہ ہوا۔ اسی زمانے میں 1963 اور 1964 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی سیاست کارجحان پروان چڑھنا شروع ہوا۔ حضرت بل کی درگاہ سے مقدس موئے مبارک کی گمشدگی پر عوامی احتجاج شروع ہوا۔ موئے مبارک تو کچھ دنوں بعد مل گیا مگر احتجاج کی آگ بھڑک چکی تھی۔

ستمبر 1965 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوسری جنگ ہوئی جس کی بنیاد بھی مسئلہ کشمیر ہی بنا۔ ہندوستان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سادہ لباس میں اپنے فوجیوں اور قبائلیوں کو اس کے زیر کنٹرول کشمیر میں داخل کیا ہے جس کا مقصداس کی توسیع پسندی ہے جو ہندوستان کے لیے کسی طور قابل قبول نہیں ہوگی۔ 

ہندوستان نے کشمیر میں خود پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سرحدوں پر حملہ کیا اور یوں وہ سترہ روزہ جنگ شروع ہوئی جس نے دونوں ملکوں کو شدید انسانی اور مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ سیکیورٹی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد کے ذریعے محاذ جنگ سرد پڑا اور پھر سوویت یونین کی مداخلت سے دونوں ملک معاہدہ ٔتاشقند پر آمادہ ہوئے۔ 

اسی زمانے میںکشمیر میں قومی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ امان اللہ خان اور مقبول بٹ نے آزاد کشمیر میں نیشنل لبریشن فرنٹ قائم کیا۔ 1971 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تیسری جنگ مشرقی پاکستان کے موضوع پر ہوئی۔ اس موقعے پر بھی کشمیر کا محاذ گرم رہا۔ بعد ازاں جولائی 1972 میں معاہدہ ٔ شملہ کے تحت یہ طے پایا کہ مستقبل میں مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیرکا مسئلہ قراردادوں سے قرار دادوں تک اور جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے اجلا سوں سے اجلاسوںتک سفر کر تا رہا مگر اس کے حل کی طرف کوئی بامعنی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ البتہ 1980 اور اس کے بعد کے عشروں میں کشمیر میں داخلی طور پر نت نئے مسائل جنم لیتے رہے اور مختلف عسکری تنظیمیںاس میں ملوث ہوتی چلی گئیں ۔1999 میں پاکستان اور ہندوستان کارگل میں آمنے سامنے آ گئے۔ 

یہ نیم جنگ بھی امریکہ کی مداخلت پر بند ہوئی۔ اس دوران پاکستان اورہندوستان میں اعلیٰ سطح پر سلسلۂ جنبانی بھی رہا۔ 2001 میں جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی میں مذاکرات ہوئے۔ 2004 میں صدر مشرف کی وزیرا عظم من موہن سنگھ سے نیو یارک میں ملاقات ہوئی۔ ان چند واقعات سے قطع نظر دونوں ملکوں کے درمیان عمومی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔ 

ادھر پچھلے چند برسوں سے اس کشیدگی میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ 2019 میں جب ہندوستان نے آرٹیکل 370 کو اپنے آئین سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ واضح پیغام تھا کہ اب ہندوستان کے پیش نظر کشمیر کی کوئی خصوصی حیثیت نہیں ہے بلکہ وہ عملاً ہندوستان کے ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس اقدام کے بعد ہندوستان نے بڑی تیز رفتاری کے ساتھ اپنے زیر کنٹرول کشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری کروائی۔ وہاں ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے لوگوں کے لیے جائیدادیں بنانے پرجو پابندی تھی وہ اٹھالی گئی اور یوں کشمیر کی داخلی آبادی کا منظر نامہ تیزی سے بدلنا شروع ہوا۔

اس عمومی تاریخی پس منظر میں پہلگام کا واقعہ ظہور پذیر ہوا جس نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کو ایک جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ یہ لڑائی باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کرنے سے ذرا قبل بند کر دی گئی مگر اس نیم جنگ نے دونوں ملکوں کے تعلقات اور مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی میں کہیں زیادہ اضافہ کر دیا ۔یہ جنگ جو 22 اپریل کو پہلگام کے واقعے سے شروع ہوکر10مئی کو جنگ بندی کے باقاعدہ اعلان پر بند ہوئی، کئی اہم حقائق کے منظر عام پر آنے کا سبب بنی ہے۔

پہلگام کے اس واقعے کے فوراً بعد ہندوستان نے نہ صرف پاکستان پر اس کا الزام لگایا بلکہ شدید ردعمل کا مظاہرہ بھی کیا۔ ہندوستان نے سند ھ طاس کا معاہد ہ یکطرفہ طور پر معطل کردیا ۔ واہگہ اٹاری سرحد بند کردی گئی۔ہندوستان میں موجود پاکستانیوں کو فوری طورپر ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا ۔ پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات عسکری مشیرناپسندیدہ شخصیات قراردے دیے گئے ۔سفارتی عملے کی تعدا د گھٹا دی گئی۔ 

سارک کے ویزے پر بھی ہندوستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ یہ بڑے غیر معمولی اقدامات تھے، خاص طور سے سند ھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بہت دوررس نتائج کی حامل ہوسکتی تھی۔ ہندوستان کے ان اقدامات پر پاکستان کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دریائی پانی کوروکنے کا عمل اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ 

کمیٹی نے ہندوستان کے جہازوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کو بند کردیا ۔واہگہ بارڈر کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ہندوستان کے ساتھ تجارت پر بھی پابندی عائد کردی گئی، سکھ زائرین کے سوا ہندوستانیوں کے پاکستان کے سفر پر پابندی عائد کردی گئی ۔یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اگر ہندوستان نے تصادم کا راستہ اختیار کیا تو پاکستان اس کے ساتھ اپنے تمام معاہدات کو معطل کردے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹر ویو میں واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اہم اعلان کیا کہ پاکستان اپنا ایٹمی اسلحہ صرف اس صورت میں استعمال کرے گا جب اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا۔

پاکستان کے فوجی ترجمان نے بھی واضح کیا کہ خود ہندوستان نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک بچھا رکھا ہے، جبکہ اب تک پاکستان پر لگائے جانے والے الزام کی کوئی شہادت ہندوستان پیش نہیں کرسکا ۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے ہندوستان کے کسی امکانی حملے کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کا اعلان کیا گیا۔

فوج کے ترجمان نے 30اپریل کو اعلان کیا کہ ہندوستان نے اگر فوجی جارحیت کا ارتکاب کیا تو جنگ کانقشہ پاکستان خود طے کرے گا۔پاکستان نے کشمیر میں دفاعی تیاریاں تیز کردیں۔ وادیٔ نیلم میں سیاحوں کی آمدوفت روک دی گئی ۔دینی مدارس کو دس دن کے لیے بند کردیا گیا۔ دوسری طرف سفارتی سطح پر تیز تر اقدامات اُٹھائے جانے لگے۔ وزیرخارجہ اسحا ق ڈارنے غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتوں کے ذریعے پاکستانی مؤقف مضبوط طریقے سے پیش کیا۔

دوسرے ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں بھی تیزی آئی ، خاص طور سے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ پہلگام کے واقعے کے دس دن کے اندر اندر دنیا کے اہم ترین دارالحکومت جنوبی ایشیا کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں شروع کرچکے تھے ۔ اس موقع پر پاکستان نے اپنے ابدالی میزائل کو داغ کر اپنی عسکر ی تیاری کا پیغام دیا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دروازے کھٹکھٹائے ۔

7مئی تک صورتحال ایک کم تر درجے کی جنگ میں ڈھل چکی تھی۔ ہندوستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ۔ پاکستان کے فوجی ترجمان کی رو سے 7مئی کو ہندوستان کے 5جیٹ جہاز جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھے، گرادیے گئے۔

رافیل جہازوں کا گرنا بہت بڑا واقعہ تھا کیونکہ ان کی شہرت یہ تھی کہ وہ اب تک کہیں بھی نشانہ نہیں بنے تھے ۔پاکستان کی اس کارکردگی کو روایتی جنگ میں اس کی برتری کا مظہر قراردیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ اب تک جو کار روائی ہوئی ہے وہ پاکستان نے اپنی مدافعت میں کی ہے جبکہ ہندوستانی جارحیت کا بدلہ لینے کا حق ابھی پاکستان کے پاس محفوظ ہے ۔

8اور 9مئی کو ڈرونز اور میزائل سرحدی علاقوں سمیت کئی شہروں کی فضامیں چھا چکے تھے ۔ 8مئی کو پاکستان نے 29 اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ۔ ہندوستان نے کراچی ، لاہور ، راوالپنڈی، گجرانوالہ ، اٹک، چکوال اور بہاولپور میں ڈرون حملے کیے تھے ۔ 9اور 10مئی کی درمیانی رات کو پاکستان کی طرف سے بھرپور جوابی کار روائی کی گئی جس کے نتیجے میں یہ امکان زیر ِ بحث آنے لگا کہ کسی بھی وقت لڑائی روایتی جنگ کے دائرے سے باہر پھیل سکتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے جو بھرپور حملہ ہوا اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طر ف سے مداخلت کا فیصلہ ہوا جنہوں نے دونوں ملکوں کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ 

گو کہ اس جنگ کے دوران دونوں فریقین اپنا پلڑ ا بھاری ہونے کا دعویٰ کرتے رہے لیکن بعد میں لیے گئے جائزوںنے اور عالمی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کی برتری کا فیصلہ سنایا۔ آخری معرکے میں پاکستان نے بھارت کی فضائی تنصیبات ، براہموس اسٹوریج سائٹ اور S400نظام کی تباہی کا اعلان کیا تھا۔ 

بھارت پر پاکستان کے آخری حملے کی کامیابی کا سبب میزائلوں کی وہ بارش تھی جن کے ذریعے آدم پور، اودھم پور، بھٹنڈہ، اکھنور اور برنالہ کی ائر بیسز تباہ کردی گئی تھیں ۔کئی مقامات پر ہندوستان کا دفاعی نظام تباہ کردیا گیا تھا۔پاکستانی حملوں کی کامیابی کا ایک سبب بھارتی فوجوں کے سیٹلائٹ نظام کے جام کردیے جانے کو قرار دیا گیا۔

اپریل کے آخری اور مئی کے پہلے عشروں کی یہ بیس روزہ جنگ بازی جس سے بظاہر آخری قہقہہ پاکستان کے حصے میں آیا، جنوبی ایشیا کی صورتحال اور اس جنگ کے حوالے سے تین اہم موضوعات کو زیربحث لانے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ اس جنگ میں ایک طرح سے تین تھیٹرز بیک وقت سرگرم رہے ۔پہلا تو جنگ کا اپنا تھیٹر تھا جس میں پاکستانی فضائیہ نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائبر و سائل کے استعمال کی مہارت کااور دونوں ملکوں نے اپنی اپنی اسٹرٹیجی کا مظاہرہ کیا۔

دوسرا تھیٹر ذرائع ابلاغ کے حوالے سے سرگرم رہا۔ یہاں دونوں طرف کے ذرائع ابلاغ نے جنگ کی پیشکش میں معروضیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے جنگ کی رپورٹنگ کی لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ خاص طورسے ان کے پرنٹ اور سوشل میڈیا نے جھوٹ اور مبالغہ آرائی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ ان کی رپورٹنگ، رپورٹنگ سے زیادہ لطیفوں اور خود کو دھوکہ دینے کی حیثیت اختیار کرگئی۔ 

جنگ کا تیسرا تھیٹروہ تھا جہاں جدید ٹیکنالوجی اور اسلحے کا مظاہرہ کیا گیا۔ایک طرف ہندوستان کے زیراستعمال امریکی اور فرانسیسی طیارے ، اور اسرائیلی میزائل اور ڈرونز تھے تو پاکستان نے اپنے تیارکردہ اسلحے کے علاوہ چین کا جدید اسلحہ اور سائبر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔فرانس کے رافیل طیاروں کا تباہ ہوجانا اس جنگ کا اہم واقعہ تھا جس کے نیتجے میں رافیل بنانے والی کمپنی کے شیئرگر گئے اور چینی اسلحے کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اب دنیا کی سب ہی جنگوں میں وارانڈسٹری کا کاروبار ایک ناگزیر حوالہ بنتے ہیں۔موجودہ جنگ کے بعد بھی اس انڈسٹری کا کاروبار زیرِ بحث آتا رہے گا۔

سوال یہ ہے کہ پہلگام سے شروع ہونے والے ہندوستان کے ’آپریشن سیندور ‘ اور پاکستان کے ’آپریشن بُنیان مرصوص‘ کے بعد اب مسئلہ کشمیر کہاں کھڑا ہے۔ صورتحال میں ایک نوعی تبدیلی یہ آئی ہے کہ یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوگیا ہے۔ 

عالمی سطح پر جو ایک ماحول بن چکا ہے اس میں کچھ نہ کچھ گنجائش اس چیز کی ضرور موجود رہے گی کہ چونکہ خطے کا امن کئی عالمی طاقتوں اور علاقے کے ملکوں کے نقطۂ نظر سے اہمیت کا حامل ہے لہٰذا اس کے لیے سفارتی کوششوں کا امکان بھی موجود ہے۔ 

یہ پاکستان کے پالیسی سازوں کا بہت بڑاامتحان ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے دیرینہ مؤقف یا اس کو قابل ِ عمل بنانے کے لیے اس میں کی گئی ترمیم کو بروئے کار لانے کے لیے نئے اُبھر آنے والے بین الاقوامی سفارتی ماحول سے کس حد تک فائدہ اُٹھا پاتے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید