• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئینی عدالت نے 100 سال پرانا زمین کا انتقال ریکارڈ درج کرنے کی درخواست مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے 100 سال سے زائد پرانے زمین کے انتقال کو ریکارڈ میں درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے 100 سال بعد پہلی بار 2020ء میں ان انتقالات کو سرکاری ریکارڈ میں درج کرانے کے لیے رجوع کیا۔

فیصلے کے مطابق طویل مدت گزرنے کے بعد اب ریکارڈ میں تبدیلی کو محض معمولی غلطی قرار دے کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، ایک صدی کے دوران اس زمین کے کئی نئے مالک بن چکے ہوں گے، جن کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ریونیو افسر کا کام صرف ریکارڈ رکھنا ہے، وہ زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

فیصلے کے مطابق پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ریونیو حکام وہی غلطی درست کر سکتے ہیں، جس پر کوئی بڑا تنازع نہ ہو، زمین کی اصل ملکیت کا فیصلہ کرنا صرف شواہد ریکارڈ کرکے دیوانی عدالت کا کام ہے۔

درخواست گزاروں کے بزرگ اپنی زندگی میں یا بعد میں 2020ء تک خاموش کیوں رہے؟ جب معاملہ پیچیدہ ہو جائے اور شواہد کی ضرورت ہو تو ہائیکورٹ رٹ پٹیشن میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی، یہ ٹرائل کورٹ کا کام ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

کیس 1907 اور 1913 کے ان زمین کے انتقالات سے متعلق تھا، جن پر اس وقت عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا، درخواست گزاروں کے آباؤ اجداد کے حق میں یہ انتقالات ایک صدی قبل سول کورٹ کی ڈگری پر منظور ہوئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید